کیا اجتماعی نظام و نظریات کی جنگ ختم؟ - وقاص احمد

خورشید ندیم صاحب کی تحاریر پڑھ کر اس بات کا تو قائل ہونا پڑتا ہے کہ وہ کمال ادبی مہارت سے علمیت کا دامن چھوڑے بغیر اپنے مؤقف کے لیے ساز گار دلائل کو نہایت اختصار کے ساتھ جمع کرکے اپنے قارئین کے سامنے پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس پورے عمل میں نہ کہیں وہ جذبات کے دلدل میں پھسنتے ہیں اور نہ جلال و طیش کے اسیر ہوتے ہیں۔

دلیل پر شائع ہونے والا ان کا کالم ’’ سیاست اور نظریات ‘‘ اس کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس کالم کو اگر سرخیوں میں بانٹا جائے تو میری نظر میں بحث طلب سرخیاں یہ بنتی ہیں۔

اشتراکیت، سرمایہ داریت، اور اسلامی معاشی نظام کی جنگ:

اس بحث میں محترم خود فرماتے ہیں کہ گوکہ مولانا مؤدودی صاحب ؒ نے اسلام کے معاشی نظام کو متبادل کے طور پر بیان کرکے اسے دنیا کا سب سے بہتر نظام بتلایا، لیکن اس کی افادیت اس لیے واضح نہ ہوسکی کیونکہ اس کے پاس قوت ِ نافذہ نہیں تھی۔ اسی اثنا میں اشتراکیت کی آپ اپنی موت کے بعد حالات و واقعات نے اپنا سر سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے سر نگوں کردیا اور یوں موجودہ سرمایہ دارانہ نظام دنیا کا واحد کھڑا رہنے والا، قابلِ عمل اور سب سے زیادہ لچکدار معاشی نظام بن گیا۔ لچکدار اس لیے کہ بقول خورشید صاحب اُس نے اپنے سامنے چیلنج بننے والے نظاموں کی اچھوتی اور منفرد باتو ں کو اپنے اندر سمو نے کا زبردست مظاہرہ کرکے دکھا دیا۔

یہاں میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ خورشید صاحب سرمایہ دارانہ نظام کی بدکاریوں اور مسائل کے باوجود اس کے دنیا میں پھیلاؤ اور کامیابیوں سے مرعوب نظر آتے ہیں۔ اور اسی مرعوبیت کا پیغام وہ دینی تحاریک کے قائدین کو دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کہتا ہے (مفہوم)کہ جو حلال ہے وہ حلال ہے، حرام و ناپاک کی کثرت تم کو دھوکے میں ڈال دے۔ مرعوب نہ کردے۔ اس مقام خورشید صاحب ذرا کنفیوز بھی نظر آتے ہیں کیونکہ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ اسلامی معاشی نظام کے پاس کوئی قوت نافذہ نہ تھی یعنی اسے پرکھنے کے لیے ہمیں کوئی تجربہ گاہ نہ مل سکی لیکن پھر شاید اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ ناقدین اسی بات ہی کو تو دنیا اور خاص کر پاکستان میں اقامت ِ دین کی تحریکوں کے پنپنے اور ان کی طاقت کی وجہ قرار دے سکتے ہیں، اسی پیرا کے آخر میں فرماتے ہیں کہ ’’ایران اور افغانستان وغیرہ میں تیسرے نقطۂ نظر کو موقع ملا‘ لیکن وہ اپنی انفرادیت کا کوئی تاثر قائم نہیں کر سکا۔‘‘ یعنی ایک طرح سے انہوں نے عندیہ بھی دے دیا کہ پا کستا ن میں پائی جانے والی دینی اور اسلامی تحریکیں ایران اور افغانستان اور ایک اور ملک جس کا نام ’’وغیرہ‘‘ ہے اس کے کے تجربات سے سبق سیکھیں اور نیو گلوبل ورلڈ آرڈر کی افادیت اور حقانیت کو تسلیم کرکے اب اپنا بیانیہ تبدیل کرلیں ۔

ایران کے معاملے میں میری معلومات نہ ہونے کے برابر ہے کہ وہاں انقلاب کے بعد غیر سودی معیشت کے حوالے سے کیا اقدامات ہوئے، ٹیکس ریفارمز اور جاگیرداری کے متعلق کیا پالیسی بنی ؟ لیکن میں اتنا تو کہہ سکتا ہوں کہ انقلاب ِایران کے بعد دنیا بھر کے میڈیا نے ایران میں ہونے والے انسانی حقوق کے مسائل کو یا ان کی نظر میں تنگ نظری کو تو ضرورت سے زیادہ کوریج دی اور اسپر حد سے بڑھتے ہوئے تجزیات کیے لیکن انقلاب کے بعد آنے والی مثبت تبدیلیوں کے بارے میں عام لوگوں کو کچھ نہ بتایا۔ ایران کا طویل عرصے تک سخت عالمی اقتصادی پابندیاں برداشت کر لینا کوئی مذاق بات نہیں ہے۔ ان پابندیوں کے دوران ہمیں وہاں کوئی بڑا بحران نظر نہیں آیا۔ لیکن افغانستان کا نام دیکھ کر مجھے شدید حیرت ہوئی کہ انہوں نے طالبانِ افغانستان کے چھ سالہ جنگ و جدل کے دور کو بھی اسلام کے سیاسی اور معاشی نظام کے تجربہ کے لئے موزوں قرار دیا اور فیصلہ بھی سنا دیا کہ چونکہ اس میں سے خیر برآمد نہیں ہوا اس لئے اب اسلام کے معاشی نظام کو قائم کرنے کے شیدائیوں اور متوالوں کو آنکھیں کھول لینی چاہیئے۔ وہ پچھلے وقتوں میں جی کر اپنا اور ملک و قوم کا وقت ضائع کر رہے ہیں کیونکہ اب بقول خورشید صاحب ’’ پاکستان جیسے نیم خواندہ معاشرے میں ان کی (اسلامی نظریات کی حامل تحاریک کی) تھوڑی بہت پزیرائی باقی ہے لیکن یہ بھی اب دنوں کا معاملہ ہے۔ جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم اور پراپیگنڈہ - طلحہ زبیر بن ضیا

افغانستان کے حوالے سے ان کا اتنا سطحی اور غیر سنجیدہ تجزیہ اور اس سے اتنا بڑا نتیجہ اخذ کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن چونکہ خورشید صاحب کے فکری سفر میں فکر مولانا مؤدودی ایک بڑا پڑاؤ تھا اس لیے سچ بات وہ دبا نہ سکے کہ حقیقت یہی ہے کہ سامراجیت، Colonialism کے اندر اور Neo-Colonialism کے اس دورِ شباب میں مرعوب ذہن کے ساتھ پل بڑھ کے جوان ہونے والے مسلمان حکمرانوں، بادشاہوں اور ڈکٹیٹرز، بزنس مین، اقتصادی ماہرین اور مینیجرز نے مصر سے لیکر ملائشیا تک کے کہیں بھی اسلام کے معاشی نظام کو بھرپور ماحول میں پَھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا۔ بلکہ اس معاملے انتہائی درجے کی مرعوبیت اور پست و بند ذہنیت کا مظاہرہ کیا۔ باقی اس دوران لبرل کیپٹلزم کی دل لبھاتی ما رکیٹنگ، میڈیا اور اشاعتی اداروں کی زینت بنتی رہی اور اپنی جڑیں مضبوط کرتی رہی۔

میں کہوں گا کہ دنیا میں خاص کر پاکستان میں موجود اقامت ِ دین کی جدو جہد کرنے والی تحریکوں کے پاس جتنا بھی جوش، جذبہ اور ولولہ ہے اس کی متعدد وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ اسلام کے اجتماعی معاشی نظام کو اب تک آزمایا نہیں گیا اور اس کی وجہ مغرب سے خوف ذدہ، مرعوب، اقتدار سے محبت کرنے والی اور مفادات سے محظوظ ہونے والی ہماری اشرافیہ ہے۔

آپ فرماتے ہیں کہ ’’ اگر میں یہ کہوں کہ سرمایہ داری پر اس وقت عالمی سطح پر اجماع ہو چکا‘ تو شاید اس سے اختلاف نہ کیا جا سکے۔‘‘

اس بات پر تو میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام پر عملی اجماع تو فرعون کے زمانے میں بھی سب نے کر لیا تھا خاص طور پر یہودی قوم نے۔ ’’سٹیٹس کو‘‘ کا طاقت کے بل بوتے پر سر چڑھ کے بولنے کو اجماع نہیں کہتے۔ کیونکہ اجماع علمی اور فکری بنیادوں پر ہوتا ہے۔ کسی مخالف نظریے کا قا ئم رہنا اور تجرباہ گاہ کے حصول کی کوششوں میں لگے رہنا فکرکی شکست نہیں ہوتا ۔ ہاں البتہ کمیونزم کے داعیوں اور پیرو کاروں کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہ واقعی افسوسناک ہے۔

’’سرمایہ دارانہ نظام نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے، دوسرے نظریات کو Accommodate کیا:‘‘

علم ِوحی سے مبرا و منزہ ہوکر عقلِ محض سے جنم لینے والی فکریات کو گاہے بگاہے، تجربات کی روشنی میں، زندہ رہنے کے لیے اپنی اساسات میں تصحیح و ترمیم کرنی پڑتی ہے۔ خاص طور پر جب بادشاہت کی جگہ ڈیموکریسی نے لے لی ہو۔ تحت اللفظ ہمیں یہ لگ رہا ہے جیسے آپ کہنا چاہ رہے ہوں کہ اسلامی معاشی نظام یا اسکو سمجھنے سمجھانے والوں میں Accommodation کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہاں عرض ہے کہ اگر آپ کے نزدیک اسوقت کی چیمپئن سرمایہ دارانہ نظام میں اور اسلامی معاشی نظام میں فرق واضح کیا جائے تو لسٹ بہت چھوٹی ہوگی اور فرق صرف صرف نفس پرستی اور بوالہوسی کا نظر آئے گا۔ اسلام نے بعض خبائث اور غلاظتوں سے اجتناب کو صرف اخلاقی طور پر انسان کی صوابدید پر نہیں چھوڑا بلکہ قانونی احکامات دیکر ریاست کو نفاذ کا پابند کیا۔ اسلامی نظام چاہتا ہے کہ:

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم اور پراپیگنڈہ - طلحہ زبیر بن ضیا

۱۔ ہر قسم کے سود پر پابندی جس کی وجہ سے کاروبار یعنی مشارکہ اور مضاربہ کو بھرپور فروغ ملتا ہے۔ سود پر پابندی ہی کی وجہ سے محنت کو خودبخود اس کا جائز مقام ملتا ہے۔

۲۔ جوا اور سٹہ پر پابندی۔ اب اس کے حرام اور فتنہ پرور ہونے پر کیا کلام کیا جائے۔ محنت کو کچا چبانے والی چیزوں میں یہ بھی شامل ہیں۔

۳۔ حرام چیزوں کے کاروبار کی ممانعت۔ جیسے شراب، منشیات و زنا وغیرہ

۴۔ مارکیٹنگ کے لیے عورت کے حسن کا استعمال پر پابندی

اس میں کونسی چیز سلیم العقل اور سلیم الفطرت لوگوں کو پسند ہوگی۔ ان چار چیزوں کی گنجائش اسلامی نظام میں نہیں ہوگی اور اسے قطعاً Accommodate نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہی اصل جنگ ہے۔

باقی انتہائی کم ٹیکس ریٹ اور ٹیکس نیٹ کو براڈ کرنے میں کیا اسلام کا کوئی ثانی ہے؟ اسلام تو زکٰوۃ دینے کو عبادت کہتا ہے۔ اسلام سے زیادہ انسانی فلاح اور ہیومن کیپیٹل کو فروغ دینے والا، ویلفئیر کا نظام دینے والا کوئی اور نظام ہے؟

پرائیوٹ پراپرٹی اکھٹی کرنے، دولت جمع کرنے، صلاحیتوں کی قدر، ٹیلنٹ کی نگہداشت، ہنر کی عظمت کا اعتراف کے حوالے سے جتنی تعریف لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی کی جاتی ہے، اسلام اس سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ اسلام معیشت میں عدل، پاکیزگی اور عبادت کا بھی مفہوم بھی زور و شور سے دیتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام نے اسلامی بنکاری کی بھی گنجائش پیدا کردی:

باطل کا تو وتیرہ رہا ہے کہ اپنی بقا کے لیے ایسی ملمع سازی کرتا ہے کہ اس کا اصل زہر تو قائم رہے لیکن اس کے خلاف متحرک اور بے چین لوگوں میں تحریک اور بے چینی کا جذبہ ٹھنڈا پڑ جائے۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کو مکے میں دعوت کے درمیانی سالوں میں قریش کی طرف سے دی جانے والی وہ’’ آفر‘‘ یاد آرہی ہے جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ کہیں تو ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیں گے جس کے بعد آپ کو ایک سال ہمارے معبود کی عبادت کرنی ہوگی۔

مفتیانِ کرام کی محنت اپنی جگہ لیکن اسلامی معیشت کا سب سے بڑا اور اہم ستون مشارکہ اور آزاد شرح منافع پر مداربہ سرمایہ کاری ہے۔ یہ دنیا کے کس اسلامی بینک میں ہورہی ہے؟ ان گوشوں میں کام کرنے کی مکمل پابندی ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام کی اس لچک کی تعریف تو معذرت کے ساتھ ایسا ہی ہے کہ رمضان ٹرانسمیشن دکھانے کے بعد ٹی وی پر چلنے والی سارا سال بے حیائی کی تعریف کی جائے اور دینی پروگرام دکھانے پر ان کی لچک کو داد دی جائے۔

سو خورشید ندیم صاحب کا مضمون میری نظر میں معذرت کے ساتھ صرف من پسند دلیلوں کے انتخاب سےپُر ہے اور جبکہ بعض دلائل کمزور بھی ہیں۔ اسلامی تحریکات کی فکر پر عبور رکھنے کے باوجود مضمون میں عدل سے کام نہیں لیا گیا اور ’’نئے بیانیہ‘‘ کی ایک ناتواں سی پروموشن کی گئی۔ کچھ اور باتیں بھی ہیں لیکن ان شاء اللہ بعد میں۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.