فقیر - عظمیٰ ظفر

گورنمنٹ ہسپتال کے ساتھ فٹ پاتھ پر جہاں آنے جانے والے لوگوں کا رش تھا، وہاں ایک کنارے بیٹھے طرح طرح کے فقیر بھی رنگ رنگ کی بولیاں بول رہے تھے۔ کسی کی کشکول میں چند خیراتی سکے تھے تو کسی کا خالی پیالہ منہ چڑا رہا تھا۔

بختیار اور اس کی بیوی ریشماں نے بھی اپنے بیٹے کے ساتھ کچھ دنوں سے وہیں ڈیرا ڈالا ہوا تھا۔ وہ گاؤں سے اپنے بیٹے کریم کے پیر میں ہونے والے زخم کا علاج کروانے آئے تھے جو مختلف جڑی بوٹیوں اور نیم حکیموں کے چکر میں کافی حد تک بگڑ چکا تھا۔ دھوپ کی شدت نے فٹ پاتھ پر لیٹے کریم کے زخم میں جیسے آگ بھر دی تھی۔ وہ درد سے اپنا پیر پٹخنے لگا۔ ہائے اماں! ہائے! ریشماں نے اپنے دوپٹے سے جو جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا، اس کو ہوا دی۔ بختیار بھی بےچین ہوکر اپنے بیٹے کو دیکھنے لگا۔

بڑے ڈاکٹر کے آنے کا وقت ہونے والا تھا۔ لوگوں کا رش بڑھنے لگا تو اس نے اپنے سر پر بندھے چھوٹے کپڑے کو اتار کر کریم کے سامنے پھیلایا اور کچھ ریزگاری اس پر ڈال دی۔ آتے جاتے لوگوں نے جب ہمدردی کی ایک نظر کریم پر ڈالی تو چند سکے اس رومال پر ڈالنے لگے۔ "وے بختیار! توبہ توبہ! تو نے فقیر بنا ڈالا میرے بچے کو۔ " ریشماں نے غیرت مندی دکھائی۔ "نی،، ریشماں! تین دن سے ادھر پڑے ہیں۔ ابھی روٹی کھانے کو پیسے نہیں ہیں۔"

اللہ سائیں! جانے ڈاکٹر کب کریم کا علاج شروع کرے گا؟ ریشماں نے پانی کے چند گھونٹ کریم کو پلائے اور دوپٹے سے زخم پر بیٹھی مکھیوں کو اڑانے لگی۔ کبھی وہ کریم کا ماتھا چومتی تو کبھی اپنے آنسو پونچھتی۔ تھوڑی دیر میں بختیار دو تین سو روپے جمع کر چکا تھا۔


کچھ دور فاصلے پر ایک ڈھونگی فقیر نے جب یہ منظر دیکھا تو برا سا منہ بنایا اور اپنی گدڑی اٹھا کر لنگڑاتا ہوا وہاں سے چلتا بنا۔ بختیار ایک چکر اسپتال کے اندر لگا کر آچکا تھا۔ ہڈی والا ڈاکٹر آج بھی چھٹی پر تھا۔ وہ مایوس ہو کر لوٹ آیا۔

"سنو! کیا نام ہے تمہارا؟" کسی نے بختیار سے پوچھا۔ اس کے سامنے وہی ڈھونگی فقیر تھا جو دو دن سے اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ کر بھیک مانگ رہا تھا۔ ابھی اپنی ٹانگوں پر ٹھیک حالت پر کھڑا تھا۔

"تم ابھی چلو ہمارے ساتھ، استاد نے بلایا ہے۔ " اس کے لہجے میں سختی تھی۔ کون استاد؟ بختیار نے اچنبھے سے پوچھا۔ ابھی چلو، سب پتہ چل جائے گا۔ بختیار ریشماں کو تسلی کا اشارہ دے کر اس کے ہمراہ ہولیا۔

وہ ہسپتال سے کچھ دور پیچھے ایک خالی پلاٹ میں داخل ہوئے، جس میں ایک گھنے درخت کے نیچے ایک چارپائی پر گھنی مونچھوں والا بارعب شخص بیٹھا تھا۔ کچھ لوگ اس کے ارد گرد کھڑے تھے۔ ایک لڑکا زمین پر بیٹھ کر استاد کی ٹانگیں دبا رہا تھا۔

"استاد! یہ ہے وہ شخص، جس نے میرا دھندا خراب کیا ہوا ہے آجکل،" اس فقیر نے غصے سے بختیار کو گھورتے ہوئے کہا۔ "ہوں!! " استاد نے منہ میں ماچس کی تیلی چباتے ہوئے سر سے پیر تک بختیار کو گھورا اور لمبی "ہوووں" کی۔

"دیکھ بھئی! یہ سارا علاقہ میرا خریدا ہوا ہے۔ اس جگہ کا کرایہ میں دیتا ہوں۔ دھندے میں بے ایمانی نہیں چلتی ہمارے ساتھ، بول! دھندا کرنا ہے تو اس جگہ کا پچاس روپے روزانہ دینا ہوگا۔ جتنی بھیک ملے گی، اس کا ایک حصہ میرا ہوگا۔ رات کو جمع کروانا ہوگا۔ ویسے میرے بندے دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں۔ آس پاس کی پولیس بھی تنگ نہیں کرے گی۔ بس اپنے کام سے کام رکھنا۔ سنا ہے تیرا پتر بڑی اچھی کمائی کرواتا ہے۔" استاد نے تیلی زمین پر تھوکی۔

"اللہ سائیں گواہ ہے جی، آج ہی کچھ پیسے ملے ہیں۔ ادھر ہم غریب اپنے بیٹے کا علاج کروانے آئے ہیں۔ اپنے گاؤں میں بڑا ہسپتال جو نہیں بابا! غریب ہیں، علاج کروا کے چلے جائیں گے۔ ادھر ہمارا کوئی ٹھکانہ بھی نہیں۔ ہم کو معاف کرو! ہم کہاں سر چھپائیں؟ رات کا ٹھکانہ بھی مشکل سے ادھر ادھر ملتا ہے۔ ہم واپس چلے جائیں گے ادا! تم غلط مت سمجھو۔ ہم کوئی فقیر نہیں۔ " بختیار نے گھبرا کر کہا۔

"میں سب سمجھا دوں گا۔ پہلے یہ بتاؤ اپنے بیٹے کا علاج کروانا ہے یا نہیں؟" استاد نے بختیار کی دکھتی رگ پر جیسے ہاتھ رکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی۔

"ادا! علاج کے لیے تو گاؤں سے ادھر آئے ہیں۔ تین دن سے چکر کاٹ رہا ہوں۔ پرچی پر پرچی بنتی ہے سو، سو روپے کی، پرنہ نمبر آتا ہےنہ بڑا ڈاکٹر آتا ہے۔ پریشان ہوگئے ہم تو، پیسے بھی ختم ہوگئے۔ بچے کو لے کر کہاں جاؤں؟" بختیار کی آنکھیں بھر آئیں۔

"بس اب تم پریشان مت ہو، جیسا میں کہتا ہوں ویسا کرو۔ ڈاکٹر سے میں بات کر لوں گا۔ میں سب کو جانتا ہوں۔ ادھر ہسپتال کے سارے ڈاکٹروں سے جان پہچان ہے۔ یہ جگہ اب تمہاری، کرایہ شیدا تمہیں سمجھا دے گا۔ چل جا شیدے! اپنی جگہ بدل لے بختیار سے۔ " استاد نے اپنی بات مکمل کی۔

شیدا ہکا بکا رہ گیا کہ استاد نے اس کی جگہ اتنے آرام سے کسی اور کو دے دی؟ ایک اجنبی کو جو پیشہ ور گداگر بھی نہیں۔ " پر استاد میں تو کتنے سالوں سے ادھر بھیک مانگتا ہوں۔ تیرے پیسے بھی پورے دیتا ہوں۔ یہ تو مت کر" شیدا منمنایا۔

"ابے چل! تجھ سے اچھا اس کا بیٹا ہے، ہزاروں میں کمائے گا۔ سمجھا کر، علاج کے بعد چلا جائے گا۔ جب تک رہن دے ہسپتال کے آگے۔ چل چل جا، اس کو کام سمجھا دے۔" استاد نے حتمی بات کہہ دی۔


بختیار واپس ریشماں کے پاس آگیا۔ کریم شاید سوچکا تھا۔ مکھیاں ابھی تک اس کے کھلے زخموں پر بھنبھنا رہی تھیں۔ رومال پر پھینکے گئے سکوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہوگئی تھی۔ کچھ دس بیس کے نوٹ بھی پڑے تھے۔ ریشماں نے بختیار کو دیکھا تو ناراضگی سے رخ پھیر لیا۔

تجھے کیا ہوگیا ریشماں؟ بختیار نے حیرت سے پوچھا۔

"میں پوچھتی ہوں تجھے کیا ہو گیا؟ بختیار گاؤں میں تو تو نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ اللہ سائیں جانتا ہے روکھی روٹی کھائی ہے، پر ہاتھ نہیں پھیلایا کسی کے آگے۔ اپنی بھینس کو بھی، کسی دوسری بھینس کا چارہ نہیں ڈالا تو نے اور اب ادھر لا چھوڑا فقیر بنانے کے لیے؟" ریشماں کے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "تجھے یاد نہیں مولوی چاچا جب ہمارے گھر آیا تھا تو کتنی اچھی باتیں بتا رہا تھا؟ رزق حلال کمانا عین عبادت ہے۔کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اللہ سائیں کو سخت ناپسند ہے۔ لوگ بھی نفرت سے دیکھتے ہیں۔ "

"او، نا! نا! ایسی بات نہیں۔ میں کوئی فقیر نہیں بننے آیا ریشماں! مجبوری ہے سرکاری ہسپتال کے علاوہ ہم کہاں سے علاج کروائیں گے؟ میں بات کرکے آیا ہوں جس آدمی سے وہ بڑا زور آور لگتا ہے۔ اس کی بات نہ مانی تو یہاں بیٹھنے بھی نہیں دے گا، سمجھی؟ اس نے کہا ہے وہ کریم کو دکھائے گا۔ بڑے ڈاکٹر کو جانتا ہے ادھر، بس جو وہ کہے وہی کرنا پڑتا ہے۔ جب تک ہم ادھر بیٹھ کر بھیک مانگیں گے، اس کے تھوڑے پیسے استاد کو دیں گے، باقی اپنے پاس رکھیں گے۔ ابھی تو علاج میں وقت لگے گا، اتنا پیسہ کہاں سے لاؤں گا؟ وہ کہہ رہا تھا کہ میری مدد کرے گا۔ شام کو ڈاکٹر سے ملوائے گا۔ اب تم پریشان مت ہو۔"

ریشماں کو اس کی بات ان کر کچھ حوصلہ ہوا۔ "مگر بس جیسے ہی کریم ٹھیک ہو جائے ہم گاؤں واپس جائیں گے۔" ریشماں نے کہا۔

کریم کی نیند بھی پوری ہوچکی تھی یا درد نے راحت سے اس کا رشتہ توڑ دیا تھا۔ وہ جاگا تو پھر اپنا پیر پٹخنے لگا۔ "ابا گھر چلو، مجھے حکیم کی دوا دے دو۔ بہت درد ہوتا ہے، ڈاکٹر تو سوئی لگائے گا۔" وہ ڈر سے بھی رونے لگا۔

"بس میرا بیٹا! سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں تیرے لیے میٹھی گولیاں لاتا ہوں۔" بختیار جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔


استاد کے ہمراہ بختیار کو بہت آسانی سے ڈاکٹر سے ملنے دیا گیا۔ "میں دوائیں لکھ رہا ہوں۔ پندرہ دن لگانی ہیں، گرم پانی سے زخم کو دھونا ہے اور صفائی کا بہت خیال رکھنا ہے۔ پندرہ دن تک زخم سوکھ جائے گا۔ دوا روکنی نہیں، مہینہ بھی لگ سکتا ہے علاج میں۔" ڈاکٹر نے استاد کی وجہ سے کریم کو اچھی طرح چیک اپ کیا تھا۔

ریشماں بختیار کو گود میں لے کر باہر نکلی تو بختیار نے ڈاکٹر سے پوچھا۔ "ڈاکٹر صاحب! میرے بچے کی ٹانگ تو نہیں کٹے گی نا؟ گاؤں میں سب یہی بول رہے تھے۔ میرے بچے کو آپ ٹھیک کردو گے نا ادا؟" ایک باپ کی حیثیت سے وہ سراپا التجاء بن گیا تھا۔

"دیکھو! میں صاف صاف بتادوں، چھوٹا سا آپریشن کرنا ہوگا۔ دو لاکھ تک خرچہ تو آئے گا۔ میرے کلینک پر آجانا، میں پیسے کچھ کم کردوں گا۔ استاد کے ساتھ آجانا۔" ڈاکٹر نے بختیار کے پاؤں سے گویا زمین کھینچ لی، وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔

ڈاکٹر نے اس کے خوف کو کم کرنے کےلیے تسلی دی "کچھ نہیں ہوگا، علاج ہوگا تو ٹھیک ہوجائے گا۔ جب تک کچھ انگریزی دوائیں لکھی ہیں وہ لازمی لگانی ہے ٹانگ پر، مہنگی سمجھ کر چھوڑ مت دینا۔" ڈاکٹر نے بختیار کو تفصیل بتائی۔

استاد نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔ ہسپتال کی راہداری میں چلتے ہوئے استاد نے بختیار کو ایک مرتبہ پھر کریم کے ذریعے بھیک مانگنے پر آمادہ کیا۔

"دیکھ بختیار!" استاد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا "ہمارے پیشے میں لوگ ہمدردی کی وجہ سے صدقہ خیرات دیتے ہیں۔ تیرے بیٹے کا زخم جب تک ٹھیک نہیں ہوجاتا وہ سمجھ ہیرا ہے ہیرا، ایسے معذور بچوں کو زیادہ بھیک ملتی ہے۔ تو پیسے جمع کر اور آپریشن کروا لے، اگر ٹانگ کٹ گئی تب بھی تو علاج کروائے گا نا؟ چل تجھے چائے پلواتا ہوں۔


"ڈاکٹر نے کیا بولا ہے بختیار؟" ریشماں نے اس کے چہرے کی مایوسی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

بختیار کسی گہری سوچ میں تھا۔ "دیکھ ریشماں! دو لاکھ روپے جمع کروانے ہیں، تب ہی علاج شروع ہوگا کریم کا۔"

"دو لاکھ؟" ریشماں نے پھٹی آنکھوں سے بختیار کو دیکھا۔

"اس لیے میں نے سوچا ہے میں گاؤں جاتا ہوں، اپنی سائیکل اور بھینس بیچ دوں گا۔ برادری والوں سے بات کرتا ہوں جو بھی انتظام ہوگا وہ کروں گا۔ تو نے ادھر سے ہٹنا نہیں ہے۔ استاد نے رہنے کا بندوبست کر دیا ہے۔ دوسری عورتوں کے ساتھ تو بھی ادھر سو جانا۔ کریم کو دوا لگانی ہے روزانہ، میں استاد سے بات کرکے جاؤں گا۔"

"اللہ سائیں! اتنے روپے کون دے گا بختیار؟" ریشماں نے پریشانی کا اظہار کیا "مگر تم کچھ بھی کرو، ہم نے جلدی سے کریم کا علاج کروا کے گاؤں واپس جانا ہے۔ تم اماں سے کہنا میری بکریوں کو بھی بیچ دے کچھ تو پیسے ملیں گے مگر ہم فقیر نہیں بنیں گے۔ میرا بیٹا سکول میں پڑھے گا، اسے ہم بڑا آدمی بنائیں گے۔" ریشماں کے خواب کتنے اونچے تھے، بختیار جانتا تھا مگر گھنے درخت کے نیچے پریشان ان فقیروں کی حالت کوئی نہیں جانتا تھا۔


بختیار نے استاد کے سامنے ساری صورتحال رکھ دی۔ اتنی بڑی رقم کا فوری بندوبست کرنا بہت مشکل تھا۔ مگر جو حل استاد نے اسے بتایا، اسے سن کر بختیار سناٹے میں آگیا۔"تو اچھی طرح سوچ لے۔ گاؤں سے واپس آجا، پھر بات کریں گے۔" استاد نے بختیار کو رقم کے حصول کا جو طریقہ بتایا وہ قابل رحم تھا۔

بختیار گاؤں جاکر جو بیچ سکتا تھا، بیچ کر چار دن میں واپس آگیا۔ سامان اور بھینس بک گئی مگر پیسے بہت کم تھے۔ وہ ریشماں کے پاس جانے کے بجائے سیدھا استاد کے پاس گیا۔ وہ راضی تھا اس کام کے لیے جس کا استاد نے اسے کہا تھا۔ رقم اکھٹی کرنا، اس کی مجبوری تھی اور استاد کو اپنا کام بخوبی نکلوانا آتا تھا۔


"اللہ کے نام پر دے جا ادا!"

"اللہ تیرے سر کے سائیں کو*حیاتی دے بی بی! تیرے بچے راج کرن سدا! اللہ کے نام پر کوئی روپیہ، کوئی صدقہ؟" ریشماں کی آواز میں آنسوؤں کی آمیزش تھی۔ اس کی صدا ہر منٹ بعد بلند ہوتی۔ سارے فقیر رنگ رنگ کی بولیاں بول رہے تھے۔

بیس، پچیس دن کے بعد بختیار لوٹ آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کھلونے تھے، کچھ پھل تھے۔ کریم اسی فرش پر لیٹا تھا، ایک بیساکھی اس کے قریب پڑی تھی۔

"کدھر چلا گیا تھا تو بختیار؟" ریشماں نے اسے دیکھتے ہی پوچھا۔

"یہ دیکھ! تیرے بیٹے کا سارا درد ختم ہوگیا" ریشماں نے کریم کی ٹانگ سے کپڑا کھینچا۔

اس کی ٹانگ کٹ چکی تھی۔

"یہ؟ یہ کیا ہوا؟ کس نے کیا؟" بختیار نے بے چین ہوکر پوچھا۔

استاد نے اپنا آدمی بھیجا تھا کہ بڑے ڈاکٹر نے کریم کو آپریشن کرنے کے لیے بلایا ہے۔ پھر دو دن بعد جب یہ واپس آیا تو ہسپتال کے بستر پر تھا، مگر اس کی ٹانگ نہیں تھی۔

"تو نے اتنی دیر کیوں لگادی آنے میں؟" ریشماں نے اس کا گریبان پکڑ کرنوچا۔ "دیکھ ہم سچ مچ کے فقیر بن گئے، لولے لنگڑے فقیر، فقیر بن گئے!" ریشماں الٹا سیدھا بولنے لگی۔

بختیار سوچ رہا تھا کہ وہ بھی تو اسی ہسپتال میں تھا۔ اس نے استاد کے کہنے پر عمل کرتے ہوئے اپنا ایک گردہ بیچ دیا تاکہ کریم کا علاج ہوسکے اور ڈاکٹر کو دینے کے لیے استاد کو پیسے بھی دے دیے کیونکہ ڈاکٹر نے صرف آپریشن کا کہا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح کریم کی ٹانگ کٹنے سے بچ جائے گی۔ مگر استاد کسی اور سے کچھ اور ہی سودا طے کر چکا تھا۔

استاد نے کریم اور بختیار کا استعمال ایسا کیا کہ انہیں سچ مچ کا فقیر بنا دیا۔ بختیار نے رومال سر سے اتار کے سامنے پھیلا دیا، اب وہ بھی صدا لگا رہا تھا۔ ریشماں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔

ڈاکٹر سے لے کر مریض تک یہاں سب ہی فقیر تھے۔

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.