بچے اور اردو - مریم وزیر

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ

وہ باغ کی بہاریں، چڑیوں کا چہچہانا

بچپن ذمہ داریوں سے مبرا ہوتا ہے۔ سیکھنے کا موقع، شوق، وقت ہوتا ہے۔ بچپن میں سیکھی ہوئی بات، کام کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی کام آتا ہے اور یاد رہتا ہے۔ اس دور میں زبان سیکھنے اور اس کو بولنے کے حوالے سے مختلف کام کیے جا رہے ہوتے ہیں، جس میں والدین، اسکول، خاندان اور معاشرے کے دیگر عناصر اپنا کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ زبان سیکھنے کا عمل وقت طلب اور گہرا ہوتا ہے۔

جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پیدائش سے لے کر چار سال تک کی عمر کے بچے کو تین سے چار زبانیں سکھائی جاسکتی ہیں۔ مادری زبان کے سیکھنے کا عمل بھی تب ہی سے شروع ہوتا ہے۔ معاشرے میں آگے بڑھنے کے لیے دیگر علاقائی اور مقامی زبانوں کے سیکھنے اور استعمال کرنے کا عمل تو جاری و ساری رہتا ہے مگر مادری زبان کا جو سانچہ فرد/افراد کے ذہن میں راسخ ہوجائے وہ تا عمر ساتھ رہتا ہے اور زبانوں کے آگے بڑھنے، ترقی کرنے کا سبب بنتا ہے۔

مادری زبان نہ صرف اس خطہ سے جوڑے رکھتی ہے بلکہ اس تعلق کو آگے بڑھانے کا سبب بھی بنتی ہے۔

نائجیرین ادیب "نگو گی واتھیو نگو" کے مطابق؛ "اگر تم دنیا کی تمام زبانیں جان لو، لیکن مادری زبان سے ناآشنا رہو تو یہ غلامی ہے، مادری زبان سے آگاہی تمہیں بااختیار بناتی ہے۔ "

پاکستان میں رہنے والے اپنی علاقائی زبانوں کے ساتھ اردو بول نہ بھی پائیں تو سمجھ تو ضرور لیتے ہیں۔ مگر بیشتر علاقوں میں یہ صورتحال بھی ہے کہ؛

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ ہیں باقی جو اردو بول سکتے ہیں

اس سلسلے میں پاکستان اور پاکستان سے باہر اردو بولنے والوں نے اردو زبان کے ساتھ اپنی محبت، وارفتگی کا اظہار کرتے ہوئے اور اس سلسلے میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس زبان کو آئندہ آنے والی نسلوں میں منتقل کرنے کے لیے قابل ستائش کام کیا ہے۔

اس سلسلے کو سوشل میڈیا پر بچوں کا ادب کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔

اس میں پہلا کام جو کیا گیا وہ اپنے (یعنی بڑوں کے) بچپن میں سنی، پڑھی ہوئی نظموں سے آغاز تھا۔ وہ نظمیں جو مختلف صورتوں میں افراد تک پہنچیں، کہیں زبانی، کہیں لکھی ہوئی صورت میں۔ جن کا مقصد زبان سکھانا،اور اچھی بات بچوں میں منتقل کرنا تھا۔

اس کے علاوہ بچوں کے لیے مختلف رسائل نکالنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ، جو کہ کچھ عرصے سے بہت کم ہوگئے ہیں۔ ان کا اضافہ خوش آئند بات ہے۔ بچوں کے لیے رسالہ نکالنا آسان کام نہیں ہے مگر اردو ادب میں اضافے کے لیے بچوں کے رسالوں پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں نونہال، ساتھی، تعلیم و تربیت جیسے رسالوں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے لکھی گئی کہانیوں کی کتابوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مگر اس حوالے سے زیادہ افراد سامنے نظر نہیں آتے، صرف گنے چنے نام ہی اس محاذ پر کام کر رہے ہیں۔

بچوں کا ادیب بننے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ نسل در نسل آپ کا پیغام، کام منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بچوں کے ادیب کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے۔

اردو زبان میں درسی کتب پر بھی کام کا آغاز ہوچکا ہے، کہ کہاں کراچی انٹرنیشنل بک فیر میں اکا دکا بپلشر بچوں کی کتابوں کے اسٹال لگاتے تھے مگر پچھلے تین سالوں سے واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے!

ان تمام مثبت کوششوں کو سراہا جانا چاہیے اور ان کو جاری و ساری رکھنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ بقول اقبال

گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے

شمع یہ سودائی دلسوزی پروانہ ہے