ہم کہ ایک ہجوم ہیں – مفتی منیب الرحمٰن

بدقسمتی سے ہم ایک متحد اور منظّم قوم کے درجے سے گر کر ایک منتشر ہجوم کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں، جس کی نہ کوئی سَمت ہے، نہ کوئی منزل، جدھر منہ اٹھایا چل دیے۔ ہم انسانی المیوں کے کرب سے بھی اپنے ذاتی اور گروہی مقاصد کشید کرتے ہیں، قصور کی بی بی زینب مرحومہ کا سانحہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ ہوسِ اقتدار، ہوسِ زَر اورہوسِ شہرت نے ہمیں اذیت پسنداور مردم آزار بنادیا ہے۔ ہم اولین فرصت میں نمبر گیم میں شامل ہونے کو اپنی سیاسی فتح وکامرانی کا پہلا زینہ سمجھتے ہیں، ہمیں جشن منانے کے لیے’’ مرگِ اَنبوہ‘‘ چاہیے۔ سیاست دان، میڈیا الغرض سب مسابقت کے اس معرکے میں اَلل ٹپ دوڑے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا احتجاج اب گھیراؤ جلاؤ کا نام ہے، یعنی ہمیں کسی کے دکھ کا ازالہ مطلوب نہیں، بلکہ چند اور کو دکھی بنانا ہے تاکہ نفرت کی آگ کے شعلے آسمانوں تک بلند ہوجائیں۔ نجی اور قومی املاک کو نذرِ آتش کیے بغیر ہماری آتشِ انتقام اور غیظ وغضب کے شعلے فرو نہیں ہوسکتے۔ نمازِ جنازہ جو عبادت ودعا ہے، اُسے بھی ہم نفسانی اَغراض اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا لازمی سمجھتے ہیں۔

میں بی بی زینب مرحومہ کے والدین کے دکھ کو سمجھتا ہوں، اسلام تو وہ دین ہے جس نے ہر جاندار کو اذیّت سے نجات دلانے کے لیے مغفرت کی نوید دی ہے، حدیثِ پاک میں ہے: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص راستے پر جارہا تھا کہ اُسے شدید پیاس لگی، اُسے ایک کنواں نظر آیا، وہ اس میں اُترا اور پانی پیا،پھر وہ نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا پیاس سے ہلکان ہوکر مٹی چوس رہا ہے، اس شخص نے (دل ہی دل میں)کہا: تھوڑی دیر پہلے جو پیاس مجھے ہلکان کیے ہوئے تھی، یہ کتا اُسی کرب میں مبتلا ہے، سو وہ کنویں میں اترا، اپنے (چرمی)موزے (کواتار کراس) میں پانی بھرا، پھر اُسے اپنے منہ میں پکڑکرکنویں سے باہر آیا اور اُس کتے کو پانی پلایا،، اُس کتے نے (زبانِ حال سے) اللہ کا شکر ادا کیا، تو (اس نیکی کے صلے میں) اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو بخش دیا۔صحابۂ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا ہمارے لیے چوپایوں (کو راحت پہنچانے )میں بھی اجر ہے ؟،تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! ہر اُس جاندار کو راحت پہنچانے میں اجر ہے (جس کے سینے میں)جیتا جاگتا کلیجہ ہے، (مسلم:2244)‘‘۔

ذرا سوچیے! جب ایک کتے کو راحت پہنچانے پر اللہ تعالیٰ مغفرت سے نواز سکتا ہے، تو انسان کو راحت پہنچانے کا اجر کتنا عظیم ہوگا، حدیث پاک میں ہے:’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا:جب کسی انسان کا بیٹا فوت ہوجاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح کو قبض کرلیا ؟،وہ عرض کرتے ہیں:جی ہاں!،پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم نے میرے بندہ کے دل کا ٹکڑالے لیا؟،وہ عرض کرتے ہیں:جی ہاں!،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے (اس مصیبت پر)کیا کہا تھا؟، فرشتے عرض کرتے ہیں:اے اللہ!اُس نے تیری حمد کی اور ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ پڑھا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کا نام ’’بیت الحمد‘‘رکھو (سنن ترمذی:1021)‘‘۔

زینب بی بی مرحومہ کے والدین کو اللہ تعالیٰ اس انتہائی اذیّت ناک دکھ کو برداشت کرنے پریقینا اجر عطا فرمائے گا اور اپنے رسولِ مکرّم ﷺ کی بشارت کے مطابق انہیں اپنی شہید بیٹی کی رفاقت اور نعمتوں سے نوازے گا۔میں زینب بی بی مرحومہ کے والد محمد امین صاحب کو سلام کرتا ہوں کہ انتہائی دکھی ہونے کے باوجود انہوں نے کہا: ’’ہمارا احتجاج پر امن ہے، نجی اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے، اس سے فسادی عناصر فائدہ اٹھائیں گے، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں ‘‘۔

وہی لوگ جوحدودِ الٰہی کو العیاذ باللہ! وحشیانہ سزائیں کہتے ہیں، اِن مواقع پر مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرموں کو چوک میں لٹکایا جائے، عبرت ناک سزا دی جائے، لیکن آج بھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قوانینِ حدود وقصاص کو مِن وعَن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، انہی عناصر کو خوش کرنے کے لیے جنرل پرویز مشرف صاحب نے اپنے آمرانہ جبر کے ذریعے پارلیمنٹ سے’’وومن پروٹیکشن ایکٹ‘‘ پاس کرا کے ’’زنا بالرّضا‘‘کو تحفظ دیا ہے۔ ہماری رائے میں حقیقی مجرموں کو صحیح شناخت اور ثبوت وشواہد کے ساتھ گرفتار کرنے کے لیے چوبیس یا چھتیس گھنٹے کی ڈیڈ لائن دینا درست نہیں ہے۔ ہماری تو خواہش ہے کہ اگلے ہی لمحے وہ گرفتار ہوں اور اپنے عبرت ناک انجام سے دوچار ہوں، لیکن تحقیق وتفتیش اور قانون کے تقاضے پورے کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ عدالت اور حاکمِ وقت کا کام یہ ہے کہ وہ اس ساری پیش رفت پر نظر رکھیں، یومیہ رپورٹ لیں اور اگر انہیں محسوس ہو کہ کوئی قانون نافذ کرنے والا سرکاری اہلکارکوتاہی برت رہا ہے، تو اُسے فوری طور پر معزول کریں اور انتہائی فعال افسران کو یہ ذمے داری تفویض کریں۔ ڈی سی کے دفتر پر چڑھائی کرنے یا بعض سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر یلغار کرنے سے کسی کے جذبۂ انتقام کوتو تسکین پہنچ سکتی ہے، لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔مجھے اُن سیاسی رہنماؤں پر بھی حیرت ہے جو ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں، کیا اُن کو ملک کے نظامِ آئین وقانون اور نظامِ عدل کا علم نہیں ہے۔ ایسے ہی دباؤ کے نتیجے میں تفتیش کے ذمے داران کسی کو پکڑ کر لے آتے ہیں، اپنے آپ کو دباؤ سے نکالنے کے لیے اعترافی بیان بھی دلا دیتے ہیں، لیکن بعد میں کچھ ثابت نہیں ہوتا، ہمیں کراچی میں اس کا بہت تجربہ ہے۔یہ بات بھی یقینا حیرت کا باعث ہے کہ آخر قصور کے علاقے میں بار بار اس طرح کے واقعات کیوں رونما ہورہے ہیں، کیایہاں کوئی خاص مافیا ہے، جس کی کہیں سے پشت پناہی ہورہی ہے، اس کے لیے ایک جامع تحقیقاتی کمیشن کی ضرورت ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ ہر عہد کا حاکمِ وقت اپنے عہد میں ہونے والے کسی بھی ظلم کی جوابدہی سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔

مُتَصَوِّفَیْن پر بھی برا وقت آیا ہوا ہے، دس بارہ سال پہلے اچانک امریکہ اور اہلِ مغرب پر آشکار ہوا کہ ’’صوفی اسلام ‘‘بڑے کام کی چیز ہے، چوہدری شجاعت حسین صاحب کی سربراہی میں صوفی کونسلیں تشکیل دی گئیں،اچانک وہ تصوّف کے امام بن گئے۔ امریکہ اور یورپ میں صوفی کانفرنسیں منعقد ہونے لگیں، اُن کا مطلب یہ تھا کہ صوفی اسلام بے ضرر اسلام ہے اور یہ آسانی سے قابلِ استعمال ہوسکتا ہے،لیکن جلد ہی اُن کی خوشی کافور ہوگئی اور صوفی اسلام کے نام پر برپا کی گئی مجالس کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔ گزشتہ دنوں ٹی وی پر ہمارے پاپولر لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین جناب عمران خان کا انٹرویو سنا،وہ تصوف اور معرفت کی باتیں کر رہے تھے۔ وہ تصوف کے شیخ اکبر ابنِ عربی کا حوالہ دے رہے تھے۔ علامہ جاوید احمد غامدی نے توتصوف کو متوازی شریعت قرار دیاہے اور شیخِ اکبر کی ’’فصوص الحکم‘‘پر بڑی گرفت کی ہے۔ شیخِ اکبر کے فلسفے کو سمجھنا ہر ایرے غیرے کا کام نہیں ہے، ہمارے ہاں ماضیٔ قریب میں حضرت قبلہ سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ تعالیٰ شیخِ اکبر کی فصوص الحِکم پر اتھارٹی کا درجہ رکھتے تھے۔

کراچی میں حضرت بابا ذہین شاہ تاجی مرحوم فصوص الحکم کا درس دیا کرتے تھے اور یہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اُن سے استفادہ کرتے تھے۔ تصوُّف نہ ہوابارہ مصالحے کی چاٹ ہوگئی کہ جو چاہے اُس پر مشقِ ناز کرے اور جو اینکر پرسن بن کر کسی ٹیلی ویژن چینل کے اسٹوڈیوز میں رونق افروز ہوجائے، تووہ از خود جامع العلوم بن جاتا ہے، اس کو آزادی ہے جس موضوع پر چاہے بات کرے اور فیصلہ صادر کرے۔ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’فلسفۂ وحدت الوجود‘‘پر تفصیل سے کلام کیا ہے۔انہوں نے لکھا: یہاں تین چیزیں ہیں:توحید، وحدت اوراتحاد۔ توحید مدارِ ایمان ہے اور اس میں شک کفر، اور وحدتِ وجودحق ہے، جوقرآنِ عظیم، احادیثِ مبارکہ اوراکابرِین امت کے ارشادات سے ثابت اور اس کے قائلین کو کافر کہنا خود شنیع وخبیث کلمۂ کفر ہے۔ رہا اتحاد، وہ بے شک زندقہ والحاد اور اس کا قائل ضرور کافر۔ اتحاد سے مرادیہ کہ یہ بھی خدا، وہ بھی خدا، سب خدا: ’’گر فرقِ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘۔ حاشا لِلّٰہ! اِلٰہ، اِلٰہ ہے اور عبد، عبد ہے، اب ہرگز نہ عبد الٰہ ہوسکتا ہے اور نہ اِلٰہ عبداور وحدتِ وجود یہ کہ وہ صرف موجودِ واحد، باقی سب ظِلال(ظِلّ کی جمع) وعُکوس(عکس کی جمع) ہیں،قرآنِ کریم میں ہے:ترجمہ: ’’ہرچیز فانی ہے سوائے اُس کی ذات کے، (القصص:88)‘‘۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:ترجمہ: ’’سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی، لبید کا یہ قول ہے: سنو!اللہ تعالیٰ کے سواہر چیز اپنی ذات میں محض بے حقیقت (یعنی فانی )ہے، (بخاری:3841)‘‘،ان کلمات کی شرح میں علامہ غلام رسول سعیدی عمدۃ القاری کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس شعر میں اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز کو باطل کہا ہے، حالانکہ اللہ کی طاعات اور عبادات یقینا برحق ہیں، نبی ﷺ نے تہجد کی دعا میں فرمایا: ’’تو حق ہے اور تیرا قول حق ہے، جنت اور دوزخ حق ہیں ‘‘،تو اُن کو باطل کہنا کس طرح صحیح ہوگا؟۔اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ذاتیہ اور فعلیہ یعنی رحمت اور عذاب کے سوا ہرچیز باطل ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ جنت اور دوزخ اللہ تعالیٰ کے باقی رکھنے سے باقی رہیں گی اور اہلِ جنت اور اہلِ دوزخ اس میں دائماً باقی رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے ماسوا ہر چیز پر زوال ممکن ہے ‘‘۔جب بھی فرصت ملے، میں جناب ڈاکٹر لال خان کے افکار کو پڑھتا رہتا ہوں تاکہ موجودہ دور میں کمیونزم کی تعبیرات کا پتا چل سکے۔ انہوں نے اس پر ’’روح کی غربت ‘‘کے عنوان سے مفید کالم لکھا ہے، جس میں زارینۂ روس الیگزنڈرا کے روحانی مرشد گریگوری راسپیوٹن کے آکاس بیل بن کر پورے نظام پرمسلّط ہونے کا ذکر ہے، بعد میں محترمہ بے نظیر بھٹو، جنابِ نواز شریف اور جنابِ آصف علی زرداری کے روحانی مرشدین کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ ساری بحث جنابِ عمران خان کے حالیہ روحانی تجربے کے سیاق وسباق میں ہے۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */