ہمارے قائد اعظم - توقیر ماگرے

شیکسپیئر کہتا ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ اپنی جدوجہد اورکارناموں کی بدولت عظمت حاصل کرلیتے ہیں۔ بلاشبہ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے کارناموں اور جدوجہد کی بدولت ہی عظمت حاصل کی۔ 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں ایک تاجر کے گھرانے میں آنکھ کھولنے والے محمد علی جناح نے قائد اعظم بننے تک کا سفر جس مسلسل جدوجہد، لگن اور نامصائب حالات کے باوجود طے کیا اس کی مثال تاریخ میں شاید ہی کہیں ملتی ہو۔ آپ نے اپنی ابتدائی بنیادی تعلیم کا آغاز 1883ء میں کراچی سے ہی کیا۔ بعد ازاں اعلی تعلیم کے لیے آپ جنوری 1893ء میں انگلستان روانہ ہوگئے جہاں سےآپ نے وکالت کی تعلیم 20 سال کی عمر میں مکمل کی اور وطن واپس آکر 1896ء میں ہائی کورٹ کے رجسٹرڈ میں اپنا نام بطور وکیل درج کروایا۔ آپ برصغیر پاک و ہند کے کم عمر ترین وکیل تھے۔

1906ء میں آپ کی سیاسی اور پارلیمانی زندگی کا آغاز ہوا جب کلکتہ میں کانگریس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر آپ کو اسلامی قانون اور برطانوی عدالتی کاروائی پر اظہار خیال کا موقع ملا۔ شروعات میں تو آپ ہندو اور مسلمانوں کی مشترکہ آواز بنتے ہوئے کانگریس کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے عوام کی توانا آواز بنے، مگر جلد اپنے یہ اندازہ لگالیا کہ کانگریس کو مسلمانوں کے مفادات کا کوئی خیال نہیں اور وہ صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے۔ اس کے بعدآپ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور مسلمانوں کو اپنا حق دلوانے کی جدوجہد میں لگ گئے۔

سیاست میں غیر متنازع رہنا کمال کی بات ہے اس کے لیے بے داغ اور اجلے کردار کی ضرورت ہوتی ہے جو ذاتی قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اس خطے میں تو کجا دنیا میں بھی اس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں کہ کسی سیاستدان کے کردار کو اس کے مخالفین بھی سراہتے ہوں۔ ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح سیاسیات عالم کی ایسی ہی بے مثال، غیر معمولی اور منفرد شخصیت ہیں۔

اصول پرستی، دیانتداری، انصاف پروری، خودداری، استقامت، اعتدال پسندی، بے خوفی و بے لوث وعدہ ایفائی اور صبروتحمل ان کی زندگی کے اصول تھے۔ عظمت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ بے غرض اور بے لوث ہو کر اجتماعی فلاح کے لیے ایسے کام سرانجام دیئے جائیں کہ جس سے انسانوں کی بڑی تعداد کو فائدہ پہنچے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قائد اعظم عظمت کے اصولوں پر پورا اترتے تھے۔ انکی بے غرضی کا یہ عالم تھا کہ تمام تر آسائشوں کی دستیابی کے باوجود عیش، آرام اور تن آسانی کی زندگی کبھی نہی گزاری۔ اور ڈسپلن کے سخت قائل تھے، جن سخت ضوابط کی توقع دوسروں سے کرتے تھے سب سے پہلے ان کی پابندی خود کیا کرتے تھے۔ کام، کام اور صرف کام کی توقع دوسروں سے بعد میں اور خود سے پہلے رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مختصر سی زندگی میں تخلیق پاکستان کا وہ کارنامہ سرانجام دیا جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ بھی قاصر ہے۔

بے پناہ ذہنی، عقلی اور فکری صلاحیتوں سے مالا مال تھے، ان صلاحیتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی خاطر سے اللہ تعالی نے انہیں مومنانہ کردار کے زیور سے بھی آراستہ کیا تھا۔ اعلی کردار کے بغیر تمام صلاحیتیں بے کار ہو جاتی ہے۔ ماضی میں بڑی بڑی ذہین و فطین اور قد آور شخصیات گزری ہیں جونا پختگی کردار کے باعث ناکارہ بن کر رہ گئیں۔ علم بغیر عمل کے بیکار ہے اور عمل بغیر خلوص کے بے فائدہ۔ اللہ تعالی نے اس مرد قلندر کو علم، عمل اور خلوص تینوں صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ان کی قومی اور نجی زندگی میں کوئی نظر نہیں آتا۔

آج یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی اصول لاگو نہیں ہوتا، اس میں ریا کاری، دغابازی، جھوٹ اور ہر طرح کا جوڑ توڑ جائز ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قائداعظم کی سیاست ہمیشہ دوٹوک، کھری، سچی اور صاف ستھری رہی۔ ریاکاری سے پاک اس سیاست نے ہمیں آزاد وطن دلایا۔ گو کہ قیام پاکستان سے قبل آپ کا شمار مہنگے ترین وکیلوں میں ہوتا تھا جسکے ایک مقدمے کی فیس 1500روپے تک ہوتی تھی مگر یہی وکیل جب پاکستان کا گورنر جنرل بنتا ہے تو اپنی تنخواہ ایک روپیہ ماہانہ طے کرتا ہے۔ آپ ذاتی خرچ کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالنے کی بجائے ان کی ادائیگی اپنی جیب سے کیا کرتے تھے۔ قانون کا احترام اس حد تک کرتے تھے کہ انجانے میں اگر کوئی پہرے دار آپ کو عام شہری سمھجتے ہوئے روک لیتا تو بجائے غصہ ہونے کے وہ اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنے دیتے۔ یہی وہ چند صفات ہیں جو محمد علی جناح کو قائد اعظم محمدعلی جناح بناتی ہیں کر بلا شبہ ان کی زندگی اور اصول ہم عوام کے لیے مشعل راہ ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */