مل کے بولیے! - ربیعہ فاطمہ بخاری

پاکستان ٹیلی وژن پر ایک وقت وہ تھا جب "وارث" آن ائیر آتا تھا تو گلیاں اور محلے سنسان ہو جایا کرتے تھے۔ اس کے بعد کلاسیکل ڈراموں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ تھا۔ ہر نیا ڈرامہ اپنے سے پچھلے ڈرامے سے بڑا شاہکار ہوتا؟ کیا سکرپٹ، کیا کہانی،کیا مکالمے، کیا تہذیب و شائستگی؟ ہر ایک ڈرامہ دوسرے سے بڑھ کر، سوپر،ڈوپر،ڈوپرہٹ…! ساتھ ساتھ فلم انڈسٹری بھی عروج پر تھی۔ اگرچہ یہاں ماحول ڈراموں کی نسبت کھلا ڈلا تھا، لیکن فحاشی نے ابھی ہماری انڈسٹری میں قدم قدم چلنا شروع کیا ہی تھا اور ابھی عریانی کی حدوں تک نہیں پہنچی تھی۔اشتہارات میں ماڈلز کے کپڑے ابھی پورے ہوتے تھےاور ہیئر ریمونگ کریم جیسی چیزوں کے اشتہار ٹی وی پر چلانے کے بارے میں شاید ایڈورٹائزنگ کمپنیز نے بھی کبھی نہ سوچا ہو گا۔

پھر وقت بدلا، حالات بدلے اور کیبل نے پاکستان کا رخ کیا۔ دھوپ کنارے، عروسہ، ہوائیں،الفابراووچارلی،اور عینک والا جن جیسے ڈرامے خواب ہوئے اور میڈیا پر نئے دور کا آغاز ہوا، جب آہستہ آہستہ ممنوعہ موضوعات کو ہمارے لائف سٹائل کا حصہ بنانےکی طرف پیش قدمی ہوئی۔ معاشرتی مسائل سے ہٹ کر گھریلو سیاست پر ڈرامے بننا شروع ہوئے۔اداکاراؤں کے لباس مختصر سے مختصر ترین کا سفر طے کرنے لگے۔کرداروں کے درمیان فاصلے کم ہونے لگے۔ سگے باپ بیٹی کبھی یوں آپس میں لپٹے نہیں ہوں گے جیسے ڈراموں میں باپ بیٹی لپٹ لپٹ جاتے ہیں، بہن ہے تو بھائی کے ساتھ معانقے کر رہی ہے اور ماں ہے تو بیٹےکے گریبان کے ساتھ ہی چپکی ہوئی ہے۔ پہلے کبھی میاں بیوی کا کوئی سین آتا بھی تھا تو زیادہ سے زیادہ دونوں کو الگ الگ چارپائیوں پر بیٹھا یا لیٹا ہوادکھایا جاتا تھا، پھر تو بیڈ روم سین ہر ڈرامے کی ضرورت بن گیا۔ میاں بیوی کا ایک ہی بیڈ پر لیٹے ہوئے سین تو اب معمول کی بات بن چکا ہے، بلکہ بات اب اس سے کہیں آگے بڑھ گئی ہے۔

اشتہارات کی طرف مڑیں تو سینیٹری پیڈز کا پہلا اشتہار مجھے آج بھی یاد ہے۔ اتنے ڈھکے چھپے انداز میں تھا کہ وہ عورتیں جو استعمال کرتی بھی تھیں انہیں بھی شاید ہی پتہ چلا ہواور پھر ترقئ معکوس کرتے کرتے ہم آج کے دور میں داخل ہو گئے جہاں ماڈل گرل پوری پوری ٹانگیں برہنہ کر کے ہیئر ریموونگ کریم کے اشتہار کی زینت بنتی ہے اور ہر پروڈکٹ کے اشتہارات کے لیے ایک عدد نیم برہنہ ماڈل گرل وقت کی ضرورت بن گئی۔ فلم انڈسٹری کی طرف دیکھیں تو ماہ نور بلوچ جیسی بڈھی اداکارائیں تک آئٹم سونگز میں جلوہ گر ہوتی ہیں، گویا آئٹم سونگ ہر فلم کی ضرورت بن گیا۔

پھر ڈراموں میں نیا ٹرینڈ آیا، محرماتِ ابدی کی حرمت کی پامالی کا۔ دو سگی بہنیں ایک لڑکے کے پیچھے مر رہی ہیں اور ایک بھائی دوسرے بھائی کی بیوی پر بری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پھر تو یہ سلسلہ اتنادراز ہوا کہ آج خالہ، پھوپھی، سوتیلی ماں اور سوتیلے باپ سمیت کوئی محرم رشتہ ایسا نہیں بچا جسے اسی انداز میں پامال نہ کیا گیا ہو۔ انہی سب چیزوں کے ساتھ چند اور نئے فیکٹرز بھی سامنے آئےجنہیں فیشن شوز، مارننگ شوزاور ایوارڈ شوز کا نام دیا جاتا ہےاور سوشل میڈیا پر دیکھا جائے تو انسٹاگرام… ان چیزوں نے تو ہماری معاشرتی اقدار کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی اور اس وقت حال یہ ہے کہ ہماری اداکارائیں اور اداکار بے غیرتی، بے حیائی، بے حمیتی اور فحاشی و عریانی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ ان کا کوئی شو دیکھ لیں، ہر ایک اداکارہ بے حیائی اور بے باکی میں دوسری کو پیچھے چھوڑے ہوئے ہے۔ انسٹاگرام پر اپنی واہیات اور نیم برہنہ تصویریں لگانا تو آج کل اداکاراؤں کا ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے، یعنی اس فحاشی، عریانی، بے باکی اور بے لباسی کے طوفانِ بد تمیزی کا کوئی اختتام ہوتا نظر ہی نہیں آ رہا، اس میں دن بہ دن اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

ایسے میں کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس وقت مہم شروع کی ہے، جو میں سمجھتی ہوں کہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انڈیا اس وقت ریپ کیسز میں دنیا بھر میں تیسرا بڑا ملک ہے اور مجھے رتّی برابر بھی کوئی ابہام نہیں کہ اس کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک بالی ووڈ کا بے حیا کلچر ہے اور آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں بلکہ کچھ ہی عرصے کی بات ہے ان سے دو قدم آگے ہی ہوں گے۔ جتنا اس فحش اور شرم و حیا سےعاری میڈیا کے دور میں زنا اور بد کاری کا چلن ہمارے معاشرے میں عام ہوا ہے، شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کبھی ہوا ہو۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم سب کو یک زبان ہو کر اتنی قوت اور شدت کے ساتھ یہ آواز بلند کرنی چاہیے کہ ہمارے اربابِِ بست و کشادخوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں… تو مل کے بولیے!

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.