تائی بیسو (2) - سائرہ ممتاز

پچھلی قسط

تو اب کی بار خالہ نے اسے، جب وہ اپنا ایک عجیب سا خواب سنا رہی تھی، کہا تائی بیسو کو دو تین مرتبہ رسول اللہ کی زیارت ہوئی ہے۔ یہ بات اس نے یوں سنی گویا نہ سنی ہو! دل میں مختلف خیال آئے گزر گئے۔ ہر مشہور وہابی مولوی ہر مشہور سنّی و شیعہ خطیب کے بیانات ذہن کے پردے پر سراسرائے اور لہرائے، مشہور زمانہ گستاخان نبوت کی باتیں، ایک مشہور عالم دین پر اسی حوالے سے جھوٹ بولنے پر لگنے والے الزام اسے درست محسوس ہونے لگے۔ گویا ہر دوسرا بندہ خوابوں کے حوالے سے اتنے رواں جھوٹ کیسے گھڑ لیتا ہے اور یہ کیسا دور ہے جس میں ہر بندے کو چاہے وہ متقی و پرہیز گار ہو یا کسی رنڈی خانے کا پرانا گویا ہو ایسے خواب کیسے آسکتے ہیں؟ (معاذ اللہ)۔ کچھ جھوٹ سچ گھڑنے کی اس قوم کو بیماری لاحق ہو چکی ہے۔ پردۂ دل پر کہیں ایک کونے میں کسی باریک ہلال کی طرح یہ خیال بھی جگمگایا تھا کہ اب یہ ان کی مرضی اور ان کے رب کی مرضی ہے جس کسی پر راضی ہو جائیں۔

اگلا دن طلوع ہونا مشکل تر ہو گیا لیکن وہ پھر بھی تائی بیسو کے گھر جانے کی ہمت نہ کر پائی البتہ پڑوس میں بانو بی بی جو رشتے میں اس کی خالہ تھی، کے گھر چلی گئی اور پھر وہاں اس کے جانے کے دس منٹ بعد تائی بھی آ موجود ہوئیں۔ اس نے کنکھیوں سے ان کی جانب دیکھا۔ ناک کے چوڑے نتھنے اور ماتھے کی شکنیں کسی ایسی بات کی خبر دے رہی تھیں جس نے تائی کو طیش دلایا تھا۔

"نوں میں تو اس نگوڑ ماری نوں دسیوں باری بتایا تھم نے بی بی کوئی نواں بچہ نا جمیا ماہنے دس جمے ماری تو کوئی نا کمر ماں درداں ہوں"۔

تائی نے انگوٹھے پر جما کتھا دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے سے کھرچتے ہوئے ماتھے پر بل دے کر کہا۔

"بیسو آج کل کی چھوکریاں جان بوجھ کر نازک مزاج بنتی ہیں تم مت کیا کرو، جب دیکھے گی کوئی نہیں کر رہا تو خود ہی کر لے گی۔ " حسب سابق دندان شکن مشورہ موصول ہوا۔

" نہ بی بی ساری زندگی کم ای کرے ماں نے، اِب چٹے جھاٹے ماں سواہ ڈلوا لوں۔ حرام کی جنی بالے نوں گھرکیاں دے، اس نوں بھڑکاوے نا بی بی جب تک کر سکوں کروں۔ "

دوسری طرف مہاندرے پر بے تحاشا شکنیں اور ازلی تناؤ نمودار ہو چکا تھا۔ اتنے قیمتی مشورے کی ایسی ناقدری؟

اس نے ایک ایک نظر دونوں چہرے دیکھے پھر تائی کی طرف دیکھ کر کہا " دادی سنا ہے آپ نے کوئی بہت ہی مبارک خواب دیکھا ہے ؟ "

تائی نے اپنے پان سے رنگین دانتوں کی نمائش کی سر کے وہ چند بال جو سفید تھے اور چنی سے جھانک رہے تھے، انھیں چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ہاں بس یہ تو اللہ کی مرجی ہے میری تی، تیں پڑھی لکھی سمجھدار ہے نوں گل سمجھ لیوے کل آئیو یا فیر میں آ جوں گی تنے دسوں کھاب تاں ایسا سا کسی نے نئیں دیکھیا ہونڑا۔ "

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ

پھر وہ چلی گئیں اور بانو بی بی بڑبڑاتی رہی، گلاں دا کھٹیا کھاندی بیسو جتنے مرضی جھوٹ بلوا لو گل تے گل مارنا تاں ایہدا پیدائشی حق اے" ہونہہ ساری دنیا ای خاب ویکھدی۔

اس نے ساری رات درود تاج پڑھتے ہوئے ایک دھیمی سی چنگاری بھڑکانے کی کوشش کی مگر یہ سب کوششوں سے ملتا تو ہر بندہ یہاں پیر فقیر اور متقی ہوتا۔ پھر تو داڑھی کا تنکا اور بکل کا چور ذرا جلدی بھی دکھ جایا کرتے!

اگلی سویر وہ تڑکے ہی تائی کے گھر جا دھمکی۔

السلامُ علیکم دادی!

"وعلیکم السلام میرے بچے آ جا بیٹھ۔ "

"دادی! وہ آپ نے کیا دیکھا تھا کہ انھیں دیکھا تھا، سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ آپ نے ان کو دیکھا ہے اور اگر دیکھا بھی ہے تو یہ بات ہر ایک کو بتائی نہیں جاتی" اسے دل میں کہیں تائی کے خواب کی بے قدری کا ملال بھی تھا۔

نا میری بچی، تائی نے گئے وقتوں کا سنبھال کر رکھا ہوا پاندان کھولا اور پتے پر چونا لگاتے ہوئے بولی۔

" دیکھ بی بی! جوٹھ نا بولوں، میں کٹر وہابی ہوں اصلی وہابی (ہیں؟ تائی کب کہ وہابی ہوگئی؟ اچھے خاصے اہل سنت ہیں یہ لوگ) مانوں بی بی بڑا سوق تھا کہ جندگی ماں اک واری مدینے کا سہر دیکھ لوں۔ اللہ کا گھر دیکھ لوں میری بات کا برا نا مانیو، تھم لوگ شیعہ ہیں نا۔ میری کسی بات کا برا نا ماننا نوں یہ پٹکا کرنا گناہ ہووے۔ ہم نا مانیں اس نوں پر گیارہویں سریف کی نیاز میں پکواؤں اور دسویں کی دلیم بھی، وہی کھچڑا کہویں جسے۔ "

" تائی دلیم نہیں حلیم!" اس نے اپنے تئیں تصحیح کی اور تائی کی بے سر پیر کی گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

" نہ بی بی حلیم نا کہویں، حلیم اللہ کا نام ہووے درس ماں سنڑیا تا منے۔ "

" یا اللہ یہ امینمینٹ ابھی رہتی تھی دین میں؟" اسے دل میں حیرت ہوئی کہ ابھی تک یہ شوشا سوشل میڈیا پر بھی نہیں ابھرا؟

میں درس پا جاؤں ہوں میلاد بھی سنڑوں نیاز بھی بناؤں دسویں کی (خیر اس بات کی گواہ تو وہ خود تھی کہ موصل اور اوکھلی تائی اس کی دادی سے ہی مانگ کر لے جاتی تھیں اناج کوٹنے کے لیے۔ ) امام حسین نوں وی منو تے نبی پاک دے سارے صحابیاں نوں وی منو پر ہوں کٹر وہابی (اب کے اس نے ہنسی چھپانے اور قہقہہ پیٹ میں دبانے کی کوشش کی) بس بی بی یہ اس کے کام ہیں مجھ جیسی گریب ماں اس نوں کیا نجر آیا؟ سوئی تھی وضو کر کے عشاء کی سترہ رکعتیں پڑھ کر تسبیاں پڑھتی رہی سوئی تو دیکھا عین بڑا سا چاند ہے، بہت بڑا اتنا بڑا چاند کبھی نا دیکھا جندگی ماں اور ایک بڑا سا میدان ہے جس میں اکو اک درکھت ہے، جس تلے کسی کسی نوں آواج دے کے بٹھاویں ہر کوئی باری کے انتجار ماں کھڑا ہووے۔ ایک آواز سی آوے بسم اللہ بی بی آپ آگے آئیں۔ نوں میں ڈروں آگے جانے تے پر اس نے اللہ جانڑے جنڑا تھا جنانی تھی کوئی ہور مخلوق تی اس کا چیتا نا ہووے ماں نوں۔ اس نے ہتھ یوں پکڑا تے مینوں آگے بٹھا دیا بسم اللہ بی بی تیرا نمبر لگ گیا ہے۔ تو پھر بی بی میری آنکھ کھل گئی!

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 3 )

اس نے گھر جا کر فرداً فرداً ہر ایک سے تائی کے خواب کا ذکر کیا اور مختلف آراء سن کر اس کا دل بجھ سا گیا۔

بانو بی بی نے تو یہاں تک کہہ دیا بیسو اپنے کو بہت کچھ سمجھنے لگی ہے ایک بیٹا فوج میں میڈیکل شعبے میں نرسنگ ڈپارٹمنٹ میں بھرتی ہوگیا ہے دوسرے کا گوشت کا کام بھی اچھا چل نکلا، بیٹیاں بھی بیاہ دیں بیٹے بھی۔ اب تو گھر میں دو دو ڈیپ فریزر رکھے ہیں۔ بیٹا بھی چھوٹا گوشت کرنے لگ گیا ہے دوسرے والا بھی ٹی وی بھی آ گیا۔ اب بیسو وہ نہیں رہی۔ کہاں تو اس کو دس سے اوپر گنتی نہیں آتی تھی؟ اللہ بخشے ہمارے ابا سے سارا حساب کتاب کروا جاتی تھی اب تو کسی کو منہ نہیں لگاتی یہ۔ "

حاسد کے حسد کی تپش تندور کی گرمی کی طرح تین چار گز کے محیط پر محسوس ہوتی ہے۔ جس نے خود اپنی انا اور ضد میں اپنی اولادیں گھر میں بٹھائے رکھی ہوں جب کہ اوپر والے کا دیا بہت کچھ اس کے پاس ہو اس کا تائی بیسو سے جلنا بنتا تو نہیں تھا۔ لیکن حسد وہ آگ ہے جو خشک سینے جلدی بھڑکاتی ہے۔

پھر کچھ دن بعد وہ حیدر آباد واپس چلی گئیں۔ زندگی کی گاڑی ویسے ہی چلنے لگی۔ کچھ مہینے گزرے ایک دن بانو بی بی کا فون آیا۔ تپش باہر تک لپکتی تھی۔۔ بیسو عمرے پر جا رہی ہے۔ جس نے سنا دنگ رہ گیا۔ محلے بھر میں نامی گرامی لوگ تھے اونچے شملے والے زمینوں والے حساب کتاب والے،، منشی عالم فاضل سب یونہی مٹی میں جا سوئے تھے کسی کی اولاد کو نیکی نصیب نہ ہوئی کہ ماں باپ میں کسی ایک کو اللہ کا گھر دکھا دیتے۔ قرعہ نکلا بھی تو کس کے نام؟ تائی بیسو! جھوٹے خواب سنانے والی ایک قصاب کی بیوہ! ایک مزدوری کر کے گھر چلانے والی عورت؟

بسم اللہ بی بی تیر نمبر لگ گیا ہے!

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.