سوال بلوچستان سے - ذبیح خان ابراہیمی

بلوچستان کےتمام اہل علم ودانشور، سیاست دان ، طلبہ وغیرہ جو پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے افسوس ناک واقعے پر رنجیدہ اور افسردہ ہوئے ہیں، ان سے کچھ سوالات کرتا ہوں :

١۔ بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کیوں ہے؟

٢۔ یہ پسماندگی کن کی وجہ سے ہے؟

٣۔ ہم نے اس پسماندگی کو ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات اُٹھائے ہیں؟

٤۔ کیا اس پسماندگی کے ہم ذمہ دار نہیں؟

٥۔ اگر اس صوبے میں بھی پنجاب یونیورسٹی جیسا تعلیمی ادارہ ہوتا تو کیا ہمارے طلبہ علم حاصل کرنے کے لیے در در کی ٹھوکریں برداشت کرتے؟

٦۔ کیا ہم نے آج تک بحیثیت بلوچستانی، اس علمی پسماندگی کو ختم کرنے کے لیے یک آواز ہوئے ہیں؟

٧۔ یونیورسٹی واقعہ پر شور و غلغلہ کرنے والی سیاسی جماعتیں، کیا اقتدار میں نہیں رہیں؟ اگر رہی ہیں تو کیوں ہم اپنے ان وقتی غم خوار لیڈروں کو گریبان سے نہیں پکڑتے اور ان سے پوچھتے کہ 70 سال گزرنے کے باوجود ہم کیوں علمی سطح پر اتنے کمزور ہیں؟

٩۔ کیا ان اسیر طلبہ کا یہ حق نہیں بنتا کہ اقتدار میں رہنے والے اُس لیڈر سے یہ پوچھیں کہ اے اقتدار میں رہنے والے میرے وقتی غم خوار! آپ نے مجھے پنجاب یونیورسٹی جیسا ادارہ صوبے میں کیوں فراہم نہ کیا؟

یقیناً یہ کوئی نہیں سوچے گا اور اپنے ضمیر سے سوال بھی نہیں کرے گا کیونکہ وہ طلبہ جو اس وقت سلاخوں میں بند ہیں، وہ ہمارے ہی وجہ سے بند ہیں۔ کاش ہمارے سیاسی لیڈر ہمارے ساتھ مخلص ہوتے تو ہمیں اچھی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کرتے، صرف نفرت اور لسانی وعلاقائی عصبیت نہ دیتے۔

لیکن ہم نہیں پوچھتے اُن سے جن کی وجہ سے آج ہم اس افسوس ناک حالات و واقعات تک پہنچے ہیں۔ ہم نے نہیں سوچنا ، ہم نے تو وہ کرنا ہے جو ہمارے سیاسی لیڈر ہمیں بتاتے ہے اور آنکھیں بند کرکے نہ تحقیق نہ معلومات … بس مردہ باد…زندہ باد…!