نواز و عمران کیس: غیر متعلق فروق اور متعلقہ باتیں - محمد زاہد صدیق مغل

اپنے "چیف بابا" کے دفاع کے لیے غلط فہمیاں پھیلانے کی خاطر تحریک انصاف والے دونوں کیسز کے بارے میں غیر متعلق فروق کے حوالے دینے میں مصروف ہیں۔ ان میں سے اکثریت کی نوعیت واضح کرتی ہے کہ انھیں فیصلے کی بنیاد کی ابجد کا بھی علم نہیں۔ یہاں اختصار کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، نیز چند متعلقہ باتوں کی وضاحت کی جاتی ہے۔
مثلا:
- عمران کون سا نواز شریف کی طرح پبلک آفس ہولڈر تھا۔
(عدالت میں فیصلے اس بنیاد پر نہیں کیے گئے کہ ایک پبلک آفس ہولڈر تھا اور دوسرا نہیں)

- نواز شریف کے کیس تحقیقات کے لیے نیب کو بھیجے گئے۔
(عمران خان کا بیرون ملک سے پارٹی فنڈنگ کا کیس بھی الیکشن کمیشن کو تحقیقات کے لیے بھیج دیا گیا، بس "لاڈلے" کے کیس میں کھیل یہ کھیلا گیا کہ الیکشن کمیشن کو 2013ء تک پابند کردیا گیا ہے جبکہ نیب کو آغاز پاکستان سے تحقیقات کرنے کا کہا گیا ہے۔)

- عمران باہر ملک سے رقم ملک میں لایا جبکہ نواز شریف منی لانڈرنگ کرکے ملک سے باہر لے گیا۔
( کیا نواز شریف کو منی لانڈرنگ کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی اور کیا عمران کو "ریورس منی لاندڑنگ" کی وجہ سے سزا نہ دی گئی؟ غیر متعلق بات)

- بیرون مل اثاثے پر ٹیکس دینا ضروری نہیں ہوتا۔
(دونوں کے فیصلوں کا ٹیکس دینے یا نہ دینے سے کیا تعلق؟ معاملہ تو کاغذات نامزدگی میں ایک اثاثے کو ظاہر نہ کرنے کا تھا۔)

- نواز شریف نے اربوں روپے کی کرپشن کی تھی۔
(یہ آپ کا ذاتی احساس تو ہوسکتا ہے مگر عدالت نے اپنے فیصلے کی بنیاد اس نکتے کو نہیں بنایا۔)

- ایک کیس کا تعلق پانامہ سے تھا دوسرے کا نہیں۔
(فیصلے کی بنیاد آف شور کمپنی کی اوریجن نہیں بلکہ یہ تھی کہ آیا غلط بیان حلفی جمع کروانے سے بد دیانتی لازم آئی یا نہیں۔)

یہ بھی پڑھیں:   گناہ بے لذت - محمد عامر خاکوانی

عمران کے خلاف عدالت نے یہ سب مانا
عمران خان کیس میں عدالتی کاروائی اور فیصلے کے عمران کے حق میں جانے والی دلیل کا خلاصہ کچھ ہوں ہے:
- عمران خان نیازی سروسز کے مالک تھے۔ (اور وہ از خود متعدد بار اس کا اقرار کرچکے تھے)
- کمپنی کے نام پر ایک بڑا اثاثہ فلیٹ تھا۔
- عمران خان نے وہ اثاثہ 1997 کے کاغذات نامزدگی پر ظاہر نہیں کیا تھا۔
- جب مشرف نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا تب خان صاحب نے اس کے تحت اپنے اس فلیٹ کو ظاہر کردیا تھا۔
- اس کے بعد کمپنی کے نام پر بچ رہنے والا اثاثہ معمولی نوعیت کا تھا۔
- لہذا بعد کے کاغذات نامزدگی پر اسے ظاہر کرنا خان صاحب کے لیے لازم نہیں تھا۔
- اس لیے وہ صادق و امین کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوئے۔

سردست نوٹ کیجیے کہ اس کاروائی و دلیل کے مطابق:
- خان صاحب نے اپنے اثاثوں پر ٹیکس بچانے کے لیے آف شور کمپنی بنائی۔
- خان صاحب نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت اپنے کالے دھن کو سفید کیا۔
- خان صاحب نے 1997 میں الیکشن کے کاغذات نامزدگی میں آف شور کمپنی کے نام اپنے فلیٹ کو چھپا کر بیان حلفی پر مبینہ جھوٹ بولا۔

اب رہ گئی یہ دلیل کہ چونکہ کمپنی کے ذمے باقی رہ جانے والا اثاثہ نہایت قلیل تھا، لہذا اسے ظاہر کرنا 2013ء میں لازم نہ تھا تو اس حوالے سے ہم فاضل عدالت کو اس کا اپنا بیان کردہ اصول یاد کروانا چاہیں گے جو انہوں نے نوازشریف کیس میں اپنایا تھا کہ اثاثے کی مالیت بھلے کم ہو یا زیادہ، ہم سیاستدانوں کو ایسے معاملات میں ریلیف نہیں دیں گے۔

مس ریپریزنٹیشن اور بددیانتی
ایک بھائی نے سوال پوچھا کہ عدالت کسی فنانشل میٹر میں غلطی اور بددیانتی کے مابین فرق کیسے کر سکتی ہے؟
عرض کی کہ بددیانتی اور مس ریپریزنٹیشن (یعنی ٹیکنیکل غلطی) کا تعین قرائن کی روشنی میں کیا جاتا ہے اور اس کی وضاحت نواز شریف و عمران خان کے کیسز سے ہوسکتی ہے۔ مثلا عمران خان نے مانا کہ اس نے ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شور کمپنی بنائی، پھر 1997ء کے کاغذات نامزدگی میں اس نے اپنی اس کمپنی کو ظاہر نہ کرکے بیان حلفی جمع کروایا اور بعد میں مشرف ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا فائدہ اٹھا کر کمپنی کے ذمے فلیٹ کو 2002ء میں ظاہر کردیا۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان 1997ء تک یہ سب کام جان بوجھ کر کر رہے تھے، اور نواز شریف کیس کی طرح اس پورے معاملے میں کسی قانون کی ملکی قوانین سے غیر متعلق ڈکشنری پر مبنی تشریح کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ عمران خان نے 1997ء میں اپنے اثاثے بددیانتی کے تحت چھپا کر جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا تھا۔ اس کے مقابلے میں عدالت نے نواز شریف کے کیس میں ایک ایسا اثاثہ (بیرون ملک سے غیر وصول شدہ قابل وصول تنخواہ) جسے ظاہر کرنا ملکی قوانین کے مطابق لازم نہیں تھا، اس کی ملکی قوانین سے غیر متعلق ایک ڈکشنری سے تعریف لے کر اور اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاکر از خود یہ طے کردیا کہ اس تعریف (جو ہم "ابھی" کر رہے ہیں) کی رو سے نوازشریف پر ماضی میں اپنا وہ اثاثہ ظاہر کرنا لازم تھا، اور پھر اسے بددیانتی فرض کرلیا، حالانکہ یہ تشریح کا مسئلہ تھا اور عمران کیس کی طرح یہاں بددیانتی کے قرائن موجود نہ تھے، اسے زیادہ سے زیادہ مس ریپریزینٹیشن قرار دیا جاسکتا ہے اور بس۔ لیکن ہمارے فاضل جج چونکہ "جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے" کے اصول پر کارفرما ہیں، لہذا انہوں نے دونوں کیسز میں قرائن کے برعکس فیصلے دیے اور نتیجتا رسوا ہوئے، اور اب قسمیں کھا کھا کر سچائی کا یقین دلاتے پھر رہے ہیں۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.