کبھی سوئی میں دھاگہ ڈالا ہے - رومانہ گوندل

اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ایک دن بابا جی پوچھنے لگے کہ کبھی سوئی میں دھاگہ ڈالا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں تو بولے، سیکھ لو۔ میں نے پوچھا، دھاگہ ڈالنا سیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو بابا جی کہنے لگے اشفاق سوئی میں دھاگہ ڈالنا نہ آیا، تو کپڑے سینے نہیں سیکھ سکتے اور اگر کپڑے سینا نہ سیکھ سکے تو انسانوں کو سینا کیسے سیکھو گے؟

سوئی میں دھاگہ ڈالنا بظاہر ایک معمولی کام ہے لیکن ایک طرف تو یہ پیغام ہے کہ کوئی بھی کام معمولی نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی بڑے کام کا آغاز ہوتا ہے۔ دوسرا سوئی میں دھاگہ ڈالنے میں کئی راز چھپے ہیں۔ دھاگہ ڈالنے کے لیے پہلے اپنے جسم کو پرسکون کرنا ضروری ہے، پھر پوری توجہ سوئی کے چھوٹے سے سوراخ پہ رکھنی پڑتی ہے اور بعض اوقات ایک آنکھ بھی بند کرلی جاتی ہے تا کہ توجہ بھٹک نہ سکے۔ سوئی میں دھاگہ ڈالنا ابتداء ہے جہاں سے انسان گر سیکھتا ہے، خود کو پر سکون رکھ کے مکمل توجہ دوسرے پہ رکھنا اور یہی گر لوگوں کو سینے کے لیے بھی چاہیے۔ لوگوں کو سینا اک فن ہے لیکن اتنا ہی چھوٹا سا گر اس کے لیے بھی چاہیے جتنا دھاگہ ڈالنے کے لیے۔ ایک سکون اپنے اندر اور دوسرے پہ مکمل توجہ۔ صرف انسانوں کو سینا ہی نہیں، ہر اہم کام کے لیے یہی گر چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو نماز بھی تو یہی سیکھاتی ہے، خود کو پر سکون کر کے فوکسڈ ہو جانا۔

دنیا میں رہتے ہوئے کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو پریشان اور ڈسٹرب کر تی ہیں لیکن کامیابی کے لیے یا تو جسم کا استعمال کر کے ان کو بدل لیں یا پھر دماغ سے کام لے کے انہیں قبول کر لیں کیونکہ صرف ان کو سوچ سوچ کے جلنے کڑھنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ یہ محض اپنے آپ سے ایک جنگ ہے، جس کا نتیجہ بے سکونی کے سوا کچھ نہیں۔ اور خود کو پر سکون ر کھنا ہی سب سے پہلی جیت ہے۔ اس کے بعد اپنی زندگی میں کچھ مقاصد بنائیں اور ان پہ مکمل فوکسڈ ہو کے کام کریں اور اس سے دوسروں کے رویوں اور باتوں سے بد دل ہو کے اپنے مقصد سے ہٹنے کے بجائے ایک آ نکھ کر لیں جو توجہ بھٹکا رہی ہو اور صرف اور صرف اس مقصد کو پانے کے لیے کو شش کریں اور ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی سینے کی کوشش کریں۔ ان کے چھوٹے موٹے مسئلے حل کر کے، اگر وہ نہیں کر سکتے تو کم از کم کسی کی بات سن کے تسلی کے دو لفظ یا ایک اچھا مشورہ دے دیں۔

اور جب آپ نے کسی کو سینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو بس پوری توجہ اسی پہ رکھیں، اپنی اور دوسروں کی نظر سے پرکھنا نہ شروع کر دیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک مشہور فقرہ کہ ہم تو ایسے نہیں کرتے اس ہم کے پیمانے پہ لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہر انسان غلط نہیں ہوتا بس جب تک ہم دوسرے کی جگہ نہیں ہوتے تب تک ہم اس عمل کے صیحیح یا غلط ہونے کا جواز، محض اپنی سوچ اور عمل کو نہیں بنا سکتے۔

جس طرح سوئی میں دھاگہ ڈالنا ایک آ غاز ہے اسی طرح ہر بڑے کام کا آغاز چھوٹے چھوٹے کامو ں سے ہوتا ہے۔ اس لیے زندگی میں چھوٹے چھوٹے کام کرنا سیکھ جائیں۔ کسی سے مسکرا کے ملنا، راستے سے گزرتے ہوئے پتھر ہٹا دینا، کسی بھولے ہوئے کو راستہ بتا دینا۔ یہ کام بظا ہر چھوٹے ہوتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ انسان کے اندر سے تبدیلی لے آتے ہیں۔ اور انقلاب ہمیشہ اندر کی تبدیلی سے ہی آتے ہیں۔

ایک موج مچل جائے تو طوفان بن جائے

ایک پھول اگر چاہے، گلستان بن جائے

ایک خون کے قطرے میں ہے تاثیر اتنی

ایک قوم کی تاریخ کی عنوان بن جائے

ضروری نہیں ہوتا کہ دنیا میں ہر انسان انقلاب لے آئے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہر انسان کچھ نہ کچھ اپنے عمل سے حصہ ڈالے۔

Comments

رومانہ گوندل

رومانہ گوندل

اقتصادیات میں ایم فل کرنے والی رومانہ گوندل لیکچرر ہیں اور "دلیل" کے علاوہ جریدے "اسریٰ" کے لیے بھی لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */