ڈاکٹر شاہد مسعود کا مؤقف ، ہم کیا کریں؟ - حافظ یوسف سراج

ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب نے ایک شاندار اُٹھان سے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا۔ 'میرے مطابق' ان کا شاید پہلا پروگرام تھا۔ یہ ایک جاندار اور جارحانہ پروگرام تھا۔ مشرف دور میں یہ عتاب کی زد میں بھی آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کالم بھی لکھا۔ ان کے کالمز کو بھی شہرت ملی۔ ڈاکٹر صاحب نے ٹی وی پر مذہبی کونٹینٹ بھی پیش کیا۔ قیامت کے موضوع پر ڈاکٹر صاحب کا پروگرام اور پھر اس کی سی ڈی بہت دیکھی گئی۔

پھر بتدریج ڈاکٹر صاحب کے کچھ فیصلے انہیں پیچھے دھکیلتے چلے گئے، پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ڈاکٹر صاحب چھوٹے چینلز پر دیکھے جانے لگے اور پھر یوں ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کے دعوے بہت بڑے بڑے، عجیب و غریب اور تجزیے اکثر غلط ہونے لگے۔ آہستہ آہستہ ڈاکٹر صاحب خود پر عوام کے اعتبار اور اعتماد کا لیول کم کرتے گئے۔

پھر حال ہی میں قصور کی زینب کا بہیمانہ قتل ملک کے در و دیوار ہلا گیا۔ یہ قصور کی تیرہویں بچی تھی جو اس انجام کو پہنچی۔ اس پر عام آدمی چیخ اٹھا۔ سوشل میڈیا نے ایسی منظم اور مرتب مہم چلائی کہ میڈیا اور حکومت کو توجہ دینا پڑی۔ آئی ایس آئی، ایم آئی اور دیگر ضروری اداروں کے کارکنان پر مشتمل جے آئی ٹی بنی۔ چودہ روز بعد قاتل پکڑا گیا۔ قاتل عمران نامی بظاہر عام ساجنونی درندہ نکلا۔ اس کے حلیے اور احوال سے لگا کہ یہ ایک جنونی شخص ہے، جو اپنے چند دوستوں کے ذریعے یا اکیلا ہی یہ گھناؤنا جرم کر رہا تھا۔ کل 13 بچیوں میں سے 8 بچیوں کے ساتھ اس کا ڈی این اے میچ کر گیا۔ لوگ اتنی کارکردگی پر مطمئن ہو کر اگلے مراحل کا انتظار کرنے لگے۔

یہاں ڈاکٹر صاحب نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مجرم قطعی عام شخص نہیں، یہ (مغربی دنیا کے اعتبار سے) انڈر ایج بچوں کی پر تشدد جنسی فلمیں بنانے والے بہت بڑے بین الاقوامی مافیا کا محض ایک ادنیٰ کارندہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق اس شخص کے اپنے نام سے چالیس ملکی اور کئی غیر ملکی اکاؤنٹس بھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ذرائع کی بنیاد پر دعویٰ کر دیا کہ بچوں کی گھناؤنی فلمیں بنانے والے اس نیٹ ورک میں ایک وفاقی وزیر بھی ملوث ہے۔

سپریم کورٹ نے ڈاکٹر صاحب کوطلب کر لیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ ناموں پر مشتمل لسٹ عدالت عالیہ کو پیش کردی۔ ڈاکٹر صاحب نے ملزم کے اکاؤنٹس کی لسٹ بھی پیش کی۔ میڈیا پر ایک فہرست ڈاکٹر صاحب کی پیش کردہ 'مجرم کے اکاؤنٹس کی فہرست' کہہ کر غلط قرار دے دی گئی اور بھی بہت سوال اٹھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس لسٹ کو کوئی دوسری لسٹ قرار دے دیا اور بتایا کہ ان کی لسٹ دوسری ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے سورس پر سو فی صد یقین ہے۔ ان کے پاس اس کے مزید ثبوت بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بالفرض اگر میرا شک ایک پرسنٹ بھی درست ہے تو حکومت کا تحقیق کرنے سے کیا جاتا ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا، آپ مجھے چھوڑ دیں، میری وجہ سے نہیں ، کیس کی حساسیت اور میرے دعوے کی ہولناکی کی وجہ ہی سہی تحقیقات ضرور کیجیے۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ انہوں نے عدالت کے سامنے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ مجرم کو پولیس کسٹڈی میں مار دیا جائے گا، یا اس کی خود کشی بھی ترتیب دی جا سکتی ہے تاکہ پس پردہ بڑی مچھلیوں کا تحفظ ہو سکے۔ یہ سب بہت ہولناک اور ہوشربا انکشافات یا دعوے ہیں۔

عدالت نے اس معاملے کی منگل کے روز دوبارہ سماعت کرنا ہے۔ میرا خیال ہے، اس معاملے کی سب سے اہم بات یہ ہےکہ سپریم کورٹ نے اسے نوٹس کر لیا، اب بات ہوا میں نہیں رہےگی، سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا؟ یقیناً حقائق سامنے آجائیں گے۔ میرا خیال ہے، اس وضاحت کے بعد ڈاکٹر صاحب کی سابقہ خبروں سے اس خبر کو الگ کر کے دیکھا جانا چاہیے۔ اس لیے کہ اس پر سپریم کورٹ نے توجہ دی اور ابتدائی بات سننے کے بعد اسے قابل سماعت بھی گردانا ہے۔ یقیناً اگر کچھ سامنے آنے والا ہے تو اسے ضرور سامنے آنا چاہیے۔ اسی میں قوم کا بھلا ہے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */