دنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لیے تنگ - قاسم خان

ایک انڈین فلم "مانجھی، دی ماؤنٹین مین " کم تر سمجھی جانے والی ذات کے ایک "مزدور دشرتھ مانجھی" کی کہانی ہے۔ اُس کی بیوی پہاڑ سے گری، بروقت طبی امداد نہ مل سکی، جس کی وجہ سے وہ تڑپ تڑپ کر فوت ہو گئی۔ گاؤں سے ہسپتال جانے کے لیے ایک بڑے پہاڑ کے گرد چکر کاٹ کر جانا پڑتا تھا، جس کا مجموعی فاصلہ تقریباً پچپن کلو میٹر تھا۔ مانجھی نے سوچا کہ اُس کی بیوی تو اب نہ رہی، لیکن وہ اس پہاڑ کو کبھی نہیں چھوڑے گا اور کاٹ کر اس کے اندر سے اسپتال تک پہنچے کا شارٹ کٹ راستہ ضرور بنائے گا تاکہ آئِندہ کے لیے کوئی ابتدائی طبی امداد سے محروم ہو کر اپنی جان سے نہ جائے۔

اپنے اس ارادے کو پایہِ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اُس نے ایک ہتھوڑا، ایک چھینی لی اور پہاڑ کاٹنا شروع ہوگیا اور اپنے اس کام کو انجام تک پہنچانے کے دن رات ایک کر دیے۔ لوگوں نے اُسے دیوانہ کہا، مذاق اڑایا ، پھبتیاں کَسیں، لیکن وہ اپنے مقصد سے باز نہ آیا۔ سچی لگن اور نتیجے پر نگاہیں مرکوز کیے، وہ اپنا کام کرتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باقی لوگوں نے جب اُس کی پروگریس اور محنت کو دیکھا تو اس کے ہم نوا بنتے گئے۔ مانجھی نے 22 سال کے طویل عرصے میں پہاڑ کو کاٹ کے رکھ دیا۔ پچپن کلومیٹر کے فاصلے کو اُس نے اپنے ہاتھوں کی محنت اور خون پسینے سے محض پندرہ کلومیٹر کر دیا۔ بلاشبہ یہ گاؤں والوں کی فلاح کے لیے ایک عظیم کارنامہ تھا۔ اب لوگ اپنے پیاروں کو بر وقت علاج معالجے کے لیے ہسپتال لے جا سکتے تھے۔ وہ سفر جو گھنٹوں پر محیط تھا، منٹوں پر آ گیا تھا۔ سچ کسی نے کہا ہے "انسانی ہمت کے آگے پہاڑ بھی کچھ نہیں " اور "حوصلے چٹانوں کو توڑ دیتے ہیں۔ "

یہ مثال ایک کمزور ترین انسان کی ہے کہ کس طرح اس نے ایک انتہائی منفی صورت حال میں اپنے آپ کو مثبت رکھا اور اتنا محروم ہوجانے کے باوجود اپنی زندگی کو ایک نئے اور انوکھے کام پر لگا دیا، جو بظاہر ناممکن تھا۔ نتیجتاًاُس نے اتنا بڑا کام کر دیا کہ یقین نہیں آتا، جس میں انسانوں کی خیر اور بھلائی ہی بھلائی تھی۔

اسلامی طرزِ معاشرت میں ایک مسلمان کے لیے اس طرح کے کاموں میں بے پناہ اجروثواب رکھا گیا ہے، یہاں تک کہ ایک چھوٹی سی نیکی کے لیے بھی اسے کئی گُنا بڑھ کر ثواب ملتا ہے۔ اگر بندہ راستے سے ایک کانٹا بھی ہٹاتا ہے تو اسے اجر ملتا ہے اسی طرح بندے کو اگر کانٹا بھی چُبھتا ہے تو اسے اجر ملتا ہے اور یہ کہ انسان جتنی محنت اور کوشش کرتا ہے وہ ایک نہ ایک دن اپنی محنت کا صلہ ضرور پا لیتا ہے۔

ارشادِ ربانی ہے: " انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ " اور دوسروں کی بھلائی کے لیے اگر بندہ کوئی کام کرتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہِ جاریہ بن جاتا ہے۔ آپ علیہ السلام کی زبان مبارک سے ایسے لوگوں کو شاباش دی گئی ہے۔ دوسروں کو فائدے پہچانے والے کو بہترین انسان کا لقب دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جس سے دوسروں کو فائدہ ملے۔ " اور جو دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "بدترین انسان" کہا ہے۔ چنانچہ فرمایا "بدترین ہے وہ پڑوسی جس کی شرارتوں سے تنگ آ کر اُس کا ہمسایہ وہ جگہ چھوڑ دے۔ " (مفہومِ حدیث)

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمھین کی محنت، لگن اور اخلاص کے سبب آج اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ اُنھوں نے اپنے قول اور فعل سے آپ علیہ السلام کی معیّت اور رہنمائی میں بلند ہمتی، اخلاص اور محنت سے "دنیائےِ شر" کو "خیر" میں بدل کر یہ ثابت کر دیا کہ حالات اور رکاوٹیں چاہے کتنی ہی سخت کیوں نہ ہوں، سچے جذبوں کے آگے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔

اسی طرح ناممکن کو ممکن کر دیکھانے کی مثالوں سے انسانی تاریخ بھری پڑی ہے کہ کس طرح ماضی میں کچھ سرپھرے لوگوں نے جب اپنے مستقبل اور دوسروں کی فلاح کے لیے کچھ کر گزرنے کے بارے میں سوچا تو انتھک محنت سے ہر ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور اپنے ٹارگٹس اچیو کیے، خود بھی کامیاب ہوئے اور دوسروں کی آسانی کے لیے بھی بہت کچھ کیا۔

ہمارا ایک کلاس فیلو جو ایک عام سے اوسط درجے کا طالب علم تھا۔ اُس کے مقابلے میں کئی ذہین وفطین طالب علم تھے لیکن وہ لڑکا بہت محنتی تھا۔ اُس نے کہا تھا کہ وہ فوجی آفیسر بنے گا۔ اپنی پڑھائی پر توجہ اور محنت سے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان نیوی میں کمشنڈ آفیسر بھرتی ہوگیا اور بہت اعلٰی عہدے تک پہنچا جبکہ ذہین وفطین، حالات کو کوستے رہے۔

میں ایک ایسے والدین کو جانتا ہوں جن کا خواب تھا بیٹے کو ڈاکٹر بنانا ہے۔ پھر اُنھوں نے اپنے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سرتوڑ محنت کی، بیٹے نے بھی اپنے والدین کی خواہش کا بھرم رکھا، ڈٹ کر محنت کی، نامساعد حالات کے باوجود انھوں نے یہ کام کر دیکھایا۔ آج بیٹا "ایم بی بی ایس" کر کے ایک بہت اعلیٰ ہسپتال میں عوام کی خدمت کر رہا ہے۔ والدین کی خوشی دیدنی ہوتی ہے جبکہ ذہین اور لائق لیکن محنت نہ کرنے والے اب بھی گلی محلوں میں کرکٹ کھیل رہے ہوتے ہیں اور حالات کو کوستے ہیں۔ ایک کامیاب ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ دو بھائی تھے بڑے بھائی محنت مزدوری کرتے تھے اور اُسے پڑھاتے تھے۔ کئی وقت گھر میں کھانا نہیں پکتا تھا۔ وہ محنت کرتے کرتے کامیاب ترین ڈاکٹر بنے۔

اللہ تعالٰی کسی کی محنت ضائع نہیں ہونے دیتے۔ ایک نہ ایک دن محنتی آدمی ضرور کامیاب ہوتا ہے۔ ایک چنے بیچنے والے کا بیٹا اسی ملک پاکستان کا ہے، جو آج کل لوگوں کو کامیابی کے گُر سکھاتا ہے اور اُس کی کتاب "Craft Of Selling Your Self" امریکہ، یورپ اور دنیا بھر میں بیسٹ سیلر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

اگر دنیا کے بہت سارے کامیاب لوگوں کی بات کی جائے تو ان میں سے اکثر کا ماضی ناکامیوں اور غربت کا مجموعہ ہے، لیکن اُنھوں نے ہمت نہ ہاری، اپنی ہر ناکامی سے سبق سیکھا اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔

پھل فروش ملائیشیا کا وزیراعظم ”مہاتیر محمد“ بنا۔

انڈیا کا”نریندر مودی“ اپنے والد کے ساتھ چائے بیچا کرتا تھا۔ آج بھارت کا وزیراعظم ہے۔

جنوبی افریقا کا ایک چرواہا آزادی کا ہیرو ”نیلسن منڈیلا“ کہلایا۔

ریڑھی پر برگر بیچنے والا ”ہارلینڈ ڈیوڈ سینڈرز“پوری دنیا میں معروف فوڈ چین کے ایف سی کا مالک بنا۔

”ہنری فورڈ“ ایک غریب کسان کا بیٹا اپنی محنت کے بل بوتے پر فورڈ موٹر کمپنی کا بانی بنا۔

نادر شاہ ایک گڈریا تھا۔

چاپان کا”سوئیچرو ہنڈا“ ہنڈا آٹو موبائل کمپنی کا مالک ایک غریب لوہار کا بیٹا تھا۔

روس کا سابق ڈکٹیٹر اسٹالن ایک موچی کا بیٹا تھا۔

فرانس کا مشہور حکمراں نپولین ابتدا میں ایک معمولی سپاہی تھا۔

ناصر الدین بادشاہ بچپن میں ٹوپیاں بیچا کرتے تھے۔

برصغیر کے پہلے مسلمان بادشاہ قطب الدین ایبک شروع میں ایک غلام تھے۔

مشہور سائنسدان

”تھامس الوا ایڈیسن“ اخبار فروش تھا۔

اٹلی کا سابق ڈکٹیٹر مسولینی" لوہار کا بیٹا تھا۔

امریکا کا ایک صدر " ابراہم لنکن "غریب کسان کا بیٹا تھا۔

الغرض بے شمار مثالیں ایسی ہیں کہ بہت معمولی اور غریب لوگوں نے مسلسل محنت، مقصد کی لگن اور اخلاص سے، وہ کر دکھایا جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

ہمارے آج کل کے نوجوان اکثر میٹرک اور انٹر تک پہنچ کر ہمت ہار کر اپنی تعلیم کو خیرآباد کہہ دیتے ہیں۔ اور لایعنی مصروفیات اور کامیابی کے شارٹ کٹ کے چکر میں اپنے مستقبل کو نادانستگی میں برباد کر کے دوسروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اور پھر جب سمجھ آتی ہے، تو پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہوتا ہے۔

"اب پچھتائے کیا ہُوت جب چِڑیاں چُگ گئیں کھیت۔ "

میری نوجوانانِ وطن سے عمومی اور غریب والدین کے سپوتوں سے خصوصی گزارش ہے کہ اپنی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دیں اپنا ٹارگٹ متعین کریں، اُسے اپنی ڈائری میں لکھ کر رکھیں، گاہے بگاہے اُس پر نظر مارتے رہیں، پھر اللہ تعالٰی پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے رات دن ایک کردیں۔ پھر دیکھیں کہ کامیابی سے آپ کو کوئی ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔

تعلیمی میدان میں میٹرک اور انٹر کے سال انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان ہی دو چار سالوں نے آپ کے فیوچر کا فیصلہ کرنا ہے اور یہ سب آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اسے چاہے بگاڑ دیں اور چاہے سنوار دیں۔