ہمارے مدارس اور الومنائی! - محمد عرفان ندیم

بات یہاں تک پہنچی تھی کہ مغرب میں الومنائی ایسوسی ایشنز کیا خدمات سر انجام دے رہی ہیں؟ اب سوال یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اس وقت کس مقام پر کھڑے ہیں؟سر دست ہم مدارس سے بات شروع کرتے ہیں۔ پاکستان کے دینی مدارس مذہب اور سماج کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، یہ وہ پل جس نے دنیا بھر کی سازشوں اور اپنوں کی منافقت کے باوجود پاکستانی سماج کو مذہب سے دور نہیں ہونے دیا۔ پچھلی دو دہائیوں سے ساری دنیا، دنیا کا سارا میڈیا اور پاکستان کے سارے لبرل مل کر ان مدارس کو مطعون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے برعکس مدارس کا فیض بڑھتا جا رہا ہے۔ آپ ساری دنیا گھوم لیں آپ کو پاکستان جیسا اسلامی معاشرہ ملے گا اور نہ ہی اتنے متدین مسلمان، آپ کو اتنے باشرع مسلمان دکھائی دیں گے اور نہ ہی اتنی باپردہ خواتین، حتی کہ آپ دنیا کے کسی کونے میں بھی چلے جائیں آپ کو پاکستانی مدارس کا کوئی فاضل یا تبلیغی جماعت کا کوئی کارکن ضرور مل جائے گا اور وہ مقامی لوگوں کی اصلاح وفلاح کے لیے متحرک بھی دکھائی دے گا۔

یہ تصویر کا ایک رخ ہے، تصویر کا دوسرا رخ تھوڑا دھندلا اور افسوسناک ہے۔ پاکستان میں اس وقت مدارس کے پانچ وفاق موجود ہیں۔ ان پانچ وفاقوں میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں، ان میں سب سے بڑا وفاق، "وفاق المدارس" کا ہے۔ وفاق المدارس کے تحت 18 ہزار 948 مدارس کام کر رہے ہیں۔ ان میں 21 لاکھ 85 ہزار 444 طلباء زیر تعلیم ہیں، جبکہ ایک لاکھ 27 ہزار 54 اساتذہ تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ وفاق 1959میں قائم ہوا تھا اور اب تک اس سے ایک لاکھ 75 ہزار 412 علماء، ایک لاکھ 36 ہزار 63 عالمات اور دس لاکھ 54 ہزار 551 حفاظ فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد کسی بھی این جی او یا کسی بھی دیگر پرائیویٹ بورڈ کی کارکردگی سے کہیں زیادہ ہے۔ اب بھی ہر سال تقریباً دس ہزار علماء اور اتنی ہی تعداد میں عالمات مدارس سے فارغ التحصیل ہو کر نکل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ فارغ التحصیل طلباء کہاں کھپ رہے ہیں اور سوسائٹی میں کیا رول پلے کر رہے ہیں؟ یہ دس بلین ڈالر کا سوال ہے لیکن اس سوال کی طرف ہم بعد میں آئیں گے۔

ہم اس وقت اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، اکیسویں صدی کے آغاز سے دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مذہب، سائنس، سیاست، معیشت، تعلیم، ٹیکنالوجی، علمیات، میڈیا، روشن خیالی، آزادی اظہار، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور فرد کی آزادی جیسے نئے تصورات نے انسانی سماج کو نئی بنیادوں پر استوار کر دیا ہے۔ انسانی زندگی کے ان تمام دائروں میں بنیادی اور جوہری تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں اور ارتقاء کا یہ سفر آئندہ بھی رکنے والا نہیں۔ اس ساری تبدیلی کی بنیاد علم جدید ہے اور علم جدید کے پیچھے مغربی فکر و فلسفہ کھڑا ہے۔ اس تبدیلی کے مثبت اور منفی پہلو کون سے ہیں اور ایک اسلامی سماج کے لیے یہ تبدیلیاں کہاں تک قابل قبول ہیں؟ مذہب ان کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے اور ان نئے تصورات کے بارے میں کیا راہنمائی فراہم کرتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   دینی اسناد کا معادلہ؟ - محمد عنصر عثمانی

انسانی زندگی کا یہ پہلو تا حال تشنہ طلب ہے اور اس کی تشریح کی ذمہ داری ہمارے مدارس اور علماء پر عائد ہوتی ہے۔ کیا مدارس اور علماء اپنی یہ ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟ اس سوال سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب ہم مدارس اور علماء کی بات کر رہے ہیں تو یہاں دو چیزیں ہیں۔ ایک ان کی نیت، دوسرا ان کا عمل۔ ہم ارباب مدارس کی نیت پر شک کرسکتے ہیں اور نہ مذہب کسی کی نیت کو زیر بحث لانے کی اجازت دیتا ہے۔ ہم صرف ان کے عمل اور حکمت عملی پر بات کر سکتے ہیں اور میرے ناقص خیال کے مطابق مدارس کے نظام اور حکمت علمی میں بہت زیادہ بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ اگر ہم جائزہ لیں تو پاکستانی سماج کو زندگی کے مختلف دائروں میں مذہب کی راہنمائی کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت ہمارے علماء ہی پوری کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظو ں میں مدارس اور علماء کے لیے یہ میدان خالی پڑے ہیں اور درست حکمت عملی نہ اپنانے کی وجہ سے یہ خلا بڑھتا جا رہا ہے۔

وہ دائرے کون کون سے ہیں؟ اس میں سب سے پہلے مساجد میں امامت و خطابت کا دائرہ ہے، پھر فقہ افتاء کا دائرہ ہے، تیسرا دائرہ وعظ و تبلیغ کا ہے، چوتھا دائرہ شہروں، گاؤں دیہات میں بنیادی دینی تعلیم کا ہے، پانچواں دائرہ میڈیا و ابلاغ کا ہے، چھٹا دائرہ اسکول کالج اور یونیورسٹی میں اسلامیات کی تدریس کا ہے، ساتواں دائرہ خود مدارس کی تعلیم اور درس نظامی کی تدریس کا ہے، آٹھواں دائرہ جدید مسائل میں ریسرچ واجتہاد کا ہے، نواں دائرہ جدید مغربی فکر وفلسفہ اور لبرل افکار پر نقد و نظر کا ہے، دسواں دائرہ تصنیف و تالیف کا ہے، گیارواں دائرہ جدید بینکنگ، مالی اور اقتصادی مسائل کا ہے اور بارواں دائرہ سیاست اور سوشل ورک کا ہے۔ سماج کے یہ اہم ترین دائرے ہیں جہاں انہیں مذہب کی راہنمائی درکار ہے اور ان دائروں کے حوالے سے تفصیلی بات ہم اگلے کسی کالم میں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسہ یا اسکول؟ - جہانزیب راضی

اب ہم آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ ہر سال دس ہزار کی تعداد میں فارغ ہونے والے علماء اور اتنی ہی عالمات کہاں کھپ رہی ہیں اور سوسائٹی میں ان کا کیا کردار ہے؟ ایک اندازے کے مطابق ان میں سے بیس فیصد طلباء عصری تعلیم میٹرک یا ایف اے کی تیاری میں مشغول ہو جاتے ہیں، دس فیصد درس نظامی کی بنیاد پر کسی یونیورسٹی میں ایم فل اسلامیات میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ اتنے ہی طلباء سرکاری ملازمتوں میں کھپ جاتے ہیں اور تقریباً دس فیصد طلباء مختلف مسائل اور گھریلو مجبوریوں کے باعث محنت مزدوری شروع کر دیتے ہیں۔ باقی صرف پچاس فیصد طلباء بچتے ہیں، ان میں سے بھی دس فیصد ایسے ہوتے ہیں جنہیں کسی مسجد میں جگہ مل جاتی ہے اور وہ اپنے والد یا بھائی کی جگہ پر مسجد سنبھال لیتے ہیں۔ بیس فیصد طلباء مختلف مدارس میں درس نظامی کی تدریس میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ پانچ فیصد ایسے ہوتے ہیں جو ایک سال کے لیے تبلیغی جماعت میں نکل جاتے ہیں اور جو باقی دس پندرہ فیصد بچتے ہیں وہ اپنا کوئی ذاتی کاروبار کرتے ہیں یا وہ فارغ رہ کر زندگی گزارنے پر یقین رکھتے ہیں۔

اب آپ اندازہ لگائیں کہ صرف چالیس پچاس فیصد طلباء ایسے ہوتے ہیں جو دین کے کسی کام میں جڑتے ہیں اور وہ بھی ان مذکورہ دائروں میں سے صرف دو تین کو ٹچ کرتے ہیں اور باقی میدان خالی پڑے رہتے ہیں۔ ایک طرف یہ صورتحال ہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری ان مدارس اور علماء کے کندھوں پر عائد ہو رہی ہے اور دوسری طرف یہ عالم ہے کہ خلا پر تو کیا ہو مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد کہ جو طلباء اس خلا کو پر کرنے کے لیے مذکورہ دائروں میں رہ کر کام کررہے ہیں انہیں مناسب راہنمائی فراہم کرنے والا کوئی نہیں۔ جامعۃ الرشید نے اس حوالے سے جو قدم اٹھایا ہے وہ یقینا قابل تحسین اور لائق تقلید ہے۔ سابق فضلاء کا سالانہ اجتماع، ان کی مناسب راہنمائی او ر "الومنائی ایسوسی ایشن" کا قیام یہ وہ اقدام ہیں جن سے مذکورہ خلا کو پر کیا جاسکتا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے، ابھی صرف شروعات ہیں اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ دوسرے مدارس بھی اپنے طور پر اس روایت کو اپنا کر اپنے فضلاء کو معاشرے کی بہتری کے لیے تیا ر کر سکتے ہیں، اس سے سو نہیں تو دس بیس فیصد خلا تو پر ہو سکتا ہے اور ظلمتوں اور معصیتوں کے اس خوفناک جنگل میں اتنی سی روشنی بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔

ٹیگز

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں