کہیں کوئی تانیہ آپ کے آس پاس بھی تو نہیں؟ - عظمیٰ ظفر

آج صبح صبح ہی شرمین کا جو میسج آیا اس نے تو صحیح معنوں میں میری نیند ہی اُڑا دی۔ بس کسی طرح بچوں کو اسکول کے لیے روانہ کیا اور شوہر نامدار سے التجا کی کہ مجھے اس کے گھر چھوڑ دیں۔

"کیوں؟" پہلا سوال ان کی جانب سے آیا۔ چہرے سے پتہ لگ رہا تھا کہ میری فرمائش پسند نہیں آئی۔ "کیا کرو گی؟ ابھی جاکر؟" دوسرا سوال۔ " تم عورتوں کو غیبت کے علاوہ تو کوئی کام ہوگا نہیں۔"

"ایسی کوئی بات نہیں…" کوئی اور وقت ہوتا تو میں دوبدو جواب دیتی کیونکہ …

ہم بھی ہیں مساوات زن و مرد کے قائل

دونوں ہی برابر ہیں مگر مکرو ریا میں

مگر اس وقت حالات کسی خطرے کی گھنٹی بجا رہے تھے۔ "بتائیں نا! چھوڑ دیں گے یا میں ابو جان سے کہوں؟" سسر کا نام لیا۔

"نہیں اب ان کو پریشان مت کرنا، ایک میں کافی ہوں گھن چکر بننے کے لیے۔چھوڑ دوں گا واپسی پر بلا لینا انہیں۔ مگر کچھ پتہ بھی تو چلے کیا افتاد ٹوٹ پڑی تمہاری سہیلی پر اچانک نور کے تڑکے؟" میں نے سنا تھا بعض اوقات مرد حضرات طعنے دینے میں صنف نازک کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ صنف نازک اس لیے کہہ رہی ہوں کہ بھاری بھرکم خود کو کہنا بڑا مشکل کام ہے۔ چارو نا چار جو پتہ تھا وہ بتانا پڑا ۔

"وہ …شرمین کہہ رہی تھی کہ … عرفان بھائی کسی لڑکی میں انٹرسٹڈ ہیں آجکل…" میں نے رک رک کر بتایا۔

"کیا؟ " یہ کہہ کر ان کے منہ سے قہقہہ بلند ہوا۔ "عرفان …؟ یعنی … یعنی کہ اپنا عرفان ؟ وہ جو بیگم کے آگے بھیگی بلّی بنا رہتا ہے اس کا چکر کسی لڑکی کے ساتھ....؟ امیزنگ! ویسے کچھ بتاؤ تو کون ہے وہ حسینہ ؟" ان کا اشتیاق بڑھ گیا تھا اور میرا غصہ۔

"آپ کو ہنسی آرہی ہے؟ وہاں وہ بےچاری رو رو کر ہلکان ہورہی ہوگی... " میں نے تصور چشم سے اپنی غمگین دوست کو دیکھا۔

"ویسے جس حلیے میں تمہاری دوست رہتی ہے، وہ کسی کام والی سے کم نہیں۔ سر جھاڑ منہ پھاڑ لگتا ہی نہیں ہائلی کوالیفائیڈ ہے۔ اور تو اور جس طرح عرفان کو اپنی انگلیوں پر نچاتی ہے، وہ اس کی بیوی کم استانی زیادہ لگتی ہے ۔" قبل اس کے ان کا تبصرہ مزید جاری رہتا، میں نے چلنے میں عافیت جانی۔

"دوست میری ہے، حلیہ آپ کو پتہ ہے۔" میں بڑبڑاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔

شرمین کی شادی کو ابھی چار سال ہی ہوئے ہوں گے۔ ایک بیٹا بھی اللہ نے دے دیا۔ سب کچھ تو موجود ہے۔ پتہ نہیں عرفان بھائی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ راستہ تو اسی فکر میں گزرا ۔ مجھے دروازے پر چھوڑ کر وہ خود آگے نکل گئے۔ ڈور بیل بجاتے ہی دروازہ کھل گیا شرمین کو جیسے پتہ تھا کہ میں آؤں گی۔ مجھ سے گلے لگ کر زارو قطار رونے لگی۔ میں اسے ساتھ لگائے ڈرائنگ روم میں آگئی۔ کچھ اس کے رونے میں کمی آئی تو اس نے ایک لمبی سانس بھری۔ آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔

"عرفان بھائی کہاں ہیں؟" میں نے پوچھا۔

"وہ کل لاہور گئے ہیں آفس کے کام سے۔ پتہ نہیں جلدی جلدی میں کیسے موبائل بھول گئے۔ دراصل ابراہیم کی طبعیت خراب ہے۔ کل بار بار رو رہا تھا۔ اسی گھبراہٹ اور جلدی جلدی میں ہاتھ سے چھوٹا ہوگا اور پیر سے لگ کر بستر کے نیچے چلا گیا ہوگا۔ ان کے جاتے ہی کال کی آواز آئی تو پتہ چلا کے فون بستر کے نیچے ہے میں نے دیکھا تو باس کالنگ لکھا تھا۔میں نے جلدی سے ریسیو کرلیا کہ یقیناً اھم بات ہوگی ابھی صرف کان پر لگایا ہی تھا کہ دوسری طرف سے ایک لڑکی کی آواز آئی۔ "لاہور پہنچ کر ضرور کال کیجے گا عفی…! آپ کے بغیر دل نہیں لگے گا میرا ۔" فون بند ہوگیا یا حیرت کے مارے میرے ہاتھ سے گر گیا۔"

"پھر عرفان کا فون میرے سیل پر آیا کہ ان کا فون گھر پر تو نہیں چھوٹ گیا؟ میں نے صاف انکار کردیا کہ گھر پہ فون نہیں ہے۔ اور نائلہ اس سے بڑی خبر پتہ ہے کیا؟" میں جو بہت دلگرفتگی سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔ اس کی طرف دیکھنے لگی کہ اب کون سا بم گرنے والا ہے؟ "وہ لڑکی کوئی اور نہیں ہماری دوست تانیہ ہے۔"

"کیا …؟ تانیہ …؟" تانیہ ہماری مشترکہ کالج فرینڈ تھی ۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔ "تم کو غلط فہمی ہوئی ہوگی شرمین۔" میں یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھی۔

"میں آواز پہچانتی ہوں۔ دن رات تم سے زیادہ اس سے بات ہوتی ہے نائلہ! دوست ہوکر وہ میرا گھر اجاڑ رہی ہے اور عرفان ؟ ان پر تو میں اندھا اعتماد کرتی ہوں۔ آج تک ان کا فون چیک نہیں کیا تھا۔ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ مجھے دھوکا دیں گے۔ سارا وقت گھر کو دیا، بچے کے چکر میں اپنا حلیہ بگاڑ لیا، ہر وقت کام میں الجھی رہی۔ کئی مرتبہ عرفان نے مجھ سے اس بات کی شکایت بھی کی میرا حلیہ کیسا ہو رہا ہے؟ میرے پاس باتیں کرنے کا وقت نہیں۔ آجکل تو وہ گھر میں ٹکتے ہی نہیں اور مجھے خبر ہی نہیں ہوئی کہ تانیہ جو دن بھر فون پر مجھ سے اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے میرا وقت برباد کرتی رہی۔ اس طرح عرفان کے گھر آنے کے ٹائم پر گھر آکر بیٹھ جاتی اور مجھے اس وقت کھانا پکانا چائے ناشتہ کرنا پڑتا یا دوسرے کام کرنے پڑتے تھے۔" شرمین نے اپنی غلطیوں کا خود ہی اعتراف کرلیا۔ اس کا رونا ساتھ ساتھ جاری تھا۔

"دیکھو شرمین! ابھی ہاتھ سے کچھ نہیں گیا،" میں نے اسے حوصلہ دیا "میں تانیہ سے خود بات کروں گی، تم اپنے شوہر کو بھرپور ٹائم دو ۔ بانو قدسیہ کہتی ہیں "مرد بازیافت کا پرندہ ہوتا ہے۔ آجکل شادی شدہ خواتین کے اکثر گھر ٹوٹنے کی وجوہات ایسی ہی ہیں، یا تو وہ اپنے شوہر پر اندھا اعتماد کرتی ہیں، جس سے شوہر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کچھ اس حد تک شک کرتی ہیں کہ جس سے مرد زچ ہوجاتے ہیں ۔ چھوٹے بچوں کی پرورش میں اپنے آپ سے بے پروا ہوجاتی ہیں۔ گھر داری اور دوسروں کو ہر وقت خوش رکھنے کے چکر میں شوہر کو ناراض کر دیتی ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ عورتیں اپنے آپ کو اتنا تھکا چکی ہوتی ہیں کہ شوہر کی ان ضروریات کو پورا نہیں کر پاتیں جو اس کا جائز حق ہے۔ "

"تمہیں پتہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کرام کے ساتھ کسی معرکے سے لوٹتے تو سیدھے گھر پہنچنے کے بجائے مدینے سے باہر خیمہ لگوا کر قیام فرماتے اور بستی مں اطلاع کرواتے تاکہ عورتیں اپنے آپ کو ان کے استقبال کے لیے تازہ دم کرلیں۔ تم خود اتنی سمجھ دار ہو پھر ایسی بے وقوفی کیسے کر رہی ہو؟ تانیہ تو شکل صورت کی بھی عام سی ہے مگر تم نے دیکھا ہے وہ خود کو کسے گروم کرکے رکھتی ہے؟ میں نے اس سے کہا"تمہیں کوئی اندازہ نہیں ہوا تانیہ کی باتوں سے؟ تمارے گھر کب سے آنا جانا ہے اس کا؟ " شرمین نے میری طرف دیکھا اور سر جھکا لیا۔

"کچھ کام کے سلسلے میں عرفان سے مدد لی تھی، پھر آتی جاتی رہی۔ مگر وہ ایسی دوست نکلے گی یہ کب سوچا تھا میں نے؟ میسجز بھرے پڑے ہیں اس کے موبائل میں۔ میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا کہ اکثر وہ اتنا تیار ہو کر کیوں میرے گھر آجاتی ہے؟ اس وقت اس کے آگے تو میں کام والی ہی لگتی ہوں گی، جبھی تو عرفان کو وہ پسند آگئی؟ مگر پھر بھی دیکھو! عرفان نے میری محبت کو کس پر ترجیح دی ہے؟ اس گھر کو بنانے سجانے میں دن رات ایک کردیا۔ گرد کی ایک تہہ بھی نظر نہیں آئے گی تمہیں۔" شرمین نے پھر رونا شروع کردیا۔

"جو گرد تم نے خود جمع کی ہے، اس کو صاف بھی خود کرو ۔ گھر کے کام اتنے ضروری نہیں ہوتے جتنی شوہر کو توجہ، الفت ، محبت اور لگاوٹ ضروری ہوتی۔ محبت بھی اظہار
چاہتی ہے۔ تم کو لگا شادی ہوگئی، بچہ ہوگیا، اب سب ختم؟ ازدواجی زندگی کا حسن اس طرح گہنا جائے گا، مانند پڑ جائے گا۔ اسے تو ہر روز چمکانے کی ضرورت ہے۔ میں جو کچھ تمہیں کہہ رہی ہوں اس کو سمجھو غور کرو۔ عرفان بھائی پر ان کی غلطی ظاہر کرنے سے پہلے اپنی غلطی درست کرو۔ اپنے اندر مثبت تبدیلی لاؤ، پھر دیکھو۔ میں بھی اپنے شوہر صاحب سے بات کرتی ہوں عرفان بھائی کو سمجھانے کی ۔ چلو! اب اچھی سی چائے بناؤ، ملکر پیتے ہیں۔ مجھے گھر بھی جانا ہے ۔"

" تم ٹھیک کہہ رہی ہو نائلہ! مجھے پہلے خود کو بدلنا ہوگا، تانیہ کو تو بعد میں دیکھوں گی ۔ شرمین نے اپنے آنسو صاف کیے اور اندر کی طرف چل دی۔

(نوٹ: قارئین اپنی ازدواجی زندگی پر بھی نظر رکھیں، کہیں کوئی تانیہ آپ کے آس پاس بھی تو نہیں؟")

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.