لبرلز کو گالیاں دینے والوں سے چند گزارشات - زبیر منصوری

لبرلز کو دوصبح دو دوپہر اور چار شام کی اوسط سے گالیاں دینے والے حضرات سے میری چند مؤدبانہ گزارشات

لبرلز کے ڈاکٹر مونس جیسے لوگ جب یونی ورسٹیز کے مؤثر ڈیپارٹمنٹس میں دہائیوں پہلےخدا بیزاری کی پنیریاں لگا رہے تھے اور دین کے بارے میں شک بو رہے تھےاس وقت آپ اور ہم جیسے دیندار داڑھی کے سائز کی بنیاد پر تقوی کے پیمانے بنا رہے تھے۔

لبرلز جب سوشلزم کی پلانڈ موت کے بعد سرمایہ دارانہ نظام سے معاہدے کر کے ذہانت کے ساتھ شیطانیت کے فروغ کے لیے تخلیقی کام اور وسائل فراہم کر رہے تھے اس وقت دیندار اپنے اداروں میں ضرب ضربا ضربوا اور ضربت کے رٹے لگوا رہے تھے۔

جس وقت لبرل قوتیں قادیانی اور کچھ فرقے فوج بیوروکریسی عدلیہ اور دیگر اہم شعبوں مین خاموشی سے آنے والے کل کے پودے لگا رہے تھے، اسلام پسند کراچی اور لاہور کی سڑکوں پر امریکا مخالف نعرے لگا کر شرکا کی تعداد پر شادمانی کے ڈنکے بجا کر خوش ہو رہے تھےاور اسی کو کام سمجھے بیٹھے تھے۔

جس وقت لبرلز جیو، ڈان نیوز، اے آر وائی اور باقی مؤثر اخبارات و رسائل میں چھانٹ چھانٹ کر دین دشمن لوگوں کو اہم پوسٹوں پر بھرتی کروا رہے تھے، دین دار حلقے اس پر خوش ہو رہے تھے کہ آج ایک کے بجائے دو کالم خبر شائع ہوگئی۔

لبرلز جب ملک کی نظریاتی سماجی اور دینی بنیادوں میں لادینیت اور اپنی تہذیب سے کاٹنے کا بارود بھر رہے تھے، نصاب بدل رہے تھے، ایڈووکیسی کر رہے تھے، اسلام پسند ایک بیان اور دو پوسٹوں کو کافی سمجھ کر اوڑھ لپیٹ کر سو رہے تھے۔

سارے اسلام پسند آج میری یہ بات بھی کان کھول کر سن لیں! اگر انہوں نے دیر تک اور دوور تک سوچ کر ، ٹھنڈے دماغ سے منصوبے بنا کر مشترکات پر جمع ہو کر ٹھیک ٹھیک اہداف سیٹ کر کے معمولی مقاصد سے بالاتر ہو کر نہ سوچا تو کل سیکس ایجوکیشن ہی تمہارے بچوں کو نہیں پڑھائی جا رہی ہو گی بلکہ میرے منہ میں خاک گلیوں اور بازاروں میں امریکا کے خلاف بات کرنا اور اسلام کا نعرہ لگانا اسی طرح مشکل کر دیا جائے گا جیسے آج جہاد کی بات کرنا جرم بنا دیا گیا تھا

آہ!

مرشد سمجھا گیا تھا کہ تہذیب کا مقابلہ تہذیب، کلچر کا کلچر ، دلیل کا دلیل، پلاننگ کا پلاننگ، میڈیا کا میڈیا ہی سے کیا جائے گا تو ہی بات بنے گی۔ منہ کی فائرنگ، زبانی بھاشن، "او میں لتاں پَن دیاں گا " کی للکاریں مارنے کا زمانہ گیا ۔ گھاس میں پانی کی طرح ،سوچا سمجھا ،تیز ،بروقت کام ،ٹھیک سمت میں سفر اور وسائل کا فوکسڈ استعمال نہ ہوا تو… میرے منہ میں خاک… بس!

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.