بھارت کو اس بار آجانے دیں - یاسر محمود آرائیں

مملکت خداداد کا وجود اول روز سے کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ تمام طاغوتی قوتیں اسے مٹانے کے لیے اپنی ہر ممکن طاقت استعمال کرچکی ہیں۔ چہ جائیکہ ان کے مفادات بھی باہم متصادم ہیں مگر اس کی تخریب اور اینٹ سے اینٹ بجانا سب کا مشترکہ مقصد ہے۔ اسے اپنی بدقسمتی کا نام دیں یا قدرت کی ستم ظریفی، ہمارا پڑوسی ہندوستان اس تمام تحریک میں شریک کار بلکہ روح رواں رہا ہے۔ بٹوارے کے وقت سے آج تک اس نے پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا اور ہمیشہ کبھی خفیہ تو کبھی علانیہ اس کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے۔ ہندوستان کی ازلی خواہش ہے کہ کسی بھی طرح پاک دھرتی کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں کامیاب ہوجائے اسی مقصد کی خاطر وہ بلاجواز پاکستان پر تین جنگیں مسلط کرچکا ہے اور کچھ ہمارے حکمرانوں کی نااہلی اور کچھ طاغوت کی مہربانیوں سے وہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی ریاست کو دو حصوں میں منقسم کرنے میں کامیاب بھی ہوا۔

پھر اس کے باقی ماندہ وجود پر بھی بھارت اور دیگر اسلام دشمن قوتیں نگاہیں جمائے بیٹھی ہیں مگر اللہ کے فضل وکرم اب پاکستان ایک قابل اعتماد ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے اور اس صلاحیت کے ہوتے ہوئے دشمن کبھی کھل کر اس کے خلاف کسی جارحیت کی جرات نہیں کرسکے گا۔ اس لیے اب دشمنوں کی ہر ممکن کوشش ہے کہ کسی بھی طرح ہمیں جوہری صلاحیت سے بالکل محروم کردیا جائے یا پھر کم ازکم اسے اتنا فریز کردیا جائے کہ پاک فوج کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت اس سے کماحقہ فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہ ہوپائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پچھلی ڈیڑھ دہائی سے پاکستان میں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بدامنی کو فروغ دیا گیا تھا مگر پاک فوج اللہ کی نصرت، عوام کی حمایت اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

پچھلے کچھ ماہ سے امریکی انتظامیہ کی جانب سے اچانک پاکستان سے متعلق جو پالیسی بدلاؤ آیا ہے اور جو دھکیاں آرہی ہیں اس کے پیچھے بھی کسی حد تک یہی کہانی ہے کیونکہ امریکہ کی افغانستان میں آمد کا ایک بڑا مقصد پاکستان کے پڑوس میں بیٹھ کر جوہری صلاحیت کے حامل واحد اسلامی ملک میں شورش برپا کرنا تھا اور پھر اس شورش کو جواز بناکر یہ مطالبہ کیا جانا تھا کہ پاکستان میں عملاً شدت پسندوں کی حکومت ہے اور اس کے جوہری اثاثے ممکنہ طور پر شدت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اس لیے عالمی امن کی خاطر انہیں اقوام متحدہ کی تحویل میں دینا ہوگا۔ لیکن جب امریکا نے دیکھا کہ پاکستان نے نا صرف اس شورش پر قابو پالیا ہے بلکہ اپنی سرزمین سے امریکا اور بھارت کا جاسوسی نیٹ ورک بھی تقریباً اکھاڑنے میں کامیاب ہوچکا ہے تو اسے اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی ہوئی محسوس ہوئی اور اسی خفت کو مٹانے کے لیے وہ اس وقت پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا پاکستان کے خلاف تمام کفریہ طاقتیں اول روز سے متفق ہیں مگر حالیہ کچھ عرصہ میں بھارت اور امریکا کی پینگیں کچھ زیادہ ہی بڑھ رہی ہیں اور امریکا نے اپنی نئی افغان پالیسی میں بھارت کو خطے میں غیر معمولی کردار دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یعنی سیدھے لفظوں میں اگر بیان کیا جائے تو امریکا بھارت کو اس خطے میں اپنا تھانیدار بنانا چاہتا ہے اور اسی امریکی آشیرباد اور تھانیداری کے زعم میں مبتلا ہوکر ہی انڈین آرمی چیف نے پاکستان کو دھمکی دینے کی کوشش کی ہے مگر اس دھمکی میں بھی وہ پاکستان کی جوہری صلاحیت سے اپنے دلی خوف کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہوپائے۔ اپنے بیان میں انہوں نے خود کو تسلی دینے کے لیے پاکستانی جوہری اثاثوں کو فریب قرار دیا اور کہا کہ اگر بھارتی سرکار حکم دے تو بھارتی فوج سرحد پار کارروائی کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

بھارتی آرمی چیف کی اس دھمکی کا پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی نہایت مناسب جواب دیا ہے اور افواج پاکستان کے ترجمان ادارے نے بھی کھل کر کہا ہے کہ ہمارے ایٹمی ہتھیار واضح طور پر مشرقی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہی ہیں اور اگر بھارت کو اس بارے میں کسی بھی قسم کا ابہام ہے تو وہ آزما کر دیکھ لے نتائج اسے خود پتا چل جائیں گے۔

یادش بخیر، اب بھی بہت سے ذہنوں میں یہ بات تازہ ہوگی کہ دسمبر2001ء میں جب بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو اس کا الزام بھارت نے مولانا مسعود اظہر اور جیش محمد پر لگایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگی تیاری بھی شروع کردی تھی اور اپنی افواج کو پاکستانی سرحد پر ڈپلائے کردیا تھا۔ اس کام میں مگر اسے ایک ماہ لگ گیا اور اس عرصے میں پاکستان نے بھی اپنی تیاری مکمل کرلی اور بھارت کی کسی جارحیت سے نمٹنے کے لیے اپنے جوہری ہتھیاروں کو آپریشنل حالت میں لیکر آگیا۔ لہٰذا پھر بھارت کو پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کی ہمت ہی نہ پڑی اور اس کی افواج کو اربوں ڈالرز کے اخراجات اور مہینوں تک سرحدوں پر پڑے رہنے کے بعد پاکستانی جوہری ہتھیاروں کے خوف کی وجہ سے ہی خاک چاٹتے ہوئے واپس بیرکوں میں جانا پڑا۔

اس کے بعد بھی بھارت کے ملٹری شہ دماغ سکون سے نہیں بیٹھے اور انہوں نے پاکستان کے روایتی جوہری ہتھیاروں کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود جنگ کا منصوبہ تیار کیا جسے 'کولڈ وار ڈاکٹرائن' کا نام دیا گیا۔ اس منصوبے کے مطابق بلوچستان اور فاٹا کو شورش میں مبتلا کرنا تھا اور پھر اچانک تیز رفتاری کے ساتھ آزاد کشمیر اور سندھ میں بیک وقت بھارتی افواج کو داخل کرکے سندھ کو باقی پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کرنا شامل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت نے اپنے مقامی ایجنٹوں کی مدد سے بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد تین دن تک عملاً سندھ کو باقی پاکستان سے کاٹ کر اس منصوبے کی ریہرسل بھی مکمل کرلی تھی اور اسے اپنے عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کسی مناسب جواز کا انتظار تھا۔

پاکستان چونکہ محدود وسائل کا حامل ملک ہے اور اس کی افواج بھی حجم کے لحاظ سے بھارت سے کہیں کم ہے اور بھارت کی اس اسٹریٹجی کا روایتی طریقہ کار سے مقابلہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا پاکستان نے بھارت کی اس کولڈ وار ڈاکٹرائن سے نمٹنے کے لیے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپن تیار کرلیے ہیں۔ واضح رہے کہ ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپن روایتی ایٹمی ہتھیاروں کے برعکس محدود حجم کے حامل ہوتے ہیں جو میدان جنگ میں کسی بھی فوجی یونٹ کے خلاف آسانی سے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان نے پچھلے کچھ عرصے میں اپنی ضرورت کے مطابق ٹینس کی گیند سے لیکر دیگر مختلف سائز کے جوہری ہتھیار تیار کرلیے ہیں جنہیں کوئی بھی سپاہی انفرادی طور پر باآسانی میدان جنگ میں کسی بھی حملہ آور یونٹ یا ایک بریگیڈ تک کو مکمل تباہ وبرباد کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے شارٹ رینج نصر نامی میزائل بھی خالصتا اسی طرح کی کسی ممکنہ بھارتی جارحیت کے خطرے کے پیش نظر ڈیزائن کیا ہے جو محض 60کلومیٹر کی دوری پر موجود اپنے اہداف تک بھی کامیابی اور پن پوائنٹ ایکیوریسی کے ساتھ ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارت کو خود بھی اندازہ ہے کہ اگر اس نے کوئی بھی حماقت کی تو اس کا ہر علاقہ پاکستان کے تیز رفتار میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں کی زد میں ہوگا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت کشمیر میں تحریک آزادی اپنے عروج پر ہے اور بھارت باوجود تمام تر کوشش اور طاقت کے بہیمانہ استعمال کے اسے روکنے میں بالکل ناکام ہوچکا ہے اور اس مسئلہ سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے اور اپنے عوام کو مطمئن رکھنے کے واسطے انڈین آرمی چیف نے اس وقت یہ درفنطنی چھوڑی ہے۔ بھارت کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ 71ء کا زمانہ کب کا گزر چکا ہے اور آج کا پاکستان کسی بھی طرح تر نوالہ نہیں ہے اور اگر بھارت کو اس متعلق کسی بھی قسم کا کوئی شبہ ہے تو وہ شوق سے ہماری صلاحیت کو آزما کر دیکھ لے اس بار کسی بھی حماقت کے نتیجے میں انشاللہ بھارت کو ایسا نقصان ہوگا جسے وہ مدتوں نہیں بھلا پائے گا۔