اک آسکر تمہارے نام ہوجائے - مصباح الامین

گزشتہ شام اپنے معمولات سے فرصت ملی،تو سوچا چند گھڑیاں "آفتاب ڈھلنے" کے منظر سے لطف اندوز ہوا جائے۔ تا کہ دن بھر کی تھکاوٹ اور طبیعت کا بوجھل پن دور ہوجائے۔اس مقصد کے لیے گھر کی چھت پر جا پہنچے اور روئے سخن آفتاب کی جانب کیا جو دن بھر کی بھڑاس نکال کر کہیں ڈوبنے کو بیتاب تھا۔ "گھونسلوں" کو لوٹتے "پرندوں" کی ٹولیوں اور ڈوبتے سورج کے حسین منظر نے دن بھر کی تھکن مٹادی۔

ابھی اسی منظر کو جی بھر کے دیکھ بھی نہ پائے تھے کہ گلی کی نکڑ پر نگاہ پڑی۔ جہاں بچے دنیا کی تمام فکروں سے آزاد کھیل کود میں مگن تھے۔اچانک میری نظر اپنے "مہربان" پر پڑی۔ جو اپنے چہرے کو جھکائے تیز قدموں کے ساتھ گلی میں داخل ہورہے تھے۔ ان کے اٹھتے قدموں کی اضطراری چال سے لگ رہا تھا کہ موصوف آج کسی خاص الجھن کا شکار نظر آتے ہیں۔

ہمارے "مہربان " اکثر بے وقت آوارد ہوتے ہیں اور ہمارے تھکے ہارے کمزور دماغ کی اچھی خاصی ورزش کروا جاتے ہیں۔خدا جانے کہاں سے عجیب و غریب سوالات لے کر ہمارا امتحان لینے پہنچ جاتے ہیں۔اور جب ہم سے کوئی جواب نہ بن پائے تو پھر ہمیں خفگی سے گھورتے ہوئے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔انہیں دیکھ کر ہم نے ڈھلتی شام پر الوداعی نگاہ ڈالی اور چھت سے نیچے آتے ہوئے آنے والے لمحات کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگے۔

جیسے ہی ہم نیچے اترے ہماری سماعت سے ان کی آواز ٹکرائی"ارے کہاں سے آرہے ہو،لگتا ہے لکھنے لکھانے کا کام چھوڑ دیا ہے"۔

نہیں جناب!لکھنا کیسے چھوڑ دیں؟یہی تو ہمارے "رزق" کا ذریعہ ہے۔ ہم نے جلدی سے انہیں وضاحت دی۔

تو میاں،پھر یہ چہل قدمی کیسے؟پہلے تو آپ کو کبھی اتنی فرصت نہیں ملی،انہوں نے ایک اور سوال کردیا۔

جی وہ آج کچھ تھک گئے تو سوچا کہ کچھ دیر تازہ ہوا میں جاکر بیٹھ جائیں۔ہم نے اپنے بچاؤ کے لیے جواز پیش کیا۔

چچ چچ چچ۔بہت افسوس ہے برخوردار۔انہوں نے گھورتی نگاہوں سے گردن دائیں بائیں ہلاتے ہوئے کہا۔

لکھاری ایسے نہیں ہوتے۔ جو اس حال میں تفریح کرتے پھریں کہ معاشرہ ان کی رہنمائی کو ترس رہا ہو۔جب مایوسی ہر طرف چھائی ہو۔یاد رکھو کہ ان فضاؤں میں پھیلی تاریکی کو تمہارے قلم کی روشنائی سے پھوٹتی کرنوں کا انتظار ہے۔اس دھرتی کی پریشانیاں تمہاری تحریر کی رہنمائی کی منتظر ہیں۔

آج ایک تحریر ایسی لکھو جو دلوں پر نقش ہو جائے۔جس کے پیغام سے اس معاشرے میں محبت کی چاشنی پھیل جائے۔جاؤ اور جاکر محبت کا قلم اٹھاؤ اور خلوص کے لفظوں سے ان کا دل بہلاؤ جن کے پاس ڈوبتے سورج کو اپنے غم سنانے کا موقع نا ہو۔ایک ایسی کہانی لکھو جس کی وجہ سے مایوس ذہنوں کو پھر سے جینے کا بہانہ مل جائے۔کافی دیر تک ہم سر جھکائے ان کی بات پر غور کرتے رہے اور جب ہماری طبیعت سنبھلی تو شام کے اندھیرے میں "مہربان" نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے۔