انقلاب کا جزوِ لا ینفک - محمد نعمان کاکاخیل

ایک عام شہری کی حیثیت سے پاکستان کے اندر ایک مہینہ قیام کے دوران کچھ دفتری کاموں اور دستاویزات کے سلسلے میں تین سرکاری اداروں کے ساتھ واسطہ پڑا۔ان تین سرکاری محکموں کے اندر حکومت کے انقلابی اقدامات کا نقطۂ آغاز سمجھا جانے والا محکمہ پولیس بھی شامل تھا۔ 2013 کے انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران مثبت تبدیلیوں اور انقلابی دعووں کے زیر اثر نمو پانے والے خیالات کی عمارت ایک دم زمین بوس ہو گئی۔ مادّی چیزوں سے متعلق تبدیلی تو خال خال کسی نہ کسی درجے میں عیاں تھی لیکن رویّوں سے متعلق حالات ہمیشہ کی طرح زبوں حالی کا شکار تھے۔ افسرانِ بالا سے لے کر چپڑاسی اور بابو تک ہر شخص فرعونی لہجے اور شائستگی کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عام شہری کے ساتھ برتاؤ کرتا دکھائی دیا۔

سرکاری اداروں سے جاری شدہ تقریباً تمام دستاویزات کے اندر انتہائی غیر معقول، نہایت سنجیدہ اور ماورائے عقل غلطیاں ان اداروں کے اندر بیٹھے ہوئے افراد کی اہلیتوں کے اوپر ایک سوالیہ نشان بنارہا۔ جس سے صاف عیاں تھا کہ ان اداروں کے اندرافراد کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاً سیاسی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔

تبدیلی کسی نہ کسی درجے میں آئی ضرور تھی لیکن یہ تبدیلی افراد یا نظام کی نہیں بلکہ مادی اشیاء اور تعمیرات سے متعلق تھی۔انقلابی نظام کے دو بنیادی ستون ہیں جو مادّی ترقی اور افراد کی کردارسازی اور تربیت کے اوپر مشتمل ہے۔ یہ دنوں عناصر لازم و ملزوم ہیں اور تبدیلی کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اول الذکر تبدیلی کی بات کو تو کچھ حد تک درست قرار دیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ نظام کے اندر جدت لانے اورمثبت تبدیلی کے لیے افراد کی کردار سازی اور اس حوالے سے قانون سازی کو نظر انداز نہیں کیا سکتا۔جبکہ بے ضابطگیوں کے تمام چور دروازے اور چھپے راستے بند کرنے جیسے عوامل کامل تبدیلی کے لیے جزو لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس حوالے سے نہایت مایوس کن حالات دیکھنے کو ملے۔

یہ بھی پڑھیں:   خاتون کو برہنہ کرکے تھانے میں بہیمانہ تشدد - رانااعجازحسین چوہان

ــجس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تبدیلی کے نئے شقوں اور نئے انداز کے ساتھ عیاں طور پر نظام کا حصہ دکھائی دیا۔ علاقائی سطح پر صوبائی حکومت کی طرف سے مہیا کیے جانے والے فنڈز کا غیر منصفانہ استعمال صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان کی شکل اختیار کر گیا۔ ان فنڈز کا استعمال خالصتاً تعلقات اور اثر رسوخ کی بنیاد پر کیا گیا اور ضرورت مند افراد تک اس کی رسائی کو یقینی بنانے میں معاملہ نہایت مایوس کن رہا۔ حکومت کے مختص فنڈز کے صحیح جگہ استعمال اور ضرورت مند افراد تک اس کی رسائی کے لیے ایک خود کار ترکیب (Self regulating mechanism) اور شفافیت کا ہونا حد درجہ لازمی امر ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ انقلاب اور مثبت تبدیلی کے لیے نسلیں درکار ہوتی ہیں۔ راتوں رات تبدیلی سمندر کے جھاگ کی مِثل ہوتی ہے جو بظاہر تو بہت واضح لیکن اندر سے بے جان ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اوپر ایک دو ویڈیوز چلا کر یا تین چار عدد تصویریں دکھا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکھنے سے کچھ وقتی فائدہ تو شاید ضرور حاصل ہو لیکن اس کو دور رس اثرات کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ریاستی سطح پر انقلاب اور تبدیلی لانے اور فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنے کے لیے مجاہدانہ کردار، بے باک اور نڈر افراد کی ہر سطح پر ضرورت ہوتی ہے جو ذاتی، خاندانی، علاقائی یا سیاسی بنیادوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میرٹ کے ماحول کو پروان چڑھانے کے اندراپنا کردار ادا کرے۔ ان اوصاف کے مالک افراد کو یا تو نئی نسل سے کشید کیا جا سکتا ہے یا پھر موجودہ نظام کی مشینری کا حصہ بنے افراد کی تربیت اور ان کے اخلاقی معیار کے اندر بڑھوتری اور کردار سازی کے حوالے سے قوانین یا پالیسی وضع کر کے کوئی لائحہ عمل تیار کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کس نے آپ کی زندگی بدل ڈالی؟ محمد عامر خاکوانی

اگر تو افراد کی کردار سازی جیسے عوامل کو زیر غور نا لایا گیا تو عملی میدان کے اندر اصلاحات اور اس حوالے سے بہتری بھی شاید نظام کی تبدیلی کے اندر کار آمد اور مددگار ثابت نہ ہوں اور بعد الذکر نظر انداز کیا جانے والا عنصر موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی کچھ مثبت اور قابل رشک پالیسیوں اور منصوبوں کو سبو تاژ کرکے ان کی سیاسی ساکھ کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکا خیل بنیادی طور پر شعبہ طبیعیات سے وابستہ ہیں۔ سنجیدہ قلم نگاری کے ذریعے نوجوان نسل کی تربیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس وقت کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی ساؤتھ کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر ہیں اور یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.