سال نو… کیا نہ کریں - ام محمد عبد اللہ

منافقین کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے کہ وہ جو خبر سنتے ہیں بنا تصدیق اور تحقیق کہ وہ خبر آگے پہنچا دیتے ہیں۔ مدینہ منورہ کی ابتدائی اسلامی ریاست میں منافقین کی پھیلائی گئی افواہوں کی بازگشت آج بھی ہمارے کانوں سے ٹکراتی اور انہیں اللہ تعالی کے غضب کا حقدار بناتی ہے لیکن سوچنے اور فکر کرنے کی بات یہ ہے کہ مومن ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہم آج کے مسلمان سیل فون ہاتھوں میں تھام کر کہیں منافقین کی صف میں تو نہیں جا کھڑے ہوتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے۔ ہر شخص اس کے اثر میں ہے۔ جیسے ہی ایک سیل فون کسی واقعے،خبر یا کہانی سے مستفید ہوتا ہے اس پر یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ سینکڑوں لوگوں تک اس کو پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرے اور وہ سینکڑوں لوگ اسے مزید سینکڑوں کو آگے پہنچانے کا فریضہ سرانجام دینے میں کوتاہی نہیں کرتے اور یوں یہ جھوٹ کروڑہا بار ضرب کھا کر اپنے بنانے والے کے نامہ اعمال میں درج ہو جاتا ہے۔

ان "فارورڈ میسجز" کی برکت سے نیٹ سلو ہو جاتا ہے، فون میموری اکثر ساتھ چھوڑ جاتی ہے اور ہماری لمحہ بھر کی دل لگی بہت سے لوگوں کے لیے مصیبت کا باعث بن جاتی ہے۔

اگر کہیں خرابی یا مسئلہ ہے تو متعلقہ حکام تک خبر پہچانی چاہیے تاکہ اس کا سدباب کیا جاسکے۔ منفی خبروں سے عوام الناس میں بےچینی پھیلنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اکثر لوگ تو اس کی لپیٹ میں آکر فرائض سے غفلت برتنے لگتے ہیں۔ شیطان ہمارا سب سے بڑا دشمن ہمیں اپنے فرائض ہی سے تو غافل کرتا ہے۔

کبھی کبھار کوئی سادہ حکمت بھرا مفید سا پیغام اپنے پیاروں کو بھیجنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن یاد رکھیے ہر وقت کی نصیحتیں اور بہت زیادہ نصیحتیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔

ہر مرتبہ نئے سال کی آمد پر ہم بڑے شوق سے کیا کیا کرنا ہے کی فہرست بناتے ہیں ۔ آئیے اس مرتبہ "ہمیں کیا نہیں کرنا" کی فہرست بنا کر خود کو اوروں سے مختلف گردانتے ہیں:

اس سال ہمیں فارورڈڈ میسج ہرگز ہر گز آگے فارورڈ نہیں کرنا ، ڈر جانا ہے

  • منافقین میں شامل ہونے سے
  • وقت ضائع کرنے سے
  • رقم ضائع کرنے سے
  • لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */