بہت دیر ہو گئی - ہمایوں مجاہد تارڑ

ہر بات، ہر موضوع، ہر اچھی بری خبر اپنی تاثیر کھو چکی۔

بس یہی خبر چاہیے ـــــ زینب کے قاتل کہاں ہیں؟ اتنی دیر کیوں ہوگئی؟ اِس ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے تو یہ 24 گھنٹوں کا کام تھا۔ ایک معمولی سی چھپن چھپائی کا کھیل تماشا ـــ اور بس!

کیا اِس اجلی صبح نئے موضوعات پر بات شروع ہو جائے گی؟ کیا ہم زینب کو بس ایک موضوع سمجھ کر، چار عدد فیس بکی پوسٹوں کا مواد سمجھ کر بھول جائیں گے؟ کوئی جماعتِ اسلامی، کوئی قادری گروپ، کوئی تحریکِ انصاف وہاں جا کر بیٹھ کیوں نہیں گئی؟ اِس پکار پر ایسا دھرنا تو بڑا تاریخی ہوتا۔ عمران خان کے 2011ء والے جلسے سے بھی بڑا ــــ کہ اایسی پکار پر تو پُورا ملک اُمڈ پڑتا، ساتھ دیتا۔

سنو سنو سنو!
زینب کی چیخ سنو۔ اُس معصوم، سات سالہ بچی نے زور سے چیخ ماری ہے کہ اُس پر اچانک یہ بات کھلی ہے کہ ہاتھ پکڑ کر ساتھ چلنے والا انکل تو انسان کے روپ میں ایک درندہ تھا۔ اس درندے نے زینب کے کپڑے اتار ڈالے ہیں۔

سنو، زینب کی دوسری اور تیسری چیخ سنو ـــ جو اور بھی دردناک ہے۔ ڈارک ویب ورلڈ کے کیمرے کی آنکھ کو دستیاب لذّت آمیز مواد اُسے کس تجربے سے دوچار کیے دیتا ہے۔

سنو، زینب کی چیخ پکار اب سسکیوں اور ہچکیوں میں بدل گئی ہے۔ زینب بار بار دروازے کی جانب دیکھتی ہے کہ شاید ــــــ کوئی آ جائے۔ شاید عمران خان انکل آ جائیں۔ شاید ایکدم سے آرمی چیف کمانڈو کا لباس پہنے آ دھمکیں جن کے بوٹوں کی دھمک اور لب و لہجے کی گرج چمک سے ہی وہ چار پانچ لوگ ڈر سہم کر کانپنے لگ جائیں۔ شاید طاہرالقادری انکل لوگوں کا جم غفیر لیکر آ پہنچیں اور بند دروازہ توڑ ڈالیں۔ شاید سراج الحق کچھ نوجوان ہمراہ لیے اِس دروازے کو ایک ہی ہلّے میں گرا دیں۔ اور پھر اِن درندوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیں۔ شاید چیف جسٹس آف پاکستان اپنے خصوصی حکم نامے کے تحت کچھ فوجی جوانوں کے ہمراہ آ پہنچیں۔

سنو، زینب سے اب سسکیاں لینا بھی دشوار ہو رہا ہے ۔۔۔۔ اس کا دم گھٹ رہا ہے، اس کے آنسو ختم ہو گئے ہیں ـــ یہ سب کچھ اُس کی قوّتِ برداشت سے بہت زیادہ ہے۔ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔ جانتی تک نہیں یہ سب کیا ہے۔ جبکہ درندوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس گڑیا کی عمر کتنی ہے۔ سنو، ایک درندے نے ابھی کہا ـــــ "اب اِسے الٹا کر کے لٹاؤ۔ پچھلی طرف سے بھی۔ " (پوسٹ مارٹم رپورٹ بتاتی ہے)

زینب نے اپنی چیخوں، سسکیوں اور آہوں کے بیچ پکارا تھا ہم سب کو۔ آرمی چیف کو، وزیرِ اعظم پاکستان کو، شہباز شریف کو، رینجرز اور پولیس کو، عمران خان کو، سراج الحق اور طاہرالقادری کو ۔۔۔ اور ہم سب کو بھی۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ اب زینب کی انکھیں پکارتی ہیں۔ اس کی سسکیاں اِن درودیوار میں سے کسی آسیب کی طرح ٹپکے پڑتی ہیں۔ گویا کوئی پُراسرار ساؤنڈ سسٹم نصب ہے کہیں۔ ظاہری آنکھ سے پوشیدہ۔ بس چلے تو اکھاڑ پھینکوں۔ لیکن یہ میرے بس میں نہیں۔

یاد آیا، اسلام آباد کی نواحی بستی "بارہ کہو" میں پچھلوں برسوں ایسا ہی ایک دل خراش واقعہ پیش آیا تھا۔ وہاں کے مکینوں نے بچی کی لاش مری روڈ پر لا کر سڑک بلاک کر دی تھی۔ انصاف کی دہائی دیتی آوازوں کو نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا ۔ ایک ذمّہ دار پولیس آفیسر کو ایپوائنٹ کیا گیا کہ کھوج لگاؤ۔ شاید آپ نے اُن دنوں جاوید چوہدری کا وہ کالم پڑھا ہو جس میں اس نے باریک بینی سے اُس تفتیشی افسر کی کارروائی کو ڈسکرائب کیا تھا۔ وہ آفیسر ایسے کیسز کو پایہ تکمیل تک پہہنچانے میں اچھی شہرت کما چکا تھا۔ اس نے بھی فون کالز کے ڈیجیٹل ڈیٹا سے ہی آغاز کیا تھا اور جن گھنٹوں کے دوران یہ واردات پیش آئی، اور جس ایریا، گلی محلے میں پیش آئی وہاں تک وہ اس ڈیٹا کو narrow کرتا چلا گیا ـــ تاوقتیکہ اصل مجرموں تک نہ صرف جا پہنچا بلکہ ان سے ایک ایک بات کا اعتراف ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر کروا ڈالا۔

اب تو اور بھی جدّت آ گئی ہے۔ بہت طاقتور سافٹ ویئرز ہیں۔ انٹرنیٹ پر ہوتی ایکٹیویٹی کا ڈیٹا بھی دستیاب ہے۔ بال کی کھال اتار لینے والے ایکسپرٹس بیٹھے ہیں ـــــ یہاں بھی اور پاکستان سے باہر بھی۔ مجرم کا تعاقب کرنے کو بہت سے زاویے دستیاب ہیں۔ بہت دیر ہو گئی۔ زینب کے قاتل کہاں ہیں؟
۔

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com