محبت کے دَم سے - نگہت فرمان

الفاظ کا ایک تقدس ہوتا ہے، ہونا بھی چاہیے کہ بغیر اس کے الفاظ بے معنی ہوجاتے اور اپنی وقعت کھو کر نرا شور بن جاتے ہیں۔ ہم دن بھر گفت گُو کرتے رہتے ہیں کہ یہ زندگی کو آگے لے جانے کے لیے ازبس ضروری ہے، اب یہ ہم ہی جانتے ہیں کہ ہماری گفت گُو میں صداقت کتنی اور مبالغہ کتنا ہے۔ کون سی بات ہم نے کسی کو رجھا کر اپنی مطلب براری کے لیے کی ہے اور کون سی ایسی ہے جس میں خلوص گُندھا ہوا ہے۔ آج کے زمانے میں محبت بھی کچھ ایسا ہی لفظ بن گیا ہے۔

محبت، آخر ہے کیا ․․․․․․؟ یہی کہ ہم ایک دوسرے سے یہ کہہ سکیں کہ مجھے تم سے پیار ہے، محبت ہوگئی ہے تم سے۔ بس کیا یہ اظہار ہی ہے یا اس کے ثبوت میں کوئی عمل بھی کارفرما ہونا چاہیے ․․․․․؟ کیا محبت لینے کا نام ہے، دینے کا نہیں اور کیا قید کرلینے کو، مسلط ہوجانے کو محبت کہتے ہیں۔ اشراف و صوفیاء اور دانا تو کہتے ہیں کہ محبت تو ایثار چاہتی ہے، قربانی دینے کا نام محبت ہے، قید نہیں آزاد کردینا محبت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو اس ’’ محبت‘‘ کا جتنا استحصال کیا گیا ہے یا کیا جاتا ہے، اس سے تو وحشت ہوتی، اور اس کے نام سے بھی ڈر لگنے لگا ہے۔ ہم ہر روز ہی اس نام نہاد محبت کے خون آلود واقعات پڑھتے، مناظر دیکھتے اور سنتے ہیں۔ اتنے واقعات کہ ان کے تذکرے کے لیے کتابوں کا پورا دفتر درکار ہوگا۔

سچ یہی ہے کہ محبت انسان کا انتہائی مطلوب جذبہ ہے۔ ایک ایسا جذبہ جس کے بغیر زندگی بے رونق اور اپنا آپ بے معنی لگنے لگتا ہے۔ محبت کے دم سے ہی یہ دنیا حسیں ہے۔ محبت ہی جوہرِ زندگی ہے۔ لیکن صاحبو! محبت کے کئی رنگ روپ ہیں اور اس کا ہر رنگ اور روپ نرالا ہے۔ اس معاشرے کے زوال کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہوگی کہ دور حاضر میں محبت جیسے پاکیزہ جذبے کو بھی مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ یہاں محبت کے نام سے لڑکے لڑکی کی اُسی محبت کا خیال سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے جو پُرفتن ہے۔ ہمارے ہاں عجیب رسم چل نکلی ہے کہ ہم محبتوں کے اظہار کے لیے مخصوص دنوں کے محتاج ہوگئے ہیں۔ محبت تو زماں و مکاں و وقت کی قید سے پَرے ہے۔ جب کہ محبتیں لفظوں کی محتاج نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ محبت میں اظہار کوئی معنی نہیں رکھتا، ضرور رکھتا ہے، اور یہ یہ ازبس ضروری بھی ہے، لیکن صرف اظہار نہیں، اس اظہار کو اپنے عمل کی سند دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اظہار۔ اظہار بغیر عمل کے ایسا ہی ہے جیسے گنبدِ بے در، اپنے ہی الفاظ کی بازگشت اور عمل بغیر اظہار کے لایعنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ویلنٹائن ڈے اور ہماری تہذیب - محمد اطہر

ہم آج اگر اپنے گزرے ہوئے کل پر نظر ڈالتے ہیں تو اپنے اردگرد اتنی پیاری اور پاکیزہ محبتیں دکھائی دیتی تھیں جس میں حیا تھی، تھوڑا سا حجاب تھا اور مشرقی محبت کا یہ رنگ نرالا اور روپ بڑا دل کش تھا، جب بیویاں اپنے شوہروں کا نام تک لینا بڑا معیوب اور اپنے مجازی خدا کی توہین سمجھتی تھیں، اور انہیں اپنے ہم سفر کا ہر کام خود اپنے ہاتھ سے کرنا عبادت لگتا تھا۔ کیا یہ محبت نہیں تھی ․․․․․؟

یہ ٹھیک ہے کہ محبت اظہار چاہتی ہے لیکن ہر رشتہ ہر تعلق کا ایک تقاضا اور حدود ہیں، اگر ان سے تجاوز کر لیا جائے تو یہی محبت جو عبادت کا درجہ رکھتی ہے، گناہ بن جائے گی۔ ہم تو ویسے بھی اس مذہب کے پیروکار ہیں جس کی تعلیم ہی محبت ہے، بس حدود و قیود ہیں۔ ذرا سوچیں اگر محبت نہ ہوتی تو کیا ایک ماں جو اپنی اولاد کی پیدائش سے لے کر اس کے بڑے ہونے تک جو تکلیف اٹھاتی ہے وہ سہہ پاتی؟ اگر محبت نہ ہو تو میاں بیوی ایک دوسرے کی کمیوں و کوتاہیوں کے باوجود ساتھ رہتے؟ اگر محبت نہ ہو تو باپ اپنی اولاد کے لیے دن بھر مشقت کرتا؟ نہیں ناں ․․․․․

یہی محبت کا جذبہ ہے، جو ہمیں ہمت دیتا توانائی فراہم کرتا ہے۔ دور حاضر میں بدقسمتی سے اتنے پیارے جذبے کو کمرشلائیز کردیا گیا ہے۔ ہر فرد کو محبت کے نام پر ہوس و حرص کا شکار دکھایا جارہا ہے۔ ادیبوں، شاعروں اور صوفیاء نے تو محبت میں ہجر و فراق کی بھی اپنی ایک لذت بتائی ہے، محبت میں فنا ہوجانے کو معراج بتایا ہے، وہ فرد جو محبت کا دعوی کرے اسے تو سراپا محبت ہونا چاہیے، اور اس کے ہر عمل سے اس کا اظہار ہونا چاہیے۔ ہم نے تو بدقسمتی سے محبت کو خوف و دہشت کی علامت بنالیا ہے۔ ایسا لگتا ہے تمام مسائل ختم بس یہ مسئلہ رہ گیا ہے فلاں نہیں ملا تو مر جاؤں گا میری نہ ہوئی تو مار دوں گا․․․․․ یہ اور وہ کردوں گا، یہ محبت نہیں اسے خود غرضی، ہوس اور اجارہ کہتے ہیں۔ محبت تو ہمارے بزرگوں کے درمیان تھی اتنی سادا جہاں وہ ایک دوسرے کا احتراما نام تک نہیں لیتے تھے۔ لیکن ایک دوسرے کو دیکھے بغیر چین بھی نہیں ملتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ویلنٹائن ڈے، عیدِ محبت نہیں، عیدِ گناہ ہے - عادل سہیل ظفر

محبت صرف ایک دن کارڈ پھول دینے، بار بار زبان سے کہنے کا نام ہی ہے کیا ․․․․․؟ اگر کوئی صرف کہتا رہے آئی لو یو، آئی لو یو لیکن آپ کی خوشی کا خیال نہ رکھے۔ آپ کے دکھوں میں شریک نہ ہو، کیا یہ محبت ہے؟ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کی محبتیں بھی روایتی اچھی لگتی ہیں ایسی کچی اور مفادات میں ڈوبی ہوئی نہیں جو صرف اپنا بھلا سوچتی اور باقی سب کو روندتی چلی جاتی ہیں۔ ہماری محبتیں تہواروں کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہیں بلکہ یہ تو ہر لمحہ گزرنے کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں۔ محبتوں کے دن منانے والے کیا جانیں کہ محبت کا نغمہ کسی دن نہیں بل کہ ہر لمحے گنگنایا جاتا ہے۔ اور ہاں یہ بھی کہ یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا۔