مدرسہ ڈسکورسز - محمد عرفان ندیم

یہ آئیڈیا ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا تھا اور اسے عملی جامہ ڈاکٹر ماہان مرزا نے پہنچایا۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا دونوں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور امریکی ریاست انڈیانا کی یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم سے منسلک ہیں۔ ڈاکٹر ابرہیم موسیٰ کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے، ان کے آبا و اجداد انڈیا کے شہر گجرات سے ہجرت کر کے جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا بچپن جنوبی افریقہ ہی میں گزرا، یہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے جب انہیں ا سلامک اسٹڈیز کے مضمون میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ایک دن کسی کلاس فیلو نے کلاس میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ اسلام ایک غلط اور جھوٹا مذہب ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا تجسس بڑھا تو یہ امام مسجد کے پاس پہنچ گئے، یہاں تشفی نہ ہوئی تو پہلے تبلیغی جماعت اور پھر مختلف اسکالرز سے ملے لیکن تشنگی ابھی باقی تھی چناچہ انہوں نے خود دینی علوم حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ یہ دینی علوم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دینی مدارس میں آنا چاہے تھے لیکن گھروالوں کا اصرار تھا کہ انہیں انڈیا جانا چاہیے چناچہ یہ ندوۃ العلماء لکھنو پہنچ گئے۔ یہاں کچھ عرصے تک تعلیم حاصل کی اور پھر دار العلوم دیوبند چلے گئے، وہاں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیااور قاری محمد طیب کی محفلوں میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ تقربیا چھ سال تک انہوں نے مدارس میں رہ کر رسمی دینی تعلیم حاصل کی، کچھ عرصہ کے لیے کراچی بھی تشریف لائے اور اس طرح ان کی دینی تعلیم کا ایک مرحلہ مکمل ہوا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ دوبارہ جنوبی افریقہ چلے گئے، یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا، جرنلز م میں ماسٹرز کیا اور صحافت کو بطور پیشہ جائن کر لیا۔ کچھ عرصہ تک جنوبی افریقہ میں ہی صحافت کرتے رہے اور ساتھ پی ایچ ڈی بھی مکمل کر لی۔ اس کے بعد یہ امریکہ منتقل ہوئے اور مختلف اداروں سے ہوتے ہوئے یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم پہنچ گئے۔ یہ گزشتہ بیس سالوں سے امریکہ میں ہیں اور امریکہ میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسروں میں ان کا نام ٹاپ پر ہے، یہ ان چند گنے چنے اسکالرز میں سے ہیں جو مغرب میں رہ کر اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ یہ امریکہ میں دینی مدارس کے وکیل سمجھے جاتے ہیں اور یہ مختلف فورمز پر دینی مدارس کا دفا ع کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ خود بھی اپنے آپ کو مدارس کا ایڈو وکیٹ کہتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ چونکہ یہ خود دینی مدارس سے گزر کر گئے ہیں اس لیے انہوں نے 2015میں دینی مدارس کے حوالے سے ایک کتاب لکھی جس میں مدارس کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت اور افادیت پر بھی بات کی۔ مغرب میں اس کتاب کو خوب پذیرائی ملی اور وہاں کے دانشوروں اور سول سوسائٹی کے دینی مدارس کے بارے میں جو تحفظات اور خدشات تھے وہ کافی حد تک کم ہوئے۔ کچھ عرصہ پہلے انڈیا کے ڈاکٹر وارث مظہری نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا اور اب پاکستان میں یہ ترجمہ الشریعہ اکیڈمی اور اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے شائع ہوا۔ 21دسمبر کو اسلام آباد میں اس کتاب کی تقریب رونمائی تھی جس میں ڈاکٹر ابرہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا دونوں تشریف لائے تھے۔ یہ دونوں حضرات تین دن کے دورے پر پاکستان آئے تھے، اسلام آباد میں تقریب رونمائی کے بعد مختلف یونیورسٹیز میں لیکچرز، سیمینارز اور پینل ڈسکشن ہوئی اور 24دسمبر کو یہ قطر کے لیے روانہ ہوگئے۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کو مدرسہ ڈسکورسز کا خیال کیسے آیا اس کی طرف آنے سے پہلے میں ڈاکٹر ماہان مرزا کی طرف جانا چاہتا ہوں۔

ڈاکٹر ماہان مرز ا کا تعلق اسلام آباد پاکستان سے ہے، یہ کافی عرصہ پہلے امریکہ منتقل ہو ئے، بی ایس میکینکل انجینئرنگ میں کیا اور اس کے بعد یہ اسلامک اسٹڈیز کی طرف آ گئے۔ یہ ییل یونیورسٹی امریکہ سے پی ایچ ڈی ہیں، کچھ عرصہ تک کیلی فورنیا کے زیتونہ کالج سے منسلک رہے اور آج کل یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم میں پروفیسر آف پریکٹس ہیں۔ اس کے ساتھ یہ مدرسہ ڈسکورسز کورس کے بھی ڈائریکٹر ہیں اور بڑی مہارت اور دانشمندی سے اس کو ر س کو چلا رہے ہیں۔

اب ہم آتے ہیں مدرسہ ڈسکورسز کی طر ف، یہ آئیڈیا ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا تھا، یہ امریکہ کی یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم سے وابستہ ہیں اور بنیادی طور پر یہ کیتھولک یونیورسٹی ہے، یہاں ڈاکٹر صاحب کا رابطہ جان ٹیمپلٹن فاؤنڈیشن سے ہوا، یہ فاؤنڈیشن سائنس اور مذہب کے باہمی تصادم اور مذہب اور سیکولرزم کے مسائل کو افہام وتفہیم سے حل کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو کچھ اسکالرشپس کی آفر ہوئی انہوں نے مدرسہ ڈسکورسز کورس کا آئیڈیا پیش کر دیا۔ آئیڈیا یہ تھا کہ انڈیا کے مدارس کے وہ فارغ التحصیل طلباء جو گریجوایٹ ہیں اور عربی اور انگلش پر مناسب عبور رکھتے ہیں انہیں آن لائن کورس شروع کروایا جائے جس میں انہیں جدید علم الکلام کے حوالے سے مناسب تربیت دی جائے اور جدید سائنس نے مذہب کے حوالے سے جو چیلنجز اور سوالات کھڑے کیئے ہیں انہیں رسپانڈ کیا جائے، مزید یہ کہ عقائد کے علاوہ فروعی مسائل میں امکانی حد تک ایسی تعبیر پیش کی جائے جو موجودہ زمانے میں قابل قبول ہو۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اپنی مصروفیات کی بنا پر اس پرو جیکٹ کو وقت نہیں دے پائے چناچہ انہوں نے اپنے کولیگ ڈاکٹر ماہان مرزا کو ہائر کر لیا۔ ڈاکٹر ماہان مرزا کا تعلق پاکستان سے تھا لہٰذا انہوں نے پاکستانی اسٹوڈنٹس کو بھی اس کورس میں شا مل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اس سال فروری 2017میں اس کورس کا پہلا سمسٹر شروع ہوا اور انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں سے ٹیسٹ اور انٹر ویو کے بعد پندرہ پندرہ اسٹوڈنٹس کو منتخب کیا گیا۔ ہفتے میں ایک مقررہ دن پر کلاس ہوتی ہے، تمام اسٹوڈنٹس مقررہ وقت پر آن لائن ہو جاتے ہیں، ٹیکسٹ کو پڑھا جاتا ہے، ڈسکشن ہوتی ہے، سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور تشنہ سوالوں کے ساتھ کلاس ختم ہو جاتی ہے۔ کلاس میں جو ٹیکسٹ پڑھنا ہوتا ہے ہفتہ پہلے اسٹوڈنٹس کو بھیج دیا جاتا ہے جسے وہ پڑھ کر کلاس میں شریک ہوتے ہیں۔اسٹوڈنٹس کو مناسب لیپ ٹاپ اور نیٹ پیکیج بھی دیا گیا ہے تاکہ تعلیم کا یہ عمل کسی تعطل کے بغیر جاری رہے۔ جدید سائنس اور مغربی تھیالوجی نے مذہب کے سامنے جو سوالات کھڑے کیے ہیں انہیں رسپانڈ کرنے کی یہ اچھی کوشش ہے جسے بہرحال سراہا جانا چاہیے او ر اس کا سارا کریڈٹ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا کو جاتا ہے۔

انڈیا میں لیڈ فیکلٹی کے فرائض ڈاکٹر وارث مظہری صاحب سرانجام دے رہے ہیں، ٹیسٹ و انٹر ویو سے لے کر کورس کے بعض حصوں کی تدریس ان کی ذمہ داری ہے۔ یہ دار العلوم دیوبندسے فارغ التحصیل ہیں اور ترجمان دار العلوم کے مدیر بھی رہ چکے ہیں، علی گڑھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں اور اسی یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ پاکستان میں یہ ذمہ داری الشریعہ کے مدیر حافظ عمار خان ناصر صاحب سرا نجام دے رہے ہیں۔ عمار خان ناصر نامور اسلامی اسکالر مولٰنا زاہد الراشدی کے صاحبزادے اور مولٰنا سرفرازخان صفدر کے پوتے ہیں۔ پاکستان کے علمی حلقوں خصوصاً روایتی مذہبی حلقوں میں اپنی بعض انفرادی آرا اور روایت سے ہٹ کر چلنے کی وجہ سے متنازع حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ روایتی مذہبی حلقہ ان کے دینی اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے ان سے یہ توقع نہیں رکھتا لہٰذا تحفظات اور خدشات کی وسیع خلیج جانبین میں حائل ہوگئی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر عمار خان صاحب کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا ہے، یونیورسٹی سطح پر ا ن سے تلمذ کی نسبت بھی رہی ہے، تحفظات کے باوجود میرا خیال ہے کہ ان کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ میرا ماننا یہ بھی ہے کہ محترم موصوف کو بھی معاملات کی نزاکت کا احساس ہونا چاہیے۔ ایک تو ان کا دینی و خاندانی پس منظراور دوسری طرف اگر وہ روایت کو روندنا چاہتے ہیں تو سر پر اپنے بڑوں اور بزرگوں کا سایہ بھی چاہیے۔ بڑوں کے زیر سایہ اور ان کو اعتماد میں لے کر جو کام کیا جائے گا اس کے نتائج اور فوائد و ثمرات اس سے کہیں ذیاد ہ اور دیر پا ہوں گے جو وہ انفرادی طور پر حاصل کر پا رہے ہیں۔ مدرسہ ڈسکورسز کے حوالے سے مزید وضاحت اگلے کسی تحریر میں کروں گا۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.