حقوق العباد : محبت کا پیغام - محمد عثمان غنی

اسلام دینِ فطرت ہے۔ جو دنیا بھر کی محاسن اور خوبیوں کا مجموعہ ہے اور جس کے لیے خالقِ کائنات نے اعلان کیا ہے کہ بے شک دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔ حضور ﷺ پر بصورت وحی مختلف اوقات و درجات میں احکامات کا نزول ہوتا رہا اور حضور ﷺ کی سیرت و کردار کو بہترین نمونہ بنا کر پیش کیا اور آپ ﷺ کو رحمت للعالمین کے لقب سے سرفراز فرمایا۔ آپ ﷺ نے حسن اخلاق کو دین کا ایک حصہ بنا دیا اور لوگوں سے فرمایا:"ایک انسان اپنے اخلاق کے باعث اس درجہ پر فائز ہو جاتا ہے جو رات بھر ذکر الٰہی میں کھڑے رہنے اور عمر بھر روزہ رکھنے والے کو نصیب ہوتا ہے۔ " گویا حضور ﷺ نے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں ہے، بلکہ اخلاقیات کا بھی دین میں اتنا ہی مقام ہے جتنا کہ عبادات کا مقام ہے۔

ایک اور موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا: "الساعى على الارملة والمسكين كالمجاهد فى سبيل الله او كالذى يصوم النهر ويقوم الليل"

یعنی"بیوہ اور مسکین کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا راہِ خدا میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے اور اس زاہد شب زندہ دار کی طرح ہے جو دن بھر روزہ رکھتا ہے اور رات بھر نماز پڑھتا ہے۔

حضور ﷺ کو نہ صرف عبادات کے فروغ کے لیے بھیجا گیا ہے بلکہ آپ ﷺ کو اخلاق کے درس کو عام کرنے کا ذمہ بھی سونپا گیا اسی لیے حضور ﷺ نے خود اپنی بعثت کی غرض و غایت کو بیان فرمایا کہ مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔

اسلام دو چیزوں کا نام ہے۔ ایک حقوق اللہ اور دوسرا حقوق العباد۔ حقوق اللہ کا ذمہ خود اللہ رب ذوالجلال نے اپنے ذمہ لیا کہ یہ بندے اور رب کا معاملہ ہے۔ ذاتِ عالی چاہے تو بخش دے نہ چاہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ گویا اللہ قادر ہیں کہ وہ جس کو چاہیں معاف کریں جس کو چاہیں نہ کریں۔ لیکن حقوق العباد کا مسئلہ ذرا اس سے مختلف اور قابلِ غور اور قابلِ فکر ہے۔ اور یہی وہ مسئلہ ہے جس پر ہم مسلمان بے فکری کا شکار رہتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے کہ یہی وہ معاملہ ہے جس کی معافی کا اختیار اللہ رب ذوالجلا ل نے اپنے ہاتھ میں بھی نہیں رکھا۔ اور ان حقوق میں کوتاہی کی تلافی کے لیے دو صورتیں واضح کردیں کہ یا تو اس بندے سے معافی مانگ کر آئو یا پھر اس کا حق ادا کرو۔ بصورت دیگر آخرت میں اس کا حساب ہوگا۔

صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے :

جس کسی نے اپنے کسی بھائی کے ساتھ ظلم و زیادتی کی ہو، اس کی آبروریزی کی ہو یا کسی اور معاملہ میں اس کی حق تلفی کی ہو تو اس کو چاہیے کہ آج ہی اور اسی زندگی میں اس سے معاملہ صاف کرالے، آخرت کے اس دن کے آنے سے پہلے جب اس کے پاس ادا کرنے کے لیے دینار و درہم کچھ بھی نہ ہوگا، اگر اس کے پاس اعمال صالحہ ہوں گے تو اس کے ظلم کے بقدر مظلوم کو دلا دیے جائیں گے اور اگر وہ نیکیوں سے بھی خالی ہاتھ ہوگا تو مظلوم کے کچھ گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے۔ (صحیح بخاری ابواب المظالم والقصاص)

ایسے ہی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حضور ﷺنے صحابہؓ سے پوچھا کہ جانتے ہو کہ میری امت کا مفلس کون ہے؟ صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ جس کے پاس کوئی درہم و دینار نہ ہو وہی مفلس ہے۔ تو اس پر حضور ﷺ نے مفلس کی وضاحت فرمائی کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو روزِ قیامت نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ آئےگا (بے شمار نیکیاں لے کر آئے گا) لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا حق کھایا ہوگا، کسی پر ظلم کیا ہوگا۔ تو وہ لوگ اپنا حق وصول کرنے آجائیں گے۔ تو اس کی نیکیوں میں سے ان کو نیکیاں اٹھا اٹھا کر دی جائیں گی اور ان کا بدلہ چکایا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی لیکن بدلہ لینے والے باقی ہوں گے۔ پھر ان کی خطائیں اٹھا کر اس کے پلڑے میں ڈالی جائیں گی اور بالآخر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم عن ابی ھریرہ)

آج حقوق اللہ کو تو سب ہی پورا کرتے ہیں۔ مسجدیں بھری ہوتی ہیں لیکن بحیثیت انسان حقوق العباد کی طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی۔ حالانکہ اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے بیت الخلاء سے بیت اللہ تک ایک ایک قدم تک رہنمائی کی ہے۔ اپنے سے چھوٹوں سے کیسے پیش آنا ہے، بڑوں سے کیسے گفتگو کرنی ہے، پڑوسیوں سے کیسے معاملات رکھنے ہیں؟ والدین، اولاد، یتیم، بیوہ، غریب، معذور، مسافر، مجاہد، گویا معاشرتی زندگی میں بسنے والے ایک ایک انسان کے حقوق مقرر فرما دیے ہیں۔ ہم اسی دن کامل انسان بنیں گے۔ جس دن ہم کماحقہ حقوق العباد کی ادائیگی شروع کردیں گے۔