زینب کے قاتل کی گرفتاری ریاست کے لیے چیلنج - محمد بلال خان

زینب کے قاتل کی گرفتاری میں ناکامی صرف پنجاب پولیس اور شہباز شریف کی نہیں، اب یہ ناکامی اس ریاست کے ان تمام اداروں کی ناکامی ہے، جن سے زینب گڑیا کے بابا نے انصاف کی بھیک مانگی۔ چیف جسٹس نوٹس لے کر کیس کی سماعت کرسکتے ہیں، اس سے زیادہ ان کے بس کی بات نہیں جبکہ چیف آف آرمی سٹاف پاکستانی تمام افواج کے سربراہ ہیں، فوج اور پولیس کا کام عوامی تحفظ ہے۔

پاکستان میں 24 کے قریب انٹیلی جینس ایجنسیاں کام کررہی ہیں، جن کے لاکھوں کارندے ہیں، مگر آئی بی سمیت دیگر 22 ایجنسیز سول گورنمنٹ کے انڈر ہیں، اس لیے وہ نااہل، کرپٹ، کاہل اور پولیس کی طرح سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی بھیگی بلیاں سمجھی جاتی ہیں، مجھ سمیت آپ میں سے اکثر کو ان 22 ایجنسیوں کے نام بھی نہیں آتے ہوں گے، مگر صرف دو اداروں میں فرشتے بھرتی ہیں، میرا مطلب زمینی فرشتے یعنی آئی ایس آئی اور ایم آئی۔ یہ دونوں ادارے پاکستان آرمی کے ماتحت ہیں، اسی وجہ سے آئی ایس آئی کی کارکردگی نمبر ون ہے، مگر آج 9 دن سے خاک ہوئی زینب کی قبر کی مٹی دھیرے دھیرے خشک ہورہی ہے، مگر ہمارے نمبر ون ادارے کے فرشتے بھی قاتل کو ڈھونڈنے میں ناکام ہیں، بخدا! یہ کارکردگی دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید ہماری ایجنسیوں کو صرف اور صرف مذہبی لوگوں کو اغواء کرنے، انہیں راؤ انوار اور مشتاق سکھیرا جیسوں کے حوالے کرنے کے لیے ہی تنخواہ ملتی ہے، باقی ملک میں جو کچھ ہورہا ہے، اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔

درحقیقت ملکی سلامتی کے اداروں کا کام ہی عوامی تحفظ ہے، ملک و ملت کی پاسبانی کے لیے چنے گئے ان افراد کو ایسے قومی ایشو پر دل و جان سے کام کرنا چاہیے، اور ہمیں اپنے ان اداروں سے سوال کرنا چاہیے کہ آخر زمین کھود کر بھی دشمن، مجرم یا مطلوبہ ٹارگٹ کو برآمد کرنے والے ہمارے نمبر ون جانباز زینب کے قاتل کو ڈھونڈنے میں کیوں ناکامی کا منہ تک رہے ہیں؟ اگر یہی حالت ہے اس ملک کی سیکیورٹی ایجنسیز کا تو پھر کیا نمبرون ہے بھئی؟

ویسے زینب کے والد کو چاہیے تھا کہ اس قتل کی ذمہ داری طالبان پر ہی ڈال دیتے، کم از کم اس جستجو میں کوئی ملزم ہی برآمد کرلیا جاتا، اس بے چارے نے کمیشن کے قادیانی سرپرست کو کیا مسترد کیا کہ نمبر ون سے لے کر شوباز شریف یعنی مجرمِ اعلیٰ تک سب کو سانپ سونگھ گیا۔ مجھے خوف ہے کہ کہیں قادیانی کا نام لینا زینب کے والد کو بھاری نہ پڑجائے کیونکہ زینب جیسی کلیوں کو مسلنے والوں کے مجرموں کو پنا دینے والوں کا "مذہبی استحقاق مجروح" نہ ہو، بیشک ہزاروں زینبیں کوڑے کا ڈھیر بنتی رہیں۔

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.