سوچیے اور امیر ہو جائیے (2) - شہاب رشید

پچھلی قسط

ماسٹر مائنڈ، دولت کی جانب اگلا قدم: اگر آپ کو اپنے مقصد (خواہش)کے حصول کی بابت کسی خاص علم کی ضرورت ہے جو آپ حاصل نہیں کر سکتے یا جس کو حاصل کرنا آپ کے لیے ممکن نہیں تو آپ اس شخص کی خدمات لے سکتے ہیں جو اس علم کا ماہر ہو،اسی کو علم خریدنا کہتے ہیں۔اوپر ایک اصطلاح ماسٹر مائنڈ کا ذکر ہوا تھا، اس لیے ضروری ہے کہ اس کو سمجھا جائے۔

ہل نے یہ کتاب لکھنے سے پہلے جن کا میاب ترین لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا ان سب میں ایک قدر مشترک تھی، وہ سب کے سب جانے انجانے میں ماسٹر مائنڈ کے اصول پر کارفرما تھے۔ آسان الفاظ میں ماسٹر مائنڈ لوگوں کے اس گروپ کو کہتے ہیں جو کسی ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے جمع ہوئے ہوں اور جواپنے مقصد کے حصول کے لیے درکار مختلف علوم پر عبور رکھتے ہوں۔ یہ ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے خواہش کو اس کے مساوی دولت میں بدلا جا سکتا ہے،بس شرط یہ ہے کہ اس میں دو یا دو سے زائد اشخاص نیک نیتی کے ساتھ ایک ہی منزل کے لیے ہم آہنگی کے جذبے کے ساتھ ایک منظم کوشش کریں۔لا محدود دولت کو حاصل کرنے کے لیے لامحدود دانش کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دانش ماسٹر مائنڈ کے ذریعے سے حاصل کی جا سکتی ہے بس یہی اصل طاقت ہے۔اگر کوئی شخص اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایسے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اسے پوری ایمانداری سے صلاح و مشورہ دیتے ہیں تو ان کی معاونت سے وہ اپنے لیے بے پناہ معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ہل کے مطابق جب دو یا دو سے زائد ذہن ملتے ہیں تو ایک تیسری غیر مرئی قوت پیدا ہو جاتی ہے جس کو تیسرے ذہن سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ہل کی تحقیق کے مطابق جس طرح دو یا دو سے زائد بیٹریاں ایک بیٹری کی نسبت زیادہ توانائی فراہم کرتی ہیں بالکل اسی طرح ہم آہنگی کے جذبے سے منسلک یا مربوط ذہنو ں کا مجموعہ ایک اکیلے ذہن سے زیادہ فکری توانائی فراہم کرتاہے۔اس مثال کے ذریعے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جو لوگ ہر وقت ذہین لوگوں میں گھرے رہتے ہیں ان کو حاصل طاقت کا راز ماسٹر مائنڈ اصول ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمت، جرات اور عورت - زرین آصف

فورڈ کمپنی کے مالک ہنری فورڈنے گاڑی ایجاد کی اور نہ ہی وہ تعلیم یافتہ تھا، اس کے باوجود وہ ماسٹر مائنڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایسی سستی گاڑی بنانے میں کامیاب ہو گیا جس کو خریدنا ہر امریکی کے بس میں تھا،جس نے فورڈ کو انتہائی قلیل وقت میں اپنے وقت کا امیر ترین آدمی بنا دیا۔ ہنری فورڈ کی ان کامیابیوں کی ابتدا ہاروی فائر سٹون، جان برروز اور لوتھر بر بینک سے تعلق قائم ہونے کے بعد ہوئی اور تینوں اپنے طور پر بہت ہی عمدہ ذہنی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ یوں ثابت ہوتا ہے کہ ذہنوں کے دوستانہ اتحاد و تعلقات سے مخصوص توانائی و طاقت حاصل کی جا سکتی ہے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان جن افراد کے ساتھ ہم آہنگی کے جذبے کے ساتھ تعلقات قائم کرتا ہے ان کی عادات،فکر اور فطرت بھی اپنا لیتا ہے۔ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ انسان جس طرح کے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے انہی کی طرح ہو جاتا ہے۔اگرآپ کامیاب لوگوں میں رہتے ہیں تو آپ کو بھی کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا لیکن اگر آپ ناکام لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں تو آپ کبھی کامیا ب نہیں ہو سکتے۔ ایڈیسن،بروز،برینک اور فائر سٹون کے ساتھ شراکت کے ذریعے فورڈ نے چاروں افراد کی دانش، تجربے، علم کے ذریعے اپنی ذہنی قوت واستعداد میں بے پناہ اضافہ کیا۔

دولت حاصل کرنے کے لیے ایک بہترین منصوبے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس منصوبے پر عمل کرنے کے لیے ماسٹر مائنڈکی اس لیے ضروری ہے کہ آپ کسی گروپ کے ساتھ اتحاد کریں۔اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ کسی کو گروپ کے اندر بغیر کسی فائدے کے زیادہ دیر تک نہیں رکھ سکتے اس لیے ضروری ہے کہ ماسٹر مائنڈ میں شامل ہر بندے کو علم ہو کہ اس کی خدمات کے عوض اس کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟

یہ بھی پڑھیں:   سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

یہ ضروری نہیں کہ معاوضہ پیسے کی شکل میں ہو۔ماسٹر مائنڈ گروپ میں شامل لوگوں کا ہفتہ میں ایک یا دو بار آپس میں ملنا بھی ضروری ہے اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو فیس بک یا وٹس ایپ میں ماسٹر مائنڈ گروپ بنائیں تاکہ سب ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھ سکیں۔یہ مفید اور بے عیب منصوبہ بندی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس ہدایت پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔

اس بات کا خیال رکھیں کہ بزنس آئیڈیا ایسا ہونا چاہیے جو قابل عمل ہو اور جس کے کلک ہونے کے قوی امکانات ہوں۔ایک سے زائد قابل عمل منصوبوں کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ ماسٹر مائنڈ ان میں سے سب سے بہترین اور قابل عمل منصوبہ کا انتخاب کر سکے۔اگر کوئی منصوبہ کسی وجہ سے ناکام رہتا ہے تو دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ نئے سرے سے کوشش کریں۔ تھامس ایڈیسن دس ہزار با ر ناکام رہاتب کہیں جا کر وہ بلب بنانے میں کامیاب ہوا۔اپنا مقصد حاصل کیے بغیر اگر آپ بیچ میں چھوڑ جائیں تو آپ کام چور ہیں اور ایک کام چور کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، اور جیتتا وہی ہے جو ترک نہیں کرتا اپنی کوشش جاری رکھتا ہے جب تک کہ وہ کامیاب نہ ہو جائے۔

نپولین ہل نے اس باب میں ماسٹر مائنڈ کے ساتھ جڑی روحانی طاقت کا بھی ذکر کیا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ ان سب باتوں پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ہم اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز ہوں اور اسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر گڑگڑا کر دعا مانگیں کیونکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے انسان اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

جاری ہے

Comments

شہاب رشید

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.