ملک بچاؤ، اسلامی نظام لاؤ - حبیب الرحمٰن

کسی بھی ریاست کے برقرار رہنے کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم کسی نہ کسی نظریے پر متفق ہے۔ دنیا میں کوئی ملک قائم ہی نہیں رہ سکتا جس میں رہنے والے زبان، نسل، مذاہب اور علاقائیت کے اختلافات کے باوجود کسی ایک طرز معاشرت پر متفق نہ ہوجائیں۔ چین کے عوام "کمیونزم" پر اتفاق کرتے ہیں، تو روس "سوشلزم" کے نعرے سے اپنے عوام کو جوڑے بیٹھا رہا۔ اسی طرح بھارت میں "جمہوریت" کا نام لے کر عوام کو مطمئن رکھا جاتا ہے۔ دوسری بہت سی ریاستیں "مذہب، رنگ، نسل یا علاقائیت" کی بنیاد پر اپنے وجود کو سنبھالا دیے ہوئے ہیں۔ مذہب کے نام پر قائم ہونے والی ریاستوں کے لیے بھی اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ "مسالک" میں بٹی ہوئی نہ ہوں۔ اس لیے کہ مسالک بھی کسی مملکت کی تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں جیسا کی ہم کئی اسلامی مملکتوں میں اس تقسیم کو بہت شدت کے ساتھ ابھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

دنیا کا کون سا ملک ہے جس میں صرف ایک ہی قوم رہتی ہو اور دوسری کسی قوم کا وجود ہی نہ ہو؟ لیکن پھر بھی ایسی ریاست کو متحد رکھنے کے لیے آخر کوئی تو نظریہ موجود ہوتا ہوگا، جس پر وہاں کی عوام کا اجماع و اتفاق ہوتا ہوگا؟ کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوگا تو پھر فتنہ وفساد ہی باقی رہ جائے گا اور ریاست ختم ہوجائے گی۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے حصول کے لیے "اسلام" کے نفاذ کو مقصد بتایا گیا تھا مگر اس کے قیام کے بعد یہاں ایک دن کے لیے بھی اسلام کو نافذ نہیں کیا جاسکا۔ برصغیر کے مسلمان اسلام کے شیدائی تھے اور ہیں، لہٰذا یہاں جب بھی کسی فرد نے اسلام کا نعرہ لگایا، مسلمان اس کے پیچھے ہو لیے اور یہ نہیں سوچا کہ نعرہ لگانے والا شخص اسلام کے ساتھ کتنا مخلص ہے؟

1857ء کی جنگ آزادی کو تاریخ کیسے فراموش کر سکتی ہے؟ مسلمان دین کے نعرے پر اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کوئی فرد ایسا نہیں تھا جو اپنا سر ہتھیلی پر لے کر نہ گھوم رہا ہو۔ آزادی کی تحریک کی ناکامی کے جو بھی اسباب رہے ہوں، لیکن تاریخ میں کہیں بھی یہ حوالہ نہیں ملے گا کہ مسلمانوں کو اس پر کوئی پچھتاوا رہا ہوگا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی یہ جدوجہد خالص مذہبی فریضہ سمجھ کر کی گئی تھی۔ یہی قربانی کا جذبہ اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب ترکی میں "خلافت" کو خطرہ ہوا۔ ترکی کی خلافت ختم ہونے کا برصغیر پر براہ راست بہت کم اثر پڑنا تھا۔ مگر اس سوچ سے آزاد ہو کر مسلمانان ہند نے ترکی کی خلافت کی پر زور حمایت اس انداز میں کی کہ مسلم لیگ کی تحریک بھی پس پردہ چلی گئی اور "تحریک خلافت" پورے بر صغیر کی سیاست پر چھا گئی۔ اسلام سے اسی والہانہ محبت کی وجہ سے ہی مسلم لیگ کے نعرے کو عروج ملا۔ کیونکہ جونہی مسلمانوں کے کانوں میں یہ صدا گونجی کہ اب ہماری جد وجہد ایک ایسے خطہ زمین کے لیے ہوگی، جس میں صرف اور صرف "اللہ اور اس کے رسولؐ "کا قانون چلے گا۔ مسلمانان ہند نے اس کے قیام کو گویا فرض سمجھ لیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور طریقے سے جت گئے۔ بڑے مقصد کے لیے جان ومال اور عزت وآبرو کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ اسی لیے جان و مال اور عزت وآبرو کے نقصان کی پرواہ کیے بغیر مسلمانان ہند اس جہاد میں شریک ہوئے اور آخر کا اپنے لیے ایک الگ خطہ زمین حاصل کر ہی لیا جسے آج "پاکستان" کہا جاتا تھا۔

دنیا کے دیگر بے شمار ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بہت سی قومیں پائی جاتی تھیں۔ بنگالی زبان بولنے والے تو اتنی اکثریت میں تھے کہ اس وقت ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی بنگالیوں پر مشتمل تھی۔ اس کے علاوہ وہ ہم سے ایک ہزار میل سے بھی زائد فاصلے پر تھے۔ اس دُوری کے باوجود دونوں قومیتیں صرف "لا الہ الا للہ"کے نعرے پر ہی اکٹھی تھیں۔ ورنہ ان کے درمیان کوئی ایک قدر بھی مشترک نہیں تھی لیکن جس مقصد کے لیے ان دونوں اقوام کا اجماع ہوا تھا وہ پورا نہ ہوا تو پھر ان کا اتحاد بھی ختم ہوگیا اور یوں قیام پاکستان کے پچیس برس بعد پاکستان کا مشرقی بازو پاکستان سے الگ ہوگیا۔

بد قسمتی یہ ہے کہ اس کے باوجود ہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اور بجائے اس کے کہ ہم "نظامِ اسلام" کی جانب پڑھتے اور ان مقاصد کی جانب پیش قدمی کرتے جس کے لیے اس مملکت کو حاصل کیا گیا تھا۔ ہم روز بروز "اللہ اور اس کے رسولؐ "کے احکامات سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔

میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ کسی بھی ملک کے استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں بسنے والی ساری قومیں کسی ایک "نظریے" پر متفق ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو ملک بے شمار اکائیوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ کسی زمانے میں اسلامی ریاست کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اس ریاست میں "عرب، ترک، ایرانی اور افغانی" ہر طرح کی قوم موجود تھی لیکن پھر بھی وہ ریاست اس وقت کی سپر پاور سمجھی جاتی تھی کیونکہ اس ریاست کی بنیاد ایک مضبوط نظریے پر استوار تھی لیکن جوں جوں اس نظریے سے دوری ہونے لگی، مملکت اسلامیہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتی چلی گئی۔

پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا، اسلام سے دوری نے اس کو تقسیم کا شکار کیا لیکن اس کے باوجود یہاں بسنے والوں کے دلوں سے اسلام کی محبت نہیں گئی۔ ایوب خان کے زمانے میں جو تحریک چلی اس کا بنیادی محرک بھی اسلام کی محبت ہی تھی۔ بھٹو کے خلاف بھی اسی نعرے نے قوم کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا۔ جب روس افغانستان میں داخل ہوا تو اسی نعرے پر لاکھوں فرزندان توحید روس کے خلاف جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور اس بہادری سے لڑے کہ روس کو افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ پھر یہی وہ نعرہ تھا جس نے "متحدہ مجلس عمل" کو ملک کے طول و عرض میں کامیابی دلائی۔ دوصوبوں میں اسے صوبائی حکومت ملی مگر اس نے بھی شرعی نظام کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ اس نعرے کا سہارا لے کر ووٹ مانگنے والوں سے بار بار دھوکہ ملنے کی وجہ سے اب قوم اسلام کا نام لینے والی ہر پارٹی اجتناب کرتی ہے۔

اسلام کے بعد ریاست اور ریاست کے بعد جمہوریت کی بات آتی ہے۔ مگر قوم اب تک یہی فیصلہ نہیں کرپائی کہ جمہوریت یا آمریت میں سے کیا بہتر ہے؟ جب جمہوریت آتی ہے تو لوگ مارشل لا کی دعائیں مانگتے ہیں اور جب مارشل لا گلے پڑجاتا ہے تو پھر سے جمہوریت کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ لیکن اپنے مقصد یعنی پاکستان کا مطلب کیا "لا الہ الا للہ" کی جانب پھر بھی پلٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ملک میں احتساب کے نام پر تحریک کا آغاز ہوا تو صوبہ "خیبر پختونخوا" کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ پٹھان ہیں اور غیور پٹھان ہونے کے ناطے اگر ان کو روگا گیا تو وہ پھر کوئی اور مطالبہ کر دیں گے۔ قوم حیران تھی کہ پھر اور کوئی مطالبہ کیا ہو سکتا ہے؟ گو کہ قوم اس لفظ کی گہرائی سے خوب اچھی طرح واقف ہے لیکن پھر بھی حسن ظن سے کام لیتے ہوئے خاموش تھی کہ چلو یہ بات یوں ہی جوش میں کہہ دی ہوگی۔ لیکن یکم نومبر 2016 کو انہی وزیر اعلیٰ کے ایک جلوس سے خطاب کے دوران جو ان کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب رواں دواں تھا، صاف لفظوں میں "آزادی" کے نعرے بھی لگادیے گئے۔ یہ نعرہ پاکستان میں نیا نہیں ہے، بلوچستان اور سندھ میں بھی "قومیت" کی بنیاد پر اس طرح کے نعرے لگائے جاتے رہے ہیں۔ کراچی میں بھی اس نعرے کی گونج سنائی دیتی رہی ہے۔

بات یہ ہے کہ پاکستان جس نظریے پر بنایا گیا تھا اس کا وصال تو 1947ء میں ہی ہوچکا تھا۔ اب اگر کوئی دوسری چیز اتفاق کا سبب بن سکتی ہے تو وہ پاکستانی ہونا ہے۔ "سقوط بنگال" سے عبرت پکڑ کر اگر اسلام پر نہیں تو پاکستان پر ہی متفق ہوجانا چاہیے۔ لیکن اب جس تیزی کے ساتھ ہم علاقائیت اور لسانیت کی جانب بڑھ رہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ خدانخواستہ ہم مزید کسی سانحے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔