بھارت کا افغانستان ! ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

"آپ یہ بات کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہمارے اور آپ کے ملک کے مابین تعلقات کی ایک خصوصی نوعیت ہے جس کا خمیر سالہا سال پر محیط ثقافتی رشتوں سے گندھا ہے۔ ثقافتی ہی نہیں، ہمارے درمیان تو مذہبی تعلق کی بھی ایک طویل تاریخ ہے ۔ ہمارے لوگ ایک دوسرے کے ہاں بلا روک ٹوک ، ویزہ و پاسپورٹ کے بغیر آتے جاتے رہے۔ آپ کے کتنے ہی لوگ روزگار کے سلسلہ میں یہاں مقیم ہیں ، انہوں نے یہاں زمین جائداد حاصل کر رکھی ہے اور خوش حال زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔ نہ ان کو کسی ورک پرمٹ کی حاجت ہے اورنہ ہی ان سے دیگر دستاویزات طلب کی جاتی ہیں۔

پھر یہ بھی دیکھیے کہ آپ کی تجارت کے لیے ہم نے ہمیشہ اپنی زمین بطور راہداری فراہم کی تاکہ سمندر تک آپ کا رابطہ استوار ہو سکے۔ آپ کے ہاں ادویات ، خوراک کا ایک بڑا حصہ ہمارے ملک سے آتا ہے ۔ آپ کے طلباء ہمارے تعلیم اداروں میں پڑھتے رہے اور ہم نے بھی انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کیں تاکہ وہ اپنے ملک واپس جا کر معاشرے کے مفید رکن بن سکیں، اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنائیں اور آپ کا ملک خوشحال ہو سکے۔

کیا ہم نے آپ کی ہمیشہ مدد نہیں کی ؟ آپ کے ملک میں استحکام کے لیے کوششیں نہیں کیں ؟ جسے آپ "مداخلت" کا نام دیتے ہیں کیا وہ محض اس لیے نہیں تھا کہ کسی طور آپ کے ہاں ایسا سیاسی بندوبست تشکیل دیا جائے جو آپ کے سماج کو بکھرنے سے بچا سکے۔

ہم نے ایسا کیا کیا ، یا کیا نہیں کر پائے جو آج آپ ہمارے بجائے ہمارے علاقائی حریفوں کی جانب دیکھنے پر یکسو ہیں ؟ آپ کے ہاں آج نیشنلزم کا واحد مطلب ہماری ہجو ہے ۔۔۔۔ اور یہ کہ ہر سطح پر ہمارے مخالف سوچ کو فروغ دیا جائے۔آج آپ ہمارے بجائے تجارت و رسد کے لیے دیگر آپشنز پر کام کر رہے ہیں۔ سمندر تک رسائی کے لیے متبادل راستے بروئے کار لانے کے عمل میں مصروف ہیں ؟ کیا وہ تعلق جسے ہم دائمی سمجھتے تھے ٹُوٹنے کو ہے ؟ کیا وہ سب اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے ؟؟؟ "

مندرجہ بالا سطور پڑھ کر جو پہلا خیال آپ کے ذہن میں آیا ہو گا یہ قصہ ان دو ممالک کے متعلق نہیں ہے۔ یہ پاکستان اور افغانستان کی بات نہیں ہے۔ یہ سب وہ نکات ہیں جو کم و بیش اسی لب و لہجہ میں بھارت کے ایک اخبار میں بھارت و نیپال کے موجودہ تعلقات کے حوالہ سے بیان کیے گئے ہیں۔ نیپال اور بھارت کی باہمی "دوستی" کی ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تعلقات ایسے تھے کہ بعض حلقے تو نیپال کو بھارت کی "انیکسی" کہا کرتے تھے۔

نیپال میں اس وقت کھدگہ پرساد شرما وزیر اعظم کے عہدہ پر متمکن ہیں۔ وہ نیپال کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ ہیں اور بطور وزیر اعظم یہ ان کی دوسری ٹرم ہے۔ اس سے قبل وہ 2015/16 میں بھی نیپال کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہم جنس پرستی ٹھیک ہے؟

نیپال اور بھارت کے تعلقات اور ان میں حالیہ سالوں میں بڑھتی سردمہری میں ہمارے لیے بہت سے اسباق پوشیدہ ہیں۔ چانکیہ کے اصول ہائے سفارت و حکمرانی میں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ ہمسائے کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کا کچھ خاص نتیجہ نہیں نکلتا ، بہتر ہے کہ ہمسایہ کے ہمسایہ کے ساتھ تعلقات کو اچھا رکھا جائے۔ بہت پتے کی کہی چانکیہ جی نے۔ اس حکمت عملی میں دو بڑے رموز کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ جس کے ساتھ دیوار یا سرحد سانجھی ہوتی ہے اس کے ساتھ کچھ نا کچھ مسائل بھی چلتے رہتے ہیں۔ سرحدی حد بندی کا معاملہ ہو یا پھر لوگوں اور سامان کی آمد و رفت سے منسلک مسائل۔ سرحد پار سے جرائم پیشہ یا باغی گروہوں کی آمد کی شکایت ہو یا ان کی پشت پناہی کا گلہ، معدنی و قدرتی وسائل کی تقسیم کا قضیہ ہو یا پھر سیاسی و فوجی چپقلش ۔۔۔ کوئی نا کوئی آویزش ہر وقت جاری رہتی ہے۔ جبکہ ہمسایہ کے ہمسایہ سے دور کے ڈھول سہانے کے مصداق میٹھا میٹھا ہپ ہپ کے امکانات بہت وسیع رہتے ہیں کیونکہ باہم تنازعات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ یوں ایک طویل المعیاد پارٹنرشپ کو نمو دینا نہایت آسان ہو جاتا ہے ۔ نیز یہ کہ اس پالیسی کے طفیل ہمسایہ پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے کیونکہ اب اس کے دونوں جانب غیر دوستانہ ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

اب تک کی گفتگو سے ان دوستوں کو بین الاقوامی تعلقات کی اس جہت سے شناسائی ہو جانا چاہیے کہ افغانستان اور پاکستان کے مابین تعلقات کا اتار چڑھاؤ نہ تو اس خطہ تک محدود ہے اور نہ ہی یہ صرف پاکستان یا افغانستان کا قصور ہے۔ نیپال اور بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے، اگر نیپال اور بھارت میں مسائل ہو سکتے ہیں تو پھر کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔

یہاں اس بات پر غور کرنا زیادہ اہم ہے کہ حریف ممالک کی جانب سے کیسے اس طرح کی صورتحال کو سفارتی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نیپال کی یہ روایت رہی ہے کہ وزیر اعظم اپنا پہلا سرکاری دورہ بھارت کا کرتا ہے اور بھارتی وزیراعظم سے ملاقات اس دورہ کا حاصل ہوتی ہے۔ اس مرتبہ بھارت انتظار ہی کرتا رہ گیا اور نیپالی وزیراعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو کھٹمنڈو کے دورہ کی دعوت دے ڈالی جو فوری طور پر قبول کر لی گئی اور اس دورہ کے دوران دیگر مفقاہمتی یاد داشتوں کے علاوہ "دفاعی تعاون" کی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔ پاکستان اور نیپال کی جانب سے اس سے بڑا علامتی پیغام کیا ہو سکتا تھا بھارت کے لیے۔ اس سے قبل بھارت بھی افغانستان کے حوالہ سے پاکستان کے ساتھ یہی کچھ کرتا چلا آ رہا تھا۔ ظاہر ہے چانکیہ کا لکھا صرف بھارت ہی کے لیے تو نہیں، کوئی اور بھی تو اس پر عمل کر سکتا ہے نا۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ، بہت خوب - آصف محمود

بہرحال، اس تناظر میں دو مزید اسباق بھی پوشیدہ ہیں جن سے پاکستان کو پاک افغان تناظر میں بہت کچھ سیکھنا ہو گا۔ نیپال کی جانب سے خارجہ پالسی میں اس نسبتاً جارحانہ تبدیلی کے پیچھے بڑا دخل بھارت کی جانب سے مسلط کردہ اس معاشی ناکہ بندی کا رہا جس کا مقصد نیپال کے نئے آئین میں بھارت کی مداخلت کو محدود تر کردینے کی تجویز سے تھا۔ اس ناکہ بندی نے نیپالی عوام کو اپنی بقا کے حوالہ سے زیادہ حساس بنا دیا اور اس کے ردعمل میں وزیراعظم مسٹر کھدگہ پرساد نے چین سے زیادہ قریبی معاشی تعلقات استوار کرنے کی جانب پیشرفت شروع کی۔ جب بھی آپ کسی ملک کی معاشی ناکہ بندی کریں گے یا اسے دباؤ ڈالنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کریں گے تو آج کی پرپیچ تزویراتی دنیا میں یہ امر آپ کے خلاف جانے کے امکانات زیادہ قوی ہو جاتے ہیں۔ آپ پیچھے ہٹیں گے تو آپ کی جگہ آپ کا حریف پُر کرنے کو بے تاب ہو گا۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ نیپال میں حکومت اور آئین سازی کے وقت بھارت نے آبادی کے ایک حصہ کے مطالبات کے پلڑے میں اپنا سارا وزن ڈال دیا۔ لیکن نتیجہ یہ ہؤا کہ وہ برسر اقتدار بھی نہ آئے اور نہ ہی پھر ان کو وہ مراعات مل سکیں جن کے وہ طلبگار تھے ، تاہم برسر اقتدار پارٹی نے اسے بھارت کا غیر دوستانہ فعل جانا اور پھر نیپال اور بھارت کے مابین تعلقات گہرے دوستانہ سے گھٹ کر محض واجبی سے رہ گئے۔

پاکستان کے لیے افغانستان بہت اہم ہمسایہ ہے۔ چند ہفتے قبل افغان صدر اشرف غنی نے کابل میں ہوئی امن کانفرنس کے دوران مذاکرات اور بحالی امن کے اقدامات کے حوالہ سے پاکسان کو جو دعوت دی ہے پاکستان کو اس کا گرم جوش جواب دینا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ سب کچھ اشرف غنہ صاحب کے ہاتھ میں نہیں ۔۔۔ لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ سفارتکاری کی دنیا میں تاثر اور علامت اسی قدر اہم ہیں جس قدر عملی اقدامات۔

ہمیں اس ضمن میں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہیں دینا چاہیے کہ امن کے سفر میں پاکستان نے ہماری دعوت پر لبیک نہیں کہا۔ افغانستان کے ساتھ مسائل ختم نہیں ہوں گے۔ اگر بھارت کے نیپال جیسے ہمسایہ ملک سے مسائل ہو سکتے ہیں تو افغانستان تو قریب نصف صدی سے میدان جنگ بنا ہؤا ہے۔ سوپر پاورز کی باہمی کشمکش کا فوکس رہا ہے ۔ وہاں سے فوری طور ٹھنڈی ہواؤں کا آنا قرین قیاس نہیں۔

ہمیں افغانستان کے ساتھ معاملات کو بغیر تلخی و دھمکی مینج کرنا سیکھنا ہو گا تاکہ باہمی اعتماد کو مضبوط ہونے کا موقع مل سکے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو چاہ بہار کی بندرگاہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہمارے حریف کوئی لمحہ ضائع نہیں کریں گے۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.