آن لائن نہیں، کاغذ قلم سے لکھنا - یوسف ثانی

آج کل تو سوشل میڈیا کا دور ہے۔ جسے دیکھو لکھاری بنا پھرتا ہے۔ جسے املا درست کرنے کے لیےتختی لکھنے کی مشق کی ضرورت ہے، وہ بلاگ لکھ رہا ہے۔ جسے پڑھنے کی توفیق اور فرصت نہیں ہے، وہ بھی لکھنے لگا ہے۔ نہ صرف لکھنے لگا ہے بلکہ آن لائن براہ راست لکھنے لگا ہے۔ زمانہ قبل از نیٹ سے پڑھنے لکھنے کے عادی خواتین و حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس وقت کیسے لکھا جاتا تھا۔ جب تک دستیاب ادب کی متعدد بار ورق گردانی نہ کرلی جائے اور اپنے عہد کے اخبارات و جرائد میں چھپنے والے مضامین سے اچھی طرح آشنائی نہ ہوجائے، خود لکھنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ پھر اچھے سے اچھا مصنف بھی جب تک اپنی تحریر کو کئی بار نہ لکھ لے، اپنے لکھے سے مطمئن ہی نہیں ہوتا تھا۔ ہر تحریر چھپنے سے قبل بھی متعدد چھلنیوں سے گذر کر منظر عام پر آیا کرتی تھی۔ پہلے مدیر صاحب ایک نظر دیکھ کر اس کے قابل اشاعت یا ناقابل اشاعت ہونے کا فیصلہ کرتے۔ بعد ازاں متعلقہ معاون مدیر جہاں کہیں ضروری خیال کرتا مضمون میں قطع برید کرتا چلا جاتا۔ مضامین کی کتابت کرنے والے سینئر کاتبین کا اپنا ادبی ذوق بھی اتنا عمدہ ہوتا تھا کہ وہ اپنی ذرا سی جنبش قلم سے مضامین میں چار چاند لگا دیا کرتے تھے۔ اور آخر میں پروف ریڈرصاحبان کی کی عرق ریزیاں، تحریرکو قواعد و املا کی خامیوں سے پاک کرنے کا سبب بنتی تھیں۔ آج کل کے سوشل میڈیا رائٹرز کو نہ یہ سہولیات دستیاب ہیں اور نہ وہ ان کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ وہ' ہمیں مکتب و ہمیں مُلا' کے مصداق خود ہی قلمکار، خود ہی مدیر، خود ہی کمپوزر اور خود ہی پبلشر بنے ہوئے ہیں۔

آئیے ہم آپ کو پاؤ صدی پیشتر زمانہ قبل از نیٹ میں لیے چلتے ہیں جب ہم جیسے گمنام قلمکار باقاعدہ کالم نگاری کا آغاز کیا کرتے تھے توپہلا کالم کیسے لکھتے تھے: قارئین کے پُرزور اصرار پر – زور کس پر ہوا "اصرار" پر اور اصرار کس بات پر ہے یہ ہم بتلانے سے سختی سے انکار کرتے ہیں۔ ہاں تو قارئین کے پُرزور اصرار پر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم بھی اب باقاعدگی سے کالم لکھا کریں گے۔ اور ہماری تحریروں کے جملہ حقوق ہمارے ہی نام محفوظ ہوں گے۔ اس میں ہمارے علاوہ کسی اور کو دخل اندازی کی اجازت صرف اسی حد تک ہو گی جس حد تک وہ ہمارے لیے سود مند ہو۔ مثلاً مدیر محترم کو ہمارے اس کالم سے استفادہ کرنے کی اجازت صرف اس لیے ہو گی کہ وہ اسے "او کے" کر سکیں۔ کاتب صاحب صرف اس بنیاد پر اسے ہاتھ لگا سکیں گے کہ ہاتھ لگائے بغیر وہ کتابت جو نہیں کر سکتے۔ پروف ریڈر صاحب اپنی عینک کی اوٹ سے محض اس بنا پر ہمارے کالم پر نظر عنایت فرمانے کے اہل ہوں گے کہ وہ اس کی نوک پلک درست یا غلط (حسب ضرورت و حسب منشاء) کر سکیں۔ اس کے علاوہ کسی اور کو ہمارے اس کالم میں دخل در معقولات و نامعقولات کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔ ہاں بلا اجازت وہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔

قارئین کرام! کالم لکھنے کی ذمہ داری تو ہمارے قلم ناتواں پر ہو گی، لیکن پڑھنا آپ کا کام ہو گا یعنی لکھے عیسیٰ پڑھے موسیٰ۔ ہاں! اس سلسلے میں نہ آپ کو مجھ سے پوچھنے کی اجازت ہو گی کہ میں یہ کالم کس سے لکھواتا ہوں، نہ ہی میں آپ سے یہ دریافت کرنے کی جرات کروں گا کہ آپ کالم کس سے پڑھوا کر سنتے ہیں۔ البتہ جب کبھی ہمارا دل لکھتے لکھتے اکتانے لگے (یا بالفاظ دیگر کالم لکھ کر دینے والا بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر کبھی کالم لکھ کر دینے سے انکار کر دے) اور آپ کالم دیکھ کر ہی بوریت محسوس کرنے لگیں (مطلب یہ کہ کالم پڑھ کر سنانے والا پڑھنے کے بعد بوجوہ سنانے سے انکار کر دے) تو ہم اپنے فرائض آپس میں بدل بھی سکتے ہیں۔ ہم بلا تکلف اسے اپنے نام نامی اسم گرامی کے ساتھ اس کالم میں شائع کر کے پڑھ یا پڑھوا لیا کریں گے۔

قبل اس کے کہ ہمارا کالم منظر عام آ کر دنیائے علم و ادب پر چھا جائے، ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ چند باتیں کالم سے متعلق، متعلقین سے کرتے چلیں۔ سب سے پہلے ہم کاتب محترم سے کچھ عرض کرنا چاہیں گے کہ ہم کراماً کاتبین کے بعد انہیں سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ انہی کی برادری کی شوخئی طبع کے باعث ہمارے ساتھ اکثر : ہم دعا (غیر منقوط) لکھتے رہے وہ دغا (منقوط) پڑھتے رہے کا سا معاملہ رہا ہے۔ کاتب محترم سے ہماری دو گزارشات ہیں اول تو یہ کہ وہ گھر سے دفترآتے ہی ہمارا کالم تحریر کرنے سے گریز فرمایا کریں۔ کیونکہ قلم قبیلہ والے بزرگوں سے سنا ہے کہ ایسا کرنے سے کالم پر درون خانہ کے سیاسی حالات کی چھاپ پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اور ہم سیاست سے ویسے ہی دور بھاگتے ہیں جیسے بی سیاست بی شرافت سے دور بھاگتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہمارے تحریر کردہ لفظوں بلکہ نقطوں تک کے ہیر پھیر سے گریز کیجیے گا۔ کیونکہ

نقطوں کے ہیر پھیر سے خدا بھی ہوتا ہے جدا

ہم تو کسی شمار قطار میں بھی نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی ذرا سہی بھول سے یوسف ثانی یوسف آنجہانی ہو جائے۔ نتیجتاً آپ کے پاس تعزیتی پیغامات کی بھرمار ہو جائے جسے کتابت کرتے کرتے خود آپ کے اپنے تئیں تعزیت کرنے کی نوبت آن پہنچے۔ علاوہ ازیں کالم کے لفظوں اور سطور کے درمیان ہمیشہ مناسب جگہ چھوڑا کیجئے گا کہ ہم' بین السطور 'بھی بہت کچھ کہنے کے عادی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم بین السطور کچھ کہنا چاہیں اور آپ سطور کے درمیان کچھ کہنے کے لیے جگہ ہی نہ چھوڑیں۔ پروف ریڈر صاحبان سے بس اتنا کہنا ہے کہ اس کالم کی کتابت کے لیے ہدایت نامہ کتابت کروا کر ہم کاتب محترم کے حوالے پہلے ہی کر چکے ہیں۔ آپ کتابت شدہ مواد کی اصلاح کی کوشش ہر گز نہ کیجئے گا۔ اگر کوئی جملہ یا لفظ مہمل نظر آئے یا آپ کی سمجھ میں نہ آئے تو سمجھ لیجئے گا کہ زیر نظر تحریر تجریدی ادب کا نمونہ ہے۔ عنقریب آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ہمارا ہر کالم تجریدی ادب کا شاہکار ہوتا ہے۔ اگر آپ کے وسائل اجازت دیں تو آپ اپنے خرچ پر ہمارے تجریدی کالم پر مذاکرہ یا سیمینار وغیرہ منعقد کروا کر علم و ادب کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنی خدمت بھی کر سکتے ہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ یہ پیش کش لامحدود مدت کے لیے اور سب کے لیے ہے۔ آخر میں ایک بات ہم آپ کو چپکے سے بتاتے چلیں کہ یہ ساری باتیں ہم نے آپ سے نہیں بلکہ کسی اور سے کہی ہیں۔ بھئی دیکھیں نا! اگر ہم ان سے یہ باتیں براہ راست کہیں تو پھر ہمارا کالم کون چھاپے گا۔

اللہ نہ کرے کبھی سنسر بورڈ کی نظر ہمارے کالم پر پڑے تاہم حفظ ماتقدم کے طور پر ہم سنسر بورڈ کے معزز ارکان سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ کالم کی روز افزوں مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر اگر حکام بالا ہمارے کالم کو سنسر کرنے کا خیال ظاہر کریں تو بورڈ ہمیں اردو لغت کی ضخیم سی جلد (جس میں قابل اعتراض لفظوں کو سنسر کر دیا گیا ہو) پیشگی ارسال کرے۔ آئندہ ہم اپنا کالم اسی جلد کے سنسر شدہ الفاظ سے تحریر کیا کریں گے۔ اس طرح آپ پڑھنے کی زحمت سے بھی بچ جائیں گے اور کالم سنسر (یعنی سیلف سنسر) بھی ہو جایا کرے گا۔ سیاست تو خیر ہمارا موضوع ہے ہی نہیں۔ البتہ ہم آپ سے یہ وعدہ بھی کرتے ہیں کہ ہمارا کالم فحاشی سے بھی پاک ہو گا۔ ہم "دلبرداشتہ" جیسے الفاظ کو ہمیشہ واوین بلکہ خطوط وحدانی کے اندر لکھا کریں گے تاکہ آپ غلطی سے بھی ایسے الفاظ کے بیچ وقف کر کے اسے فحش نہ قرار دے بیٹھیں۔ چلتے چلتے ہم مشتہرین حضرات کو بھی مطلع کرتے چلیں کہ وہ ہمارے کالم کی مقبولیت سے جائز و ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے ہمارے کالم کے بیچ یا آس پاس اپنے اشتہارات شائع کروانے سے گریز کریں۔ اور اگر اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے ایسا ناگزیر ہو تو شعبہ اشتہارات کے بعد ہم سے بھی رجوع کریں تاکہ حسب ضرورت ان کی جیب ہلکی اور اپنی جیب بھاری کر کے ملکی اقتصادی توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.