کوا چلا ہنس کی چال - محمد طیب طاہر

دُور سے دیکھنے پر وہ شخص ایک پڑھا لکھا انسان معلوم ہورہا تھا۔ نکلتا قد،کِھلتی رنگت،فربہی مائل جسم،گھنگریالے بال، بیضوی آنکھیں،ستواں ناک،ہونٹوں پر چھائی گلابی اور صراحی دار لمبی گردن،سرخ شرٹ بلیو جینز پہنے اپنی دھن میں مگن چلا آ رہا تھا۔ دنیا و مافیہا سے بےخبر چہل قدمی کرتا قریب سے گزرا۔"کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا!"

وہ تو چلا گیا میرے ذہن میں ارتعاش پیدا ہونے لگا۔کتابوں پر لگی گرد چھٹنے لگی۔ ابوالکلام کی فصاحت یاد آنے لگی۔شاہ صاحب کی شعلہ بیانی کانوں میں رس گھولتی محسوس ہونے لگی۔اقبال کی شاعری تن بدن میں بجلی دوڑانے لگی۔حسرت موہانی "مسدس حالی" لیے امت کی زبوں حالی کا نقشہ کھینچتے دکھائی دینے لگے۔ وہ ایک مصرع جسم کو جھنجھوڑ کر رکھ گیا۔مصرع تھا یاں صدیوں کی ریاضت کا نچوڑ؟

وقت زیادہ نہیں گزرا جب اپنی زبان، جی ہاں اپنی زبان اردو شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی تھی!

ابوالکلام کی فصاحت،شاہ صاحب کی شعلہ بیانی،یوسف صاحب کی خطابت،منٹو کے افسانے،پطرس کا مزاح،اشفاق احمد کے موتی صفت الفاظ اور اشتیاق احمد کے شہرہ آفاق ناول قیامت ڈھا رہے تھے۔ وقت نے کروٹ بدلی۔اردو کی جگہ رومن نے لے لی۔لارڈ میکالے کا تیر ہدف پر ثابت ہو چکا تھا۔کوا چال بدل چکا تھا۔

کل ایک دوست کا میسج آیا،لکھاتھا"u r inv in bk crmny" اللہ جانتا یوں محسوس ہو رہا تھا جسے کوئی گالی لکھ دی۔ دوست سے رابطہ کیا۔اس نے بتایا۔آپ کو ایک کتاب رونمائی تقریب میں بلایا گیا ہے۔سر پیٹ کر رہ گیا۔

زبوں حالی اسی آئی کہ استاد محترم کو کہنا پڑا۔تحریر میں الفاظ کا چناؤ آسان کیجیے۔مشکل اردو نہ لوگ پڑھتے ہیں، نہ ہی سمجھ میں آتی۔

اپنی زبان سے محبت کیجیے۔اس کو پڑھیے،سنیے اور بولیے۔ جتنی قوموں نے ترقی کی۔ اپنی زبان سے محبت کی وجہ سے کی۔ چین کے ماوزے تنگ انگریزی میں مہارت رکھتے تھے، پر بولی ہمیشہ اپنی زبان۔ انہیں کوئی لطیفہ انگریزی میں سنایا دیتا تو ضبط کیے بیٹھے رہتے۔اس وقت تک نہ ہنستے۔ جب تک کوئی چینی زبان میں اس کا ترجمہ نہ کر دیتا تھا۔