عمران خان ایسا بھی لاڈلا نہیں - اسماعیل احمد

سلیم صافی نے گزشتہ روز " لاڈلوں کا لاڈلہ" کے عنوان سے ایک کالم لکھا جس میں انہوں نے عمران خان کی زندگی کی جزئیات نکال کر یہ ثابت کیا کہ عمران خان کلی طور پر ایک غلط، بے ایمان، جھوٹا، خائن اور پاکستان کی تاریخ کا سب سے برا انسان ہے۔ اتنی قطعیت کے ساتھ عمران خان یا کسی اور" سچ بولنے "اور " سچ لکھنے" والے صحافی نے نواز شریف اور زرداری کو برا ثابت نہیں کیا ہوگا جتنا ایک کالم میں سلیم صافی نے عمران خان کو کر دیا، یقیناً ان کا تجربہ اورمطالعہ بہت وسیع ہے جس کی بنیاد پر یوں انہوں نے عمران خان کا تیا پانچہ کر کے رکھ دیا۔

کچھ باتیں تو پڑھ کر ہی عجیب سا لگا مثلاً " انہوں نےبڑی ہوشیاری کے ساتھ پوری ٹیم کی جیت کو اپنے نام کردیا۔ پھر بڑی ہوشیاری کے ساتھ ورلڈ کپ کی جیت کو اسپتال بنانے کیلیے اور پھر اسپتال کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ سیاست کے لیے استعمال کیا۔ جب سے سیاست میں آئے ہیں، وزیراعظم بننے کی خواہش میں سہاروں کی تلاش میں ہیں۔ جنرل حمید گل کی انگلی پکڑ کر سیاست میں آئے۔ "عمران خان نے ورلڈ کپ جیتنے، ہسپتال بنانےاور سیاست میں آنے کا فیصلہ کن نیتوں کے ساتھ کیا اس کا فیصلہ تو رب کریم ہی کر سکتے ہیں اور ان کے ہی یہ شایاں ہے کہ وہ لوگوں کی نیتوں کا فیصلہ کریں۔ باقی عمران خان کرکٹ کی تاریخ کے ایک غیر معمولی کپتان تھے۔ یہ بات پاکستان ہی نہیں دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑی مانتے ہیں۔ وہ جنرل حمید گل کی انگلی پکڑ کے سیاست میں آئے یا جنرل پاشا کی انگلیوں نے انہیں چلنا سکھایا۔ اول تو یہ بات بھی حقیقت سے زیادہ ایک مفروضہ ہے مگر اس بات کا اصل مزہ بھی تب تھا کہ اسٹیبلیشمنٹ کی مہربانیوں سے بھٹو اور نواز شریف کی طرح دس پندرہ سال انہیں اقتدار کے نشے کا عادی بنایا جاتا پھر وہ بھی وزارت عظمیٰ کو اپنا جدی پشتی حق سمجھتے اور بغیر اقتدار یوں تلملائے رہتے جیسے پانی کے بغیر مچھلی مگر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان انگلیوں کا کیا خاک فائدہ ہوا کہ عمران خان سترہ برس تک تشنہ لب دشت ِ سیاست میں صحرا نوردی کرتا رہا۔ اکبر ایس بابر ہوں یا حنیف عباسی، نواز شریف ہوں یا آصف زرداری میری ناقص معلومات کے مطابق جس کا جی چاہا اس نے عمران خان کی پارٹی ہو یا ذات، اسے کٹہرے میں ضرور کھڑا کیا اور یہ بات سارا جگ جانتا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے ایک کیس میں انہیں صادق اور امین ڈکلئیر کیا ہے پر اس وقت کیا ہو سکتا ہے جب یہ کہا جا رہا ہو کہ عدالت کے ججوں کو تو زبان ہی عمران خان کی لگی ہوئی ہے۔ ویسے عدالتوں کو چھوڑیے اس بیس کروڑ رعایا کو بھی کہیے کہ کبھی نواز شریف، آصف زرداری اور عمران خان میں سے کرپٹ ترین انسان کو تلاش کیا جائے نظرِ انتخاب بار بار اول الذکر اصحاب کی طرف ہی پلٹے گی۔ عمران خان کی ذاتی زندگی چونکہ ضرورت سے زیادہ میڈیا کی توجہ کے باعث پبلک پراپرٹی بنی ہوئی ہے سو ان کے بہنوں سے تعلقات ہوں، سابقہ بیویوں سے یا بچوں سے، خبروں کی زد میں رہتے ہیں لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ عمران خان کے اپنے رشتہ داروں سے تعلقات اتنے ہی برے ہونگے جتنے نواز شریف، آصف زرادی بلکہ اس دنیا کے کسی بھی شخص کے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رشتوں کے مابین موافقت و اختلاف کا یہ سلسلہ ازل سے چلتا آیا، ابد تک چلتا رہے گا، اب ہر بندے کی ذاتی زندگی کا اتنا گہرا اور کڑا احتساب تو نہیں ہو سکتا کہ جی دیکھیں اسکی چچا زادبھائیوں کے ساتھ نہیں بنتی، بہن کے ساتھ فلاں بات پہ جھگڑا ہے یا اس نے بیوی کو طلاق دے دی تھی تو وہ بہت برا انسان ہے ان تینوں باتوں کے ہوتے ہوئے بھی کوئی شخص اچھا ہو سکتا ہے اور اس دنیا کے بہت سے انسان ان مسائل کے باوصف اچھے ہیں بھی۔لیکن عمران خان چونکہ جیو اور جیو والوں کو برا لگتا ہے سو اسے تو غوث، قطب یا ابدال ہونا چاہیے نا!

یہ بھی پڑھیں:   سول بالادستی کا جنازہ - ارشاد احمد عارف

ایک پیراگراف اس نکتے کے گرد بھی تھاکہ"کوئی ان کے سامنے چوں چرا بھی نہیں کرتا اور جمہوریت کے چیمپین بنے بیٹحے ہیں"۔ ابھی سال ڈیڑھ سال پہلے کا خواجہ آصف کا ایک کلپ یوٹیوب پہ دیکھا جس میں خواجہ آصف لیگی پارلمینٹیرینز کے جھرمٹ میں عمران خان کی اس بات پہ ٹھٹھہ بنا رہے تھے کہ عمران خان ایک روز قبل خورشید شاہ کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ جو شخص اصولوں کی خاطر اور کسی محفل میں دی گئی زبان کی لاج رکھنے کے لیے ان لوگوں کے پیچھے بھی کھڑا ہونا گوارا کر لے جنہیں وہ کرپٹ مانتا ہو تو ایسے شخص سے بڑھ کر کیا کوئی جمہوری ہوگا؟ وہ جو اپنے اور اپنے خاندان کے علادہ کسی اور کو پارٹی سربراہ بنانے پر بھی پورے ملک کا نظام لپیٹ دینے کے ارادے رکھتے ہوں یا وہ جو اپنے چینل پہ کوئی دوسرا موقف یا وضاحت سننے کے بھی روادار نہ ہوں۔ عمران خان کے پیٹ میں کسی کی کمائی کا نوالہ جاتا ہے؟ اس بات کا جائزہ بھی سیزنڈ صحافی اور دانشور نے ایک عوامی تاثر کی بنیاد پر لیا۔ یعنی بغیر کسی واقعاتی شہادت یاثبوت کے اتنا بڑا بہتان عمران خان پہ باندھ دیا گیا جس کا بوجھ اٹھانے کی ہمت سلیم صافی ہی کرسکتے ہیں کوئی اور نہیں۔

خیبر پختونخواہ کی پولیس باقی صوبوں سے بہتر ہے اس بات کا اعتراف جیو کے صحافی تو مرتے دم تک نہیں کریں گے مگر میرے لیے سلیم صافی، طلعت حسین اور شاہزیب خانزادہ سے زیادہ چئیر مین رویت ہلا ل کمیٹی کی بات اور شہاد ت کی اہمیت ہے۔" خیبرپختونخوا میں تبدیلی کا ایک جائزہ" کے عنوان سے اپنے ایک کالم میں مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے نہایت مدلل اور متوازن آرا سے بھرپور خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا جائزہ پیش کیا۔ بلین ٹری سونامی،سکولوں، ہسپتالوں کی حالتِ زار میں بہتری کے آثار مفتی صاحب کو تو نظر آگئے لیکن سلیم صافی کی نظروں سے شاید اوجھل رہے۔ عمران خان بھی لاڈلہ ہوگا مگر ہرگز ہرگز ان جیسا لاڈلہ نہیں جو کھیلن کو چاند مانگتے ہیں، جو الیکشن کے رات پولنگ ہو جانے کے بعد نہ جانے کسے آواز دے کر کہتے ہیں " سادہ نہیں دو تہائی اکثریت " چاہیے، جو اپنے دستر خوانوں پر " صحافیوں " اور " دانشوروں" کو بھی بٹھاتے ہیں اور " پی ٹی وی "، " پیمرا" اور وزارت ِ اطلاعات کی رکابیوں میں سے بوٹیاں نکال نکال کر اپنے چہیتے اخبار نویسوں اور ٹیلی وژن اینکروں کو پیش کرتے ہیں۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.