’’بھارت کا مشرقی پاکستان‘‘ - احسان کوہاٹی

سیلانی اپنی خوابگاہ میں مسہری پر آلتی پالتی مارے سامنے رکھی چھوٹی سی میز پر ٹیکنالوجی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا تھا۔ اس کا لیپ ٹاپ کراچی سے دور بہت دور نئی دہلی کی رئیسینا ہلز کے مناظر دکھا رہا تھا۔ 26 جنوری کوراشٹریہ پتی بھون کے قریب انڈیا گیٹ کا یہ علاقہ عام بھارتیوں کے علاقہ ممنوع قرار دیدیا جاتا ہے۔ وہ سیلانی کی طرح اپنے گھروں میں بیٹھ کر سرکاری ٹیلی ویژن دور درشن پر اس ممنوعہ علاقے میں ہونے والی یوم جمہوریہ کی فوجی پریڈ دیکھ سکتے ہیں، سیلانی بھی دیکھ رہا تھا۔ یہ دن بھارت کے تین بڑے قومی دنوں میں سے ایک ہے۔ اس دن بھارت بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ 26 جنوری 1950ء کو بھارت نے برطانوی قانون ’’بھارت ایکٹ‘‘لپیٹ کراپنا دستورنافذ کیا تھا۔ 26جنوری 1949ء کو بھارت کی دستور ساز اسمبلی نے یہ دستور بنایا تھا، جسے اگلے سال اسی روز نافذ کرکے بھارت دنیا کی سب سے بڑی ’’جمہوریت‘‘بن گیا ایک ایسی جمہوریت جو ریاستوں کی ریاستیں ڈکار گئی۔ سیلانی کو تو حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو بھارت کو جمہوری ملک سمجھتے ہیں۔ بھارت میں اس وقت چھوٹی بڑی 67علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جنہیں کچلنے کے لیے بھارت نے اپنی افواج کو خصوصی قوانین کے تحت نازی فوجیوں جیسے اختیارات دے رکھے ہیں۔ وہ کسی بھی شخص کو بغاوت کے شک شبے میں تحویل میں لے سکتے ہیں حتٰی کہ گولی بھی مار سکتی ہیں۔ حیرت ہے چھپکلیوں، سانپوں اور جانوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے مغرب کو کشمیر، ناگا لینڈ، آسام، منی پور، چھتیس گڑھ، گجرات اور پنجاب کے انسان دکھائی نہیں دیتے۔

سیلانی دیکھ رہا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سفید کرتا، تنگ موری کا پاجامہ پہنے سر پرزردسرخ راجھستانی پگڑی باندھے، بھارتی صدر رام ناتھ کوویند کے ساتھ آسیان ممالک کے سربراہوں کو رخصت کر رہے تھے۔ انہیں یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس روز مسلح افواج کی پریڈ ہوتی ہے۔ بھارت یہ دن بڑی شان و شوکت سے مناتا ہے اور جمعہ 26 جنوری کو بھی خوب دھوم دھام سے مناتے ہوئے جمہوری اقدار، قوانین دستور کا ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا۔

سیلانی نریندر مودی کی تقریرسننا چاہ رہا تھا لیکن اسے دیر ہوگئی۔ مودی صاحب بھاشن دے چکے تھے، اب صرف ان کی رخصتی باقی بچی تھی جس سے سیلانی کو کیا دلچسپی ہوتی؟ اس نے دور درشن کی نشریات بند کیں اور دروازے کی طرف چل پڑا جہاں ہاکر اخبار اڑس گیا تھا۔ سیلانی نے اخبار اٹھایا ’’امت ‘‘ نے صفحۂ اول پر ہی شہ سرخی کے ساتھ برسلز میں ہونے والے بھارت کے خلاف مظاہرے کی تصویر لگا رکھی تھی مقبوضہ کشمیر، آسام اور خالصتان تحریک کے حریت پسند ہاتھوں میں احتجاجی پوسٹر لیے اقوام عالم کا ضمیر جھنجھوڑ نے کی ناکام کوشش کررہے تھے، اقوام متحدہ سے پوچھ رہے تھے کہ جب مشرقی تیمور کے لیے آپ یکایک بیدار ہوجاتی ہیں، سوڈان کی تقسیم پر آپ جھاڑ پونچھ کر عدل کا ترازو اٹھا لیتی ہیں … تو ہمارے لیے آپ امریکہ کے مجسمۂ آزادی کی طرح چپ کیوں سادھ لیتی ہیں؟ اس مظاہرے کے ساتھ ہی گاڑیوں کی کھڑکیوں پرآسام اور ناگا لینڈ کی آزادی کے پوسٹر بھی چسپاں تھے جس پر انگریزی میں تحریر تھا، بس بہت ہوگیا!

سیلانی بھارتی میڈیا پر ہفتہ دس دن میں نظر ضرور ڈالتا ہے کہ بھارت بھگت میڈیا کی چال دیکھ لے۔ اس نے نوٹ کیا ہے کہ بھارتی میڈیا میں روزانہ ایک نہ ایک خصوصی خبرپاکستان سے متعلق ضرور ہوتی ہے۔ ہر نیوز چینل نے اپنے خبرناموں میں پاکستان کے لیے تین سے پانچ منٹ جذبہ حب الوطنی کے تحت مختص کر رکھے ہوتے ہیں۔ آج بھی سیلانی بھارتی میڈیا کی چلت پھرت دیکھناچاہ رہا تھا لیکن ’’امت ‘‘ میں شائع ہونے والی تصویر اسے آسام کی طرف لے گئی۔ وہ اک عرصے سے آسام کا نام سن رہا ہے لیکن سچی بات ہے سیلانی کو آسام کے بارے میں معلومات تھیں، نہ یہاں کی علیحدگی پسند تحریکوں کے بارے میں زیادہ جانتا تھا۔ اسے اتنی ہی خبر تھی کہ بھی بھارت کاایک شورش زدہ صوبہ ہے اس نے انٹرنیٹ پر تاریخ کھنگالنی شروع کر دی۔ یوٹیوب پر موجود انٹرویوز اور بھارتی فوج کے ظالمانہ آپریشن کی وڈیوز دیکھیں، میڈیا کی رپورٹس پڑھیں، یونائیٹڈلبریشن فرنٹ آف آسام کے مظاہرے اور لوگوں کے جذبات دیکھے، جس نے اسے ایسے آسام سے ملایا جو بھارت کی ہتھیلی پر دہکتا انگارہ بن چکا ہے، بھارت اسے جھٹک سکتا ہے، نہ مٹھی بند کر سکتا ہے۔ پختون خیبر خواہ کے جتنا بڑا اور لگ بھگ اتنی ہی یعنی تین کروڑ کی آبادی رکھنے والا آسام بھارت کے لیے ’’مشرقی پاکستان‘‘بن چکا ہے۔ بھارت کے شمال مشرق میں واقع آسام اپنے ساتھ آٹھ صوبے رکھتا ہے جو بھارت سے علیحدگی کے لیے پر تول رہے ہیں۔ عجیب اتفاق یہ کہ جس طرح مشرقی پاکستان تک پاکستان کی رسائی مشکل تھی ویسی ہی صورتحال یہاں بھارت کو درپیش ہے۔ نئی دہلی کے پاس ان آٹھ صوبوں میں اپنا راج قائم رکھنے کے لیے صرف 20 کلومیٹر کے علاقے کی راہداری ہے۔ اگر یہ راہداری بند کر دی جائے تواقوام متحدہ کو دنیا کے نقشے پر برطانیہ جتنے ایک اور ملک کو رکن بنانا پڑے گاجس کی 35 فیصدآبادی مسلمان ہوگی۔

آسام مسلم آبادی کے اعتبار سے مقبوضہ کشمیر کے بعد بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ چائے یہاں کی سب سے بڑی کھیتی ہے۔ چائے کے آٹھ سو سے زیادہ باغات پر دو سو کمپنیاں کاروبار کر رہی ہیں۔ آسام کی چائے کے باغات بھارت کی نصف ضرورت پوری کرتے ہیں۔ دنیاکی دس فیصد چائے آسام میں ہوتی ہے جو بہترین کوالٹی کی مانی جاتی ہے۔ یہاں کی ہواہر طرف چائے کی مخصوص خوشبوادھر سے ادھر لیے پھرتی رہتی ہے۔ اکثر اس خوشبو میں بارود اور خون کی بو شامل ہوجاتی ہے۔ یہاں کے لو گ بر ہمن بنیے کے امتیازی منافقانہ رویے سے تنگ آکر علیحدگی کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آسام معدنی وسائل سے مالامال ہے۔ دنیا میں دریافت ہونے والا دوسرا تیل کا کنواں بھی آسام ہی میں ہے، جسے فرنگی سامراج میں کھودا گیا تھا اور آج کے اس جدید دور میں بھی اس سے اسی پرانی مشینری سے اسی طرح تیل نکالاجا رہا ہے جس طرح کبھی انگریز نکالا کرتے تھے۔

نئی دہلی آسام پر کچھ خرچ کرنے کے بجائے اسے نچوڑنے کے جتن کرتا رہتا ہے۔ ماضی میں بھی نئی دہلی کی یہی پالیسی رہی ہے۔ وقت گزرتا رہا، حکومتیں بدلتی رہیں، لیکن نہ بدلی تو آسام کے لیے نئی دہلی کی پالیسی۔ جب بھارت آزاد ہوا تھا توآسام کے لوگوں کی فی کس آمدنی بھارت کے متوسط آمدنی رکھنے والے شہریوں سے زیادہ تھی، جو وقت کے ساتھ کم ہوتی چلی گئی اور لوگ غریب سے غریب تر ہوتے چلے گئے۔ اسی ناانصافی سے آسام میں بے چینی پھیلنے لگی اورپھر ستّر کی دہائی میں اس بے چینی نے بغاوت کردی۔ آسام کے لوگوں نے علیحدگی کا مطالبہ کرہی دیا جس کا جواب بھارت نے آسام رائفلز کی صورت میں دیا۔ 173برس پہلے انگریزوں نے آسام رائفلز قبائلیوں کو قابو رکھنے کے لیے قائم کی تھی، بھارت نے بھی اسی طریقے کو اپنایا۔ آسام کے شہری آزادی کا نعرہ لگاتے جواب بندوق کی گولی سے دیا جاتا، آسام کے لوگ حق مانگتے جواب میں بدمست فوجی زندگیاں چھین لیتے، آسام کے بڑے بوڑھے عزت وقار کی بات کرتے جواب میں فوجی ان کی بیٹیاں بہنیں اٹھا کر لے جاتے۔ یہ وہی آسام ہے جہاں عورتوں کے ریپ کے خلاف آسام کی بڑی بوڑھی عورتوں نے فوجی ہیڈکوارٹرکے سامنے برہنہ ہو کر مظاہرہ کیا تھا۔ سیلانی کے لیے یہ بھی انکشاف تھا کہ آسام کی تحریک آزادی میں 20 ہزار سے زائد لوگ مارے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود آسام کی آزادی کی تحریک کچلی نہیں جاسکی۔ آزادی پسند نوجوانوں نے بندوقیں اٹھاکر مقابلے پر آگئے ہیں، آئے دن کہیں نہ کہیں یہ گوریلے بھارتی فوجیوں پرکہیں نہ کہیں جھپٹتے رہتے ہیں۔ گھنے جنگل اور سرسبز پہاڑیاں ان حریت پسندوں کو چھپنے اور گھات لگا نے میں پوری مدد کرتے ہیں۔ چار روز پہلے 22 جنوری کو حریت پسند گوریلے آسام رائفلز کی ایک گشتی پارٹی پر حملے میں انہیں دو جوانوں کی لاشوں کا تحفہ دے چکے ہیں۔

سیلانی پڑھتا جا رہا تھا اور سر دھنتا جا رہا تھا یوں لگ رہا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے۔ بھارت نے جو آگ مشرقی پاکستان میں لگائی تھی اور جس طرح اس کی تاپ پر ہاتھ سینکے تھے آج وہی آگ بھارت کے شمال مشرق میں لگی ہوئی ہے اور روزبرو ز اس کے شعلے، اس کی لپٹیں اٹھتی بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ آج حال یہ ہے کہ بھارت کے یوم جمہوریہ پر پانچ صوبوں میں یوم سیاہ منایا جارہا ہے، بھارتی پرچم جلائے جار ہے ہیں، آزادی کے نعرے لگائے جا رہے ہیں اوربندوقیں لہرائی جارہی ہیں۔ تاریخ کا خود کودوہرانا شاید اسی کو کہتے ہیں، اندار گاندھی نے سقوط پاکستان پر غرور و تکبر سے لبریز لہجے میں کہا تھا کہ ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا، آج وہی بھارت ڈوبنے کو ہے۔ بالفرض بھارت نہ بھی ڈوبا تو اسے ان ریاستوں کو زبردستی ساتھ رکھنے کی وہ قیمت ادا کرنی پڑے گی کہ نئی دہلی کا برہمن ہانپ جائے گا۔ سیلانی یہ سوچتا ہوا یونائیتڈ لبریشن فرنٹ آف آسام کے حریت پسندوں کو یوم جمہوریہ پر بھارتی ترنگا جلاتے ہوئے دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.