چاند نگر - نسرین غوری

ہمارے پاس اس ٹریک کی کوئی تصویر نہیں، کوئی سیلفی نہیں، ایک بھی نہیں۔ کوئی ثبوت نہیں۔ لیکن اٹ واز ون آف دی ونڈرز آئی ہیو بین تھرو!

ندا کو پروگرام کے شروع سے ہی کارونجھر کی پہاڑیاں ہوگئی تھیں۔ صرف ندا کو ہی نہیں ہمیں بھی بہت پہلے سے کارونجھر کی پہاڑیاں ہوگئی تھیں۔ سارا قصور بارش کے بعد اخبارات اور سوشل میڈیا پر دھڑادھڑ آنے والی ان تصاویر کا تھا، جن میں کارونجھر کی پہاڑیوں سے دریائے کارونجھر بہتا نظر آرہا تھا۔ کچھ قصور کچھ عرصہ قبل جنگ میں شایع شدہ مضمون کا بھی تھا کہ تھرپارکر میں کارونجھر کی پہاڑیاں بھی ہیں جن پر ٹریکنگ کی جاسکتی ہے اور ہم نے اپنے تھرپارکر ٹرپ کے خواب میں کارونجھر نام کا ایک ستارہ ٹانک لیا۔

قصہ مختصر ندا کو بھی کارونجھر کی پہاڑیوں پر ٹریک کرنا تھا۔ اس کے اور ہمارے شوق کو ہوا دینے کے لیے عدیل کے مقامی دوست ڈاکٹر نے بھی کارونجھر رینج میں ایک ویو پوائنٹ کا اضافہ کردیا جہاں سے تھرپارکر کا دور دور تک نظارا نظر آتا ہے۔ بس ہم دونوں جیسے بے تاب ہوگئے کارونجھر ٹریک کرنے کو۔ ڈاکٹر صاحب ویو پوائنٹ سے آگے بڑھ چکے تھے لیکن ہم اور ندا کارونجھر سے باہر نکلنے کو تیار نہیں تھے، خاص کر ندا جس کی سوئی کارونجھر رینج ایکسپلور کرنے پر اٹک گئی تھی اور رخسانہ عدیل کے ساتھ مل کر مسلسل اس کی ٹرولنگ کیے جارہی تھی۔ انٹرسٹڈ تو ہم سب ہی تھے لیکن ہمارے پاس وقت کم اور مقابلہ سخت تھا۔

ہم ننگرپارکر پہنچے ہی اندھیرا ہونے کے بعد تھےمزید دیر رات گزارنے کا ٹھکانا ڈھونڈنے میں لگی۔ آپ ننگرپارکر میں ہوں اور ننگرپارکر کے جین مندر نہ دیکھیں تو آپ سے زیادہ بد نصیب کوئی ہوگا۔ ڈنر سے فارغ ہو کر واک کرنے کا موڈ ہوا، واک کرتے کرتے عدیل کو یاد آیا کہ قریب میں ایک مندر ہے۔ ایک مقامی سے اس مندر کا اتا پتا پوچھا اور چل دیے۔ مندر اندھیرے میں منہ لپیٹے سویا ہوا تھا۔ بند دروازے کی سلاخوں سے اندھی تصاویر لیں۔

تب ہی عدیل نے ایک اور مندر کا تذکرہ کیا جو اس کے بقول آدھے گھنٹے کی واک پر تھا۔ ایک اچانک ظاہر ہونے والے مقامی سے اس کے بارے میں پوچھا۔ جس پر ہمیں شک تھا کہ وہ مقامی تو تھا لیکن شاید کچھ اوربھی تھا۔ اس نے کہا آگے جا کر بائیں ہاتھ والا ٹریک مندر کو جاتا ہے۔ آدھی رات، پورا چاند اور سناٹا۔ چند منٹ کے گروپ ڈسکشن کے بعد فیصلہ ہوا "لیٹس گیو اٹ اے ٹرائی" اور ہم چاروں "آف ٹریکس" اور ایک نووارد ٹریکر اس ٹریک پر چل پڑے۔

کچھ دور کچے ٹریک پر چلنے کے بعد ایک پکا ٹریک دریافت ہوا جو آگے جا کر دو ٹریکس میں تقسیم ہورہا تھا۔ ہم نے بائیں کے بجائے دائیں ٹریک پکڑ لیا جانے کیوں۔ ایک ہائی ایس کے گزرنے کے چوڑائی کے برابر ٹریک کارونجھر کی عجیب الخلقت چٹانی چہروں والی پہاڑیوں کے درمیان لیفٹ ٹرن لے کر کہیں روپوش ہورہا تھا۔ ٹریک کے دونوں جانب سے کارونجھر کی چٹانیں ایک دم سے ساٹھ ستر کے زاویے پر ایک دم اٹھتی ہیں جن کے درمیان میں سیمنٹڈ ٹریک سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا، ابھرتے چاند کی چاندنی میں سانپ ہی کی طرح چمک رہا تھا۔ اور اس "ہائی وے ٹو دا مون" پر ہم چار ٹریکرز اٹھکیلیاں کرتے چلے جارہے تھے۔

کبھی آیت الکرسی پڑھتے، کبھی گانے گاتے، کچھ کچھ سہمے اور بہت سارا انجوائے کرتے ہم چلے جارہے تھے، ہر موڑ پر ماؤنٹین اسکائی لائن ایک نئی صورت اختیار کرلیتی تھی۔ قریبی چٹانیں کبھی کسی جانور کی شبیہہ لگتیں تو کبھی کسی جھاڑی میں کسی کے ہونے کا گماں ہوتا۔ کبھی جھینگر کی آواز پر سانپ کی آواز کا گماں کرتے۔ کبھی خیال آتا کہ اگر کوئی بھیڑیا اچانک سامنے آگیا تو۔ لیکن ان سارے خدشات کے باوجود ہم چلے جارہے تھے اور چاندنی کی شاہراہ تھی کہ ختم ہونے میں نہیں آتی تھی۔

گمان ہوا کہ کہیں ہم چلتے چلتے دوسری جانب پہنچیں تو پھر مٹھی میں ہی موجود ہوں۔ چٹی سفید چاندنی، ہمارے علاوہ کسی اور ذی روح یا غیر روح کا دور دور تک کوئی اتا پتا نہ تھا۔ ایک خواب صورت روپہلی خاموشی میں بس جھینگروں کا ساز۔

کیمرے ہم نہیں لے جاسکتے تھے کہ ننگر پارکر میں کیمرے لےجانا منع ہے۔ موبائل فونز سے اس چاندنی رات میں تصویر نہیں آنی تھی۔ سو ہم اس رات، اس چاندنی، اور اس پر اسرار ماحول کو اپنے اندر جذب کیے جارہے تھے۔ کافی آگے جاکر بھی چاندنی کی شاہراہ مزید آگے جانے پر مصر تھی لیکن ہم انجان تھے کہ آخر اس کا انت کہاں ہوگا۔ سو متفقہ فیصلہ کیا کہ واپس چلا جائے۔

اور ہم بغیر کوئی تصویر لیے اس چاند نگر سے واپس ہولیے۔ ہمارے پاس اس ٹریک کی کوئی تصویر نہیں۔ اگلے روز ہم بذریعہ وین اسی راستے سے شیو مندر گئے۔ لیکن نہیں وہ کوئی اور راستہ تھا، دن کی روشنی میں وہ کوئی اور راستہ تھا، وہ چاند نگر اور چاندنی کی شاہراہ تواس رات بس ہمارے لیے اللہ کا خاص انعام تھی جو صرف ہمارے لیے ہی ظاہر ہوئی تھی اور جس کی ہمارے پاس کوئی تصویر نہیں۔

ہو ہی نہیں سکتی۔

فوٹو ٹائٹل: کاسبو کا چاند

فوٹو کریڈٹ: عدیل پرویز

Comments

نسرین غوری

نسرین غوری

نسرین غوری ایک بلاگر ہیں۔ خود کو زمانے سے الگ سمجھتی ہیں۔ ہر معاملے پر ان کی رائے بھی زمانے سے الگ ہی ہوتی ہے۔ جس سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں۔ آؤٹ اسپوکن کے نام سے ان کے بلاگز یہاں موجود ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.