طاہر القادری کے تضادات!- ڈاکٹر شفق حرا

علامہ طاہر القادری سے ابتدائی تعارف بچپن میں ہوا جب انہیں پہلی بار ٹی وی پر پندونصائح کرتے دیکھا۔ بچپن سے دل میں علماء کےلیے ایک خاص گوشہ انسیت موجود تھا، اس لیےان کی پرمغز باتیں سننا میرا مشغلہ ٹھہرا۔ گھنٹوں ٹی وی پر ان کے خطبات سن کر یقین پختہ ہوتا گیا کہ عصر حاضر میں ان جیسا عالم دین ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

ایک بار ان کا خطاب سنا جس میں انہوں نے اپنے ایک خواب کا تذکرہ کیا جس کا مرکزی خیال ان کی اپنی ممکنہ موت تھا۔ اس قصے کے مطابق ابھی وہ صرف اکتیس برس کے تھے کہ عالم ارواح میں ان کی موت کا فیصلہ ہوگیا۔ اس موقع پر ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہ رب العزت میں درخواست بھجوائی کہ ان کی عمر بڑھائی جائے جس کے بعد یہ طے پایا کہ علامہ طاہر القادری کی عمر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سال کم ہوگی۔ اگر اس خواب پر یقین کیا جائے تو یقینی طور پر علامہ طاہر القادری اپنی عمر کے باسٹھ برس مکمل کر کے عالم بالا جاچکے ہوتے لیکن آج تک یہ خواب فقط خواب ہی رہا۔

اسی دوران میں مجھے علامہ طاہر القادری کا ایک اور خطبہ دیکھنے کا موقع ملا جس میں موصوف نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے عالم الارواح میں امام ابوحنیفہ سے انیس سال تک تعلیم حاصل کی ہے۔ علامہ کا یہ دعویٰ سن کر میری عقیدت کئی گنا بڑھ گئی اور مجھے فخر محسوس ہوا کہ میں ایک ایسے عالم دین سے مستفید ہورہی ہوں جوکہ براہ راست امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں۔ چند روز بعد علامہ صاحب نے ایک اور جگہ خطاب کیا تو اس میں وہ جوش خطابت میں فرما گئے کہ عالم ارواح میں وہ نو سال تک امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد ہونے کی منزل حاصل کرچکے ہیں۔ یہ خطاب سن کر میرا ماتھا ٹھنکا لیکن پھر میں نے شیطانی وسوسوں کو دل سے دور کرنے کے لیے تین بار لاحول کا ورد کیا اور دل کو تسلی دی کہ علامہ صاحب شاید غلطی سے انیس کو نو بول گئے ہیں ورنہ کوئی شخص طویل ریاضت اور مشقت سے حاصل کیے گئے علم کے مہ و سال میں مغالطہ کیسے کرسکتا ہے۔

میرا علامہ صاحب پر اعتقاد اس روز کرچی کرچی ہوا جب ایک دن یوٹیوب پر میں نے ان کے دو خطابات میں موجود واضح تضاد دیکھا۔ ایک خطاب نوے کی دہائی کا تھا جس میں علامہ صاحب پاکستان میں ضیاء الحق دور میں لائے گئے توہین رسالت کے قانون دو سو پچانوے سی کا کریڈٹ لے رہے تھے۔ اس خطاب میں آپ یہاں تک فرما گئے کہ دو سو پچانوے سی کو لانے کا اکلوتا سہرا سب کے بھائی طاہر القادری کے سر جاتا ہے۔ دوسرا خطاب بیرون ملک گوروں کے دیس کا تھا جس میں وہ نہ صرف اس قانون کی مخالفت کرتے نظر آئے بلکہ یہاں تک کہہ گئے کہ ان کا اس قانون سے میلوں دور کا تعلق نہیں۔ یہ کھلا تضاد دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ طاہر القادری اگرچہ مذہب کی معلومات رکھتے ہیں لیکن وہ ان معلومات کو فلاح انسانیت کی بجائے اپنی ذاتی دکان چمکانے کے لیے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

پھر دو ہزار تیرہ کا سال آیا جب یکایک طاہر القادری پاکستانی سیاست کے افق پر نمودار ہوئے اور قوم کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے لگے۔ شاید وہ یہ بھول گئے کہ اگر یہ آرٹیکل ان پر لگ گیا تو قول و فعل میں موجود تضادات کی لمبی فہرست سب سے پہلے ان کی نااہلی کا موجب بنے گی۔ طاہر القادری کی اسلام آباد کی جانب یلغار میں ان کے معتقدین کی کثیر تعداد موجود تھی جوکہ محض حصول ثواب کی خاطر اسلام آباد کی سرد فضاء کا سامنا کررہے تھے۔ دوسری جانب طاہر القادری اپنے کنٹینر میں براجمان ہیٹر کی مدد سے ٹھنڈے موسم میں گرمیوں کا لطف اٹھا رہے تھے۔

میں نے اپنی آنکھوں سے چھوٹے چھوٹے بچوں کو مائوں کی گود میں سردی سے نبرد آزما دیکھا تو مجھے یقین آگیا کہ علامہ صاحب بہت کچھ ہوسکتے ہیں، لیکن وہ ایک ایسے عالم کا دل نہیں رکھتے جو ایسے حالات میں تڑپ کر نہ رہ جائے۔ میرا اعتقاد مزید متزلزل ہوگیا کہ پتا نہیں کس کے اشارے پر ان معصوم جانوں کی زندگیاں عذاب میں ڈال رہے ہیں۔ اس دوران میں موسم کے تیور دیکھ کر معتقدین بھی زچ ہوگئے جس سے علامہ صاحب خوفزدہ ہوئے اور حکومت گرانے کی نیت تبدیل کرتے ہوئے عزت بچائو معاہدہ کرکے بیرون ملک ایسے سدھارے کہ پھر پلٹ کر پوچھنا گوارا نہ کیا کہ ان کے معاہدے کا کیا حشر ہوا۔

الیکشن کے بعد نئی حکومت قائم ہوئی تو علامہ صاحب کو پھر پاکستان کی محبت کا بخار چڑھا۔ انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی اور اسی دوران پنجاب حکومت اور پولیس نے اپنی حماقت سے ماڈل ٹائون میں قتل عام کردیا۔ اس قتل عام کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے کیونکہ ریاست کا اپنے ہی شہریوں کو گولیوں سے چھلنی کرنا جدید دور میں بے نظیر ہے۔ علامہ نے سانحہ ماڈل ٹائون کے شہداء کی لاشوں پر سیاست کی اور تحریک انصاف کے ساتھ مل کر ایک اور دھرنا دے ڈالا۔ اگرچہ یہ دھرنا پچاس روز تک جاری رہا لیکن اس کا نتیجہ بھی کسی اعلان کے بغیر دھرنا ختم کرنے پر نکلا ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے رہے کہ علامہ نے دھرنا ختم کرنے کے عوض حکومت سے کروڑوں وصول کیے تاہم چونکہ آج تک یہ بات ثابت نہیں ہوئی اس لیے میں اس الزام کو محض الزام ہی سمجھتی ہوں۔

دو ہزار چودہ کے دھرنے کی ناکامی کے بعد علامہ طویل عرصہ بیرون ملک مقیم رہے اور ان کو سانحہ ماڈل ٹائون کا قصاص یاد ہی نہ رہا۔ میں طاہر القادری کو درست مانتی اور ان کی تحریک قصاص کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی اگر وہ اس واقعے کے بعد ہی دھرنا دے کر مظلومین کے ساتھ بیٹھ جاتے۔ اب نوازشریف کی نااہلی کے بعد علامہ کا قصاص لینے کا جذبہ پھر جوش میں آیا اور انہوں نے وطن واپس آکر پنجاب حکومت کو اکتیس دسمبر تک بوریا بستر لپیٹنے کا حکم صادر کردیا۔ اس بار آصف زرداری، عمران خان سمیت متعدد سیاسی رہنما علامہ کو اکسانے میں شامل ہیں۔ علامہ کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ ان کے الٹی میٹم وقتی اور صرف وقت گزاری کے لیے ہوتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پچاس ہزار کی تعداد میں کفن کا آرڈر وہ دے چکے ہیں، جبکہ خود بھی کفن لپیٹ کر منظرعام پر آئے تھے لیکن پھر کیا ہوا، وہی جن کا کچھ ذکر میں اوپر بھی کرچکی۔

اگرچہ اس بار علامہ کے عزائم کافی سخت ہیں لیکن کہتے ہیں آزمائے ہوئوں کو آزمانا عقل مندی نہیں۔ مجھے ان کے اگلے ممکنہ دھرنے کا انجام بھی ماضی کی طرح مایوس کن ہی نظر آرہا ہے۔ اگر اس بار بھی یہ دھرنا حسبِ سابق ہی ”انجام بخیر“ ہوا تو کیا اس سوال کا جواب مشکل ہوگا کہ علامہ طاہر القادری مذہبی اسکالر ہیں یا صرف ایک سیاسی شعبدہ باز۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • محترمہ۔۔
    یہ سنگ صفت مست سبو یہ شاہی لٹیرے، یہ انکے مطمئن و چمکتے مسکراتے ہوئے چہرے، یہ ہیں بے ایمان تجارِ دین و ملت و وطن، بظاہر نیک و معزز اصل میں بندہء شکم و بطن۔ دنیا خرید لی ہے خرم انہوں نے عقبی کے بدلے۔ یہ علم وعقل کے جعلی ماہر ہیں اصل میں بد عقلے۔۔