مہینے بھر کی ماں - عقیلہ اظہر

خالہ ثریا کے پانچ بچے تھے۔ تین بیٹے اور دو بیٹیاں۔ بڑی بیٹی بھائیوں سے بڑی تھی اس کی شادی سب سے پہلے ہو گئی۔ دوسری سب سے چھوٹی تھی۔ درمیان میں بیٹے تھے۔ خالہ کے شوہر جب بچے چھوٹے تھے جب ہی گزر گئے تھے تب انہوں نے اپنی ساری قوتیں اور صلاحیتیں بچوں کو پڑھانے اور ان کا مستقبل بنانے میں لگا دیے۔ مکان ذاتی تھا یہ اللہ کا بڑا کرم تھا۔ وقت دھیمے پاؤں گزرتا گیا اور بچے اپنی تعلیم مکمل کرتے رہے اور ملازمت پر لگ گئے۔ اب خالہ نے بچوں کی شادی کے لیے کمر کس لی۔بہت محنت اور وقت لگایا اچھی سے اچھی بہو لانے کے لیے اللہ نے ساتھ دیا۔ سب بہوئیں اپنی مرضی کی آگئیں۔ جیسے جیسے شادی ہوتی گئی بیٹوں نے اپنے گھر الگ کر لیے۔ خالہ سدا سے بڑے دل اور کھلے ذہن کی مالک تھیں بچوں کے کسی قدم پر اعتراض نہیں کیا۔ اب وہ اور چھوٹی بیٹی ساتھ تھیں۔ کچھ عرصہ کےبعد اس کی بھی شادی ہوگئی اور وہ بھی اپنے گھر سدھاری۔تینوں بیٹوں نے مشورہ کیا اب اماں کے لیے کوئی انتظام ہونا چاہیے تنہا اس عمر میں رہنا درست نہیں ہے خالہ بھی آسانی سے مان گئیں کہ اتنے عرصے سب کے ساتھ رہنے کے بعد ان کے لیے بھی تنہا رہنا ممکن نہ تھا۔

بیٹے چاہ رہے تھے کہ اماں اپنا مکان فروخت کر کے وراثت تقسیم کر دیں۔ خالہ کو اس پر بھی اعتراض نہیں ہوا کہ رہنا تو بیٹوں کےساتھ ہی ہے بیٹے اور بہوئیں آس پاس ہوں گے اس خیال کے آتے ہی ان کے چہرے پر خوشی کی چمک دوڑ جاتی۔ کچھ عرصہ میں مکان کا سودا ہو گیا بڑا بیٹا کلیم انہیں اپنے گھر لے گیا ایک کمرہ بہت اچھی طرح تیار کر دیا اور ان کی ضرورت کی ہر چیز کمرے میں رکھ دی گئی کچھ دن بعد کلیم نے کہا اماں ہم بہنوں کا حصہ ضرور دیں گے آپ یہ بتائیے آپ کے حصے کا کیا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت اور ماں - فائزہ خالد

مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اماں گویا ہوئیں۔ اماں میرا مطلب سادہ سا ہے کہ آپ ہم بھائیوں کی ذمہ دار ہوں گی اگر آپ اجازت دیں وہ رقم ہم بھائی آپس میں تقسیم کر لیں تاکہ ہم میں سے کسی پر بوجھ نہ پڑے۔ بوجھ کا لفظ اماں کے اوپر بوجھ بن کر گرا۔ لیکن ان کی سادگی اور سمجھوتہ کے عادت نے منہ سے ہاں نکلوا دی۔

آجکل میرے گھر میں ہیں ایک مہینے بعد عادل لے جائے گا اور پھر ایک مہینے بعد آپ شکیل کے گھر چلی جائیں گی۔ جب سےطے ہو گیا تو وہ ہر ایک مہینے بعد دوسرے بیٹے کے ہاں چلی جاتیں۔ مہینے کا آخری ہفتہ سامان جمع کرنے میں گزر جاتا اور جب وہ وہاں سے چلتی تو کچھ نہ کچھ بھول جاتیں پھر وہ سامان دوسرے گھر سے منگوانا پڑتا۔ ایسی اور بہت سی باتیں ہو جاتیں تو بہوؤں کے ماتھے پر شکن آجاتی۔ بہوؤں کا آخری ہفتہ اس انتظار میں گزرتا کہ وہ جائیں تو پھر اپنے میکہ والوں کو بلایا جائے۔ دوستوں کی پارٹی ہو۔ ساس کا اضافی کام جو نوکروں پر پڑتا وہ بھی ختم ہو جاتا۔ اس طرح یہ مہینے بھر کی ماں دوسرے گھر سدھارتی۔

ٹیگز