فحاشی اور اس کی اشاعت - ڈاکٹر محمد عقیل

فحاشی کی تعریف

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فحاشی کیا ہے:

"فحاشی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو ناجائز جنسی لذت کے حصول کے لیے کیا جائے یا جس کے ذریعے جنسی اعضاء یا فعل کی اس نیت سے اشاعت کی جائے کہ جنسی اشتہا بھڑکے یا جنسی تسکین حاصل ہو۔ ”

وضاحت

زنا و اغلام بازی تو واضح طور پر ایک فحش عمل ہے۔ البتہ وہ امور جو زنا سےقریب کرنے کا ذریعہ ہوں وہ بھی فحاشی ہی ہیں۔چنانچہ شرعی اجازت کے بغیر بوس و کنار کرنا، نگاہوں کا جنسی مناظر دیکھنا، کانوں کا بے حیائی کی باتیں یا فحش موسیقی سننا، ہاتھوں کا جنسی لذت حاصل کرنا، زبان کا فحش گوئی میں ملوث ہونا اور دماغ کا فحش سوچوں غلطاں ہونا اسی لحاظ سے فحش فعل کے زمرے میں آتا ہے۔ قرآن میں بڑی فحاشی زنا کو کہا گیا ہے۔ "اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ کیونکہ وہ فحاشی اور برا راستہ ہے۔”(بنی اسرائیل ۳۲:۱۷) حدیث میں بیان ہوتا ہے:

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابن آدم پر اس کے زنا سے حصہ لکھ دیا گیا ہے وہ لا محالہ اسے ملے گا پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے اور دل کا گناہ خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔”( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2253) فحش مواد ” فحش مواد سے مراد وہ تحریر، تصویر، وڈیو، موسیقی، بات چیت، اشارہ، لطیفہ، عریانی یا کوئی اور طریقہ جس میں جنسی اعضاء یا فعل کو اس نیت سے دکھایا یا بیان کیا جائے کہ جنسی اشتہا بھڑکے یا یا جنسی تسکین حاصل ہو۔ ”

مواد کے فحش ہونے کے لوازمات

کسی بھی مواد کا فحش ہونے کے لیے درج ذیل باتوں کا ہونا ضروری ہے:

۱۔ شرعی تعلق کے بغیر جنسی اعضا یا فعل کو دکھایا جائے یا بیان کیا جائے۔ ۱۔ نیت جنسی اشتہا کے بھڑکانے یا جنسی تسکین کی ہو۔ چنانچہ میڈیکل، قانونی یا کسی اور جائزمقصد کے تحت لٹریچر کی اشاعت فحش نہیں قرا پائے گی۔ دوسرا حصہ: فحاشی کی اشاعت کسی بھی قسم کا فحش عمل کرنا اپنی ذات میں ایک قبیح فعل ہے لیکن یہ اس وقت قبیح تر ہوجاتا ہے جب اس کا چرچا عام کیا جائے۔ مثال کے طور پر کسی کا زنا کرنا قبیح فعل ہے لیکن اس زنا کا چرچا فیس بک پر کیا جائے تو یہ بے شمار لوگوں کی گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔چنانچہ ایک طرف تو فحاشی سے خود کو بچانا بہت ضروری ہے اور دوسری جانب فحاشی کی اشاعت کرنا، اسے پھیلانا، اس کا چرچا لوگوں میں کرنا، اسے مختلف میڈیا کے ذریعے آگے بڑھانا بھی ایک بڑا گناہ ہے۔ فحاشی کی اشاعت کا مفہوم فحاشی کی اشاعت سے مراد یہ ہے کہ جنسی معاملات سے متعلق کوئی بھی بات یا مواد بغیر کسی جائز وجہ کے آگے پہنچادیا جائے۔ چنانچہ لذت کے حصول، پیسہ کمانے، وقت پاس کرنے یا محض لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے کوئی بھی جنسی مواد کسی غیر متعلقہ شخص تک پہنچانا اشاعت فاحشہ ہے خواہ یہ مواد، تحریر، تقریر، تصویر، وڈیو، آڈیو، اشارے یا کسی بھی صورت میں ہو۔ مولانا مودودی فرماتے ہیں:

"ان کا اطلاق عملاً بد کاری کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بد اخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کے لیے جذبات کو اکسانے والے قصوں، اشعار، گانوں، تصویروں اور کھیل تماشوں پر بھی۔ نیز وہ کلب اور ہوٹل اور دوسرے ادارے بھی ان کی زد میں آ جاتے ہیں جن میں مخلوط رقص اور مخلوط تفریحات کا انتظام کیا جاتا ہے۔” (تفہیم القرآن-تفسیر سورہ نور) اشاعت فاحشہ کی ممانعت قرآن میں بیان ہوتا ہے:

"بلاشبہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں فحاشی کی اشاعت ہو ان کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ جانتا ہے اور تم لوگ نہیں جانتے۔”(النور ۱۹:۲۴)

یہا ں تک کہ خلوت میں کی گئی نشست جو میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے اس کا بیان بھی کسی طور جائز نہیں۔ جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوتا ہے:

"حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سب سے برا اللہ کے نزدیک مرتبہ کے اعتبار سے قیامت کے دن وہ آدمی ہوگا جو اپنی عورت کے پاس جائے اور اس سے جماع کرے پھر اس عورت کے( جنسی تعلق کے) راز کو پھیلاتا ہے۔” ( صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1050) یہاں دیکھیں کہ میاں بیوی کے جائز تعلق کی باتیں بھی بیان کرنا ناجائز ہیں چہ جائیکہ فحش ناجائز تعلقات کی باتیں بیان کی جائیں۔ چنانچہ کسی طور بھی فحش مواد پر مبنی لٹریچر پر مبنی ایس ایم ایس، فیس بک، ای میل، اخبار و رسائل، ٹی وی یا کسی اور ذریعے سے شائع کرنا یا آگے فارورڈ کرنا قطعا ناجائز ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ نے سخت وعید بھی سنائی ہے کہ ایسا کرنے والوں کے لیے دنیاو آخرت میں دردناک عذاب ہے۔

فحاشی اور میڈیا

ابلاغ کا روایتی طریقہ بات چیت یا خط و کتابت ہے۔ سائنسی ایجادات کی بنا پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور ٹیلی فون وغیرہ نے اس عمل کو تیز تر کردیا۔ لیکن دور جدید میں سوشل میڈیا کے آنے کے بعد اطلاعات کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا سیکنڈوں کا کھیل بن گیا ہے۔ فیس بک، ٹوئیٹر یا دوسرے سوشل میڈیا پر صرف ایک کلک سے ایک بات ہزاروں یا لاکھوں لوگوں تک منتقل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ایس ایم ایس، ای میل اور دوسرے میسجنگ کے طریقے بھی یہ کام کررہے ہوتے ہیں۔ میڈیا خواہ کوئی بھی ہو یہ اپنی تیز رفتاری کی بنا پر ڈیٹا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ توپہنچادیتا ہے۔ لیکن اس میں صحیح اور غلط کو پہچاننے یا بیان کرنے کی تمیز نہیں۔ چنانچہ یہ ڈیٹا درست بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔

سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی اور ذریعے سے کسی بھی قسم کی بات چیت، خبر، تصویر، کوٹس، لطیفے، موویز، مووی کلپس، کتاب، آرٹیکل یا کسی اور مواد کو شائع کرنے سے قبل اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ مواد اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر اخلاقی اور فحش نہ ہو۔ قرآ ن و حدیث کی واضح ہدایات کے برعکس میڈیا اس وقت مغرب کے زیر اثر مختلف نوعیت کی فحاشی و عریانی کو فروغ دے رہا ہے۔ اس میں ٹی وی کے اشتہارات، ڈرامے، فلمیں، میوزیکل پروگرامز وغیرہ بھی شامل ہیں تو اخبار رسائل میں نیم عریاں تصاویر، ڈائجسٹوں کی فحش کہانیا ں بھی شامل ہیں۔

اسی طرح انٹرنیٹ پر ویب سائٹس نے تو ہر گھر اور ہر بیڈ روم میں عریانی و فحاشی کے دریچے کھول دیے ہیں۔ چنانچہ پی سی، لیپ ٹاپ، موبائیل فونز، آئی پیڈ، ٹیب وغیرہ جیسے ٹولز کے ذریعے فحش موادباآسانی ایک کلک پر دستیاب ہے۔اسلام کی سخت ہدایات کے باوجود لوگ عام طور پر اور نوجوان خاص طور پر فحش مواد سے اپنی آنکھوں کو آلودہ کرتے، کانوں کو غلاظت سے بھرتے اور دماغ کے گوشوں میں عریانیت کے انڈوں بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ دوسری جانب ہمارے لوگ صرف فحش مواد کو خود استعمال کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس کی اشاعت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔جب ایک نوجوان کو کوئی عریاں تصویر، فحش ایس ایم ایس، غلیظ لطیفہ، بے ہودہ مووی کلپ یا اور کوئی فحش مواد ملتا ہے تو وہ اسے آگے فارورڈ کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ اس طرح وہ خود بھی گناہ گار ہوتا اور دوسروں کے نفس کو بھی آلودہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ یہ اشاعت فاحشہ کے زمرے میں آتا ہے جس کی قرآن میں سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

اشاعت کی وجوہات ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ کیوں فحش مٹیریل کو تخلیق کرتے اور پھر اسے آگے پھیلاتے ہیں۔ اس ضمن میں دو طرح کے گروہ ہیں۔ ایک گروہ تو وہ ہے جو باقاعدہ پیشہ ورانہ طور پر یہ کام کرتا اور اس سے رقم کماتا ہے۔ ان میں ہراول دستے کی حیثیت تو عریاں فلموں کے پروڈیوسرز فنکار اور فحش رسالوں کے ایڈیٹرز کو حاصل ہے۔ جبکہ ان ہی کی قبیل میں وہ پروڈیوسرز، اداکار اور پبلشرز بھی شامل ہیں جو مکمل طور پر تو فحاشی کے داعی نہیں ہوتے لیکن نیم عریانی اور فحش مواد کے ذریعے اپنے ناولوں، ڈراموں اور فلموں میں چاشنی بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ سب لوگ وہ ہیں جو اپنی کمائی کو حرام بنا رہے، معاشرے میں فساد کا ذریعہ بن رہے اور سوسائٹی میں ہونے والے جنسی جرائم کے گناہوں کو اپنے کھاتے میں شامل کررہے ہیں۔ فحش مواد کو پھیلانے میں ایک اور طبقہ شامل ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جو پیسے کے لیے نہیں بلکہ صرف معمولی شہرت، پذیرائی یا توجہ حاصل کرنے کے ٖلیے یہ کام کرتا ہے۔ان میں زیادہ تر نوجوان شامل ہوتے ہیں جو صرف معمولی توجہ کے حصول کے لیے فحش مواد کو فیس بک پر شئیر کردیتے، ای میل فارورڈ کردیتے، فحش کہانیاں آگے بیان کرتے، عریاں لطیفے ایس ایم ایس کردیتے یا کوئی وڈیو شئیر کرلیتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ یہ معمولی سا کلک کتنی آنکھوں کو آلودہ کرتا، کتنے کانوں میں غلاظت انڈیلتا، کتنی ہاتھوں کو اخلاق باختہ حرکتوں پر مجبور کرتا، کتنے ذہنوں کو نفسیاتی مریض بناتا، کتنے نوجوانوں کو جنسی جرائم میں ملوث کرتا اور کتنے ماں باپ کی نیندیں حرام کرتا ہے۔

فحاشی سے بچنے کے طریقے

۱۔ وہ نوجوان جو غیر شادی شدہ ہونے کی بنا پر اس عمل میں ملوث ہیں انہیں چاہیے کہ اگر نکاح کی استطاعت ہے تو فوری طور پر نکاح کرلیں۔ اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے:

"اور تم میں سے جو لوگ کنوارے ہیں ان کے نکاح کردو۔ اور اپنے لونڈی، غلاموں کے بھی جو نکاح کے قابل ہوں۔ اگر وہ محتاج ہیں تو اللہ اپنی مہربانی سے انھیں غنی کردے گا۔ اور اللہ بڑی وسعت والا اور جاننے والا ہے۔”(النور ۳۲:۲۴) یہاں واضح طور پر بیان کردیا گیا کہ اگر کوئی اس بنا پر نکاح نہیں کرتا کہ وہ مالی طور پر مستحکم نہیں یا اس کے مال میں کچھ کمی ہے تو اللہ اسے اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ اس سے اگلی آیت میں یہ بیان کیا گیا:

اور جو لوگ نکاح (کا سامان) نہیں پاتے انھیں پاکدامنی اختیار کرتے ہوئےبچے رہنا چاہیئے تاآنکہ اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کردے "(النور۳۳:۲۴) یہاں ان لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جو لوگ نکاح کی بالکل ہی استطاعت نہیں رکھتے وہ انتظار کریں یہاں تک کہ اللہ انہیں اس قابل بنادیں۔ لیکن یہاں ایک لطیف اشارہ ہے کہ ایسے لوگ جو کسی وجہ سے نکاح نہیں کرپارہے انہیں یہ نہیں کہا گیا کہ و ہ زنا کا راستہ اختیار کرلیں یا فحش مناظر دیکھ کر اپنی خواہش کو پورا کرلیں۔ بلکہ انہیں واضح طور پر بتایا گیا کہ وہ پاک دامنی اختیار کریں اور اپنے دامن کو ہر قسم کی غلاظت سے پاک رکھیں۔یہ پاکدامنی کس طرح اختیار کی جائے گی اس کا حل اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جو کنوارے لوگ ہیں وہ نکاح کرلیں اور اگر اس کی استطاعت نہیں تو روزے رکھیں کیونکہ روزہ شہوت کم کرتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ "ابراہیم، علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود کے ساتھ چل رہا تھا، تو انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا کہ جو شخص مہر ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ نکاح کرلے اس لیے کہ وہ نگاہ کو نیچی کرتا ہے اور شرمگاہ کو زنا سے محفوظ رکھتا ہے اور جس کو اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے اس لیے کہ روزہ اس کو خصی بنا دیتا ہے” ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1787)۔

۲۔ وہ لوگ جو شادی شدہ ہونے کے باوجود فحاشی کا لٹریچر استعمال کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنے شریک حیات کی قدر کریں اور اپنی جنسی لذت کو وہیں تک محدو د کریں۔ اس سے قلب میں وہ پاکیزگی پیدا ہوگی جس کا نعم البدل عریاں مواد ہرگز نہیں ہوسکتا۔حدیث ہے کہ:

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور وہ اس وقت کھال کو رنگ دے رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حاجت پوری فرمائی پھر اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرف تشریف لے گئے تو فرمایا کہ (نامحرم) عورت شیطان کی شکل میں سامنے آتی ہے اور شیطانی صورت میں پیٹھ پھیرتی ہے پس جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے (اور اس کے حسن سے متاثر ہو جائے) تو اپنی بیوی کے پاس آئے۔( صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 914)

۳۔ نگاہوں کی حفاظت کریں، خیالات میں پاکیزگی پیدا کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا کہ آپ ایسے ماحول میں رہیں جہاں فحش مواد نہ پایا جاتاہو۔ چنانچہ انٹرنیٹ ضرورت کے تحت استعمال کریں، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا کوئی اور ڈیوائس پبلک میں استعمال کریں یعنی اس طرح کہ لوگ باآسانی آتے جاتے اسے دیکھ لیں۔ اس جھجھک سے بھی اس ماحول سے نجات مل سکتی ہے۔

۴۔ وہ مقامات جہاں نامحرم سے ملاقات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں وہا ں سورہ نور کی آیت کے مطابق لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے ملنے میں احتیاط رکھیں۔ سب سے پہلے تو نگاہوں میں پاکیزگی ہو، شرمگاہوں اور ستر کو اچھی طرح ڈھانپ کررکھا ہو اور تیسرا یہ کہ کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جوجنسی اشتعال کا سبب بنے۔ یہ ہدایات مرد اور عورت دونوں کے لیے ہیں۔

۵۔ کسی بھی فحاشی کا ارتکاب ہونے کی صورت میں اپنے اوپر جرمانے کا نظام نافذ کریں۔ یعنی اگر آپ سے کوئی اس قسم کا کام ہوجاتا ہے تو خود مالی یا بدنی صورت میں جرمانہ ادا کریں۔ مثال کے طور پر یہ طے کرلیں کہ اگر کوشش کے باوجود اگر کوئی فحش سائٹ آپ نے دیکھ لی تو اپنی آمدنی کا کچھ حصہ اللہ کی راہ میں انفاق کریں گے۔ ایسا ہوجانے کی صورت میں اس پر سختی سے عمل کریں۔ اس کے علاوہ جرمانہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ خلاف ورزی پر روزہ رکھیں یا دس رکعت نماز ادا کریں وغیرہ۔ لیکن جرمانہ مقرر کرنے میں کافی سمجھداری کی ضرورت ہے۔ جرمانہ نہ تو اتنا ہلکا ہو کہ نفس کو کچھ فرق ہی نہ پڑے اور نہ ہی یہ اتنا بھاری ہو کہ اس پر عمل کرنا ہی ممکن نہ ہو۔ ۶۔ان ہدایات کے باوجود گناہ کا سرزد ہوجانا ممکن ہے۔ چنانچہ اگر کبھی حیا داری کی خلاف ورزی ہوجائے تو اعصاب پر قابو رکھیں۔ ایسی صورت میں شیطان یہ بات سکھاتا ہے کہ اب تو گناہ ہو ہی گیا اور رب ناراض ہوہی چکا ہے تو کیوں نہ کھل کر گنا ہ کیا جائے۔ کسی گناہ کے سرزد ہونے کے بعد مایوس نہ ہوں۔ فورا جذبات کا غلبہ ختم ہونے کے بعد اللہ کی جانب رجوع کریں۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے معافی مانگ لی جائے۔ یا پھر زبانی اللہ سے توبہ کرکے آئیندہ نہ کرنے کا عہد کیا جائے۔ اگر اس عہد کی خلاف ورزی نفس کے تقاضوں کے تحت باربار ہوجائے تو بار بار توبہ کی جائے کیونکہ توبہ کرنے کی صورت میں واپسی کا امکان ہے جبکہ توبہ و استغفار چھوڑدینے کی صورت میں کوئی واپسی کا امکان نہیں بچے گا۔ ۵۔ خود کو مصروف رکھیں اور زیادہ سے زیادہ مثبت سرگرمیاں شروع کریں۔اسلامی، دینی کتب کا مطالعہ کریں۔ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔

۶۔ جذبات کو بھڑکانے والی فلم، ڈرامہ، ناول، سائٹ یا رسائل و جرائد سے پرہیز کریں۔

۷۔ جسمانی مشقت کریں اور کسی کھیل کود یا جسمانی ورزش میں خود کو مصروف کریں۔

۸۔ کسی بھی مشکل کی صورت میں اہل علم اور ایکسپرٹ لوگوں سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ اشاعت فاحشہ سے بچنے کی تدابیر کسی بھی قسم کے فحش مواد کو استعمال کرنا اپنی ذات میں ویسے ہی ایک گناہ ہے۔چنانچہ پہلے تو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ فحاشی سے بچا جائے اور خود کو فحش مواد کے استعمال سے ہر صورت میں روکا جائے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اسے آگے شئیر کرنے سے بھی گریز کیا جائے۔ اس کے لیے درج ذیل ہدایات ہیں:

۱۔ وہ مسلمان پروڈیوسرز، ایڈیٹرز، مالکان، مصنفین، فنکار، کیمرا مین اور معاونین جو پیشہ ورانہ طور پر فحاشی کی تخلیق اور اشاعت میں شریک ہیں انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کئی طرح کے گناہوں میں ملوث ہیں۔ ایک تو وہ خود فحاشی کا شاکر ہیں، دوسرے اس کی اشاعت کررہے ہیں، تیسرے وہ کئی لوگوں کی گمراہی کا گناہ بھی کم ارہے ہیں اور چوتھا وہ حرام مال کمارہے ہیں۔ صرف اشاعت فاحشہ ہی کے گناہ کا بدلہ جہنم ہے تو باقی گناہوں کا مجموعی بدلہ کیا ہوگا اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے بچنے کے لیے وہ اللہ سے دعا کریں کہ اور متبادل ذرائع آمدنی تلاش کریں۔ قرآن میں بیان ہوتا ہے کہ جو اللہ کا خوف اختیار کرتا ہے اللہ اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرتے ہیں جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔(سورہ الطلاق)

۲۔ وہ لوگ جو فیس بک یا دیگر سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے فحش مواد شئیر کرتے اور آگے بڑھاتے ہیں انہیں سورہ نور میں بیان کردہ جہنم کی وعید یاد رکھنی چاہیے۔ یوں بھی سستی مقبولیت کے لیے یہ ایک مہنگا سودا ہے کہ لوگوں کی خوش کرنے کے لیے آپ جہنم خرید لیں۔

۳۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ کسی مواد میں کوئی دوسرا میسج ہوتا ہے لیکن اس میں فحاشی کا کوئی بالواسطہ پہلو پوشیدہ ہوتا ہے۔ چنانچہ کوئی بھی تصویر، مووی، کوٹس، لطیفہ یا مواد شئیر کرنے سے پہلے ایک مرتبہ سوچ لیں کہ کہیں اس میں کوئی فحش عنصر تو شامل نہیں۔ اگر ایسا ہے تو رک جائیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل سوشل سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ آپ گذشتہ 21 سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ پچھلے 14 سال سے کالم نگاری اور تحقیقی مقالات بھی لکھ رہے ہیں۔ تزکیہ نفس آپ کی اسپشلائزیشن ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */