بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، ہم کیا کریں؟ جویریہ سعید

بچوں کو جنسی زیادتی سے محفوظ رکھنے یا کسی حادثے کی صورت میں ان کی مدد کرنے کے حوالے سے کچھ تحریریں اور ویڈیوز وغیرہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ فی زمانہ اس حوالے سے آگہی عام کرنے کا بڑے چرچا ہے۔ جنسی زیادتی بچوں کی شخصیت پر دور رس منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ خود اعتمادی کی کمی، لوگوں پر بھروسہ کرنے سے گریز، غیر ضروری توجہ حاصل کرنے کی خواہش، احساس کمتری، تعلقات میں شدت پسندی اور دیگر نا ہمواریاں اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ متاثرین کے لیے ہمارے معاشروں کا کردار بھی بہت مایوس کن ہے۔ ہم الٹا متاثرین کو یا تو چپ رہنے مجبور کر کے یا مطعو ن کر کے ظالم کا بالواسطہ ہاتھ مضبوط کرتے ہیں اور دوسری طرف متاثرین کو کسی کوڑھی کی طرح سماج سے کاٹ پھینکنے کی کوشش میں خود بھی ظلم کرتے ہیں۔

یہ بہت ضروری ہے کہ بچوں کو وہ محفوظ پناہ گاہ اور سہارا فراہم کیا جائے کہ وہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں اور مدد طلب کرنا ان کے لیے ایک ممکن اور معلوم حل ہو۔ ہمیں ان کے ساتھ گفتگو کرنی چاہیے، ان کو سکھانا چاہیے کہ اگر وہ کسی کے رویے سے ناگواری یا خوف محسوس کریں تو کس طرح اپنے والدین کو اس بارے میں بتائیں وغیرہ وغیرہ۔

مگر آگہی کی یہ تمام سرگرمیاں بچوں اور متاثرین کے لیے ہیں۔ "می ٹو" تحریک کی طرح آج کل جنسی ہراسمنٹ کے خلاف مہم کا سارا زور اس بات پر ہے کہ اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ گفتگو کی جائے، فلمیں، ڈرامے، کہانیاں سب اس مسئلے کو "اجاگر" کرنے کا کام کر رہی ہیں، لیکن یہ ساری تحریک غم و غصہ کے گرد گھومتی ہے۔ اس مسئلے سے جڑے "taboo" کو نشانہ بنا کر اس بات پر فوکس کرتی ہے کہ متاثرین کھلے عام سر اٹھا کر اعلان کرسکیں کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ اس سب کا ایک فائدہ یہ تو ہے کہ معاشرے کو اپنے منفی رویے پر نظر ثانی کرنے کی توفیق میسر آئے۔ مگر اس قبیح حرکت کی روک تھام کے لیے کیا یہ سب سے زیاد اہم نہیں اور یہ ہمیں کہیں بھی وضاحت اور اصرار کے ساتھ نظر نہیں آسکا کہ ایسی مریضانہ حرکت کا ارتکاب کرنے والوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی اہتمام بھی کیا جانا چاہیے؟ مثلا ایسے قبیح واقعات بھی منظر عام پر آ رہے ہیں جن میں تین، چار اور پانچ سال کے بچوں کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اتنی چھوٹی عمر کے بچوں میں آپ کیا آگہی عام کر سکتے ہیں؟

انسانی جبلت کسی من چاہی چیز کو کسی طرح بھی حاصل کر لینے کی وحشی خواہش کا نام ہے۔ اس نفس کی تربیت کرنا اخلاق و مذہب کا کام ہے۔ مگر معاشرے میں تو ان قوتوں کا زور نظر آتا ہے جو ان وحشی خواہشات کو ہوا دینےکا سامان کرتی ہیں، اور کسی بھی قسم کی حدود اور پابندیوں کا مضحکہ اڑاتی ہیں۔ اس وقت ٹی وی، انٹرنیٹ، فکشن، گیمز، خبریں، ہر طرف جذبات کو انگیخت کرنے والے ہیجان خیز مواد کی کثرت ہے، اور انگلیوں کی ایک ذرا سی حرکت پر ہر قسم کا مواد بآسانی دستیاب ہے۔ عقل پسند قوتیں کسی برتر طاقت کو صحیح اور غلط کا معیار طے کرنے کا اختیار دینے کو تیار نہیں ہیں، فرد کی آزادی اور فکر و عمل کی آزادی کے نام پر ہر قسم کی بےراہ روی کو جواز فراہم کرتی جاتی ہیں۔ اس سارے مواد سے اکسپوز ہونے والے ایک شخص کا نشانہ کمزور خواتین یا بچے ہی ہوتے ہیں۔

آج کل بڑھتی عمر کے بچوں کو جنس اور جسمانی تبدیلیوں کے حوالے سے تربیت دینے کا بھی بہت چرچا ہے۔ مگر کیا اس تربیت کا ایک اہم حصہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اپنے اندر سے اٹھنے والی آوازوں اور مطالبات کو کس طرح ڈیل کیا جائے کہ وہ کسی اور کو یا خود اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچائیں؟

مذہب، اخلاق اور تہذیب کا بنیادی کام یہ ہے کہ انسان کو اپنے اندر سے اٹھنی والی بہیمانہ اور ہوس ناک آوازوں کو کنٹرول کرنا سکھایا جائے۔ کیا والدین، اساتذہ، تعلیمی نظام، منبر و محراب، میڈیا اور ادب وغیرہ یہ کام کر رہے ہیں؟

اپنے بیٹے سے گفتگو کرتے ہوئے ہم نے کہا، " آپ کو علم ہے کہ آپ پر روزہ فرض کیوں ہو گیا ہے اور آپ کے چھوٹے بہن بھائیوں پر کیوں نہیں ہوا؟"
اس لیے کہ اب آپ کو خود کو "نو" کہنا سیکھنے کی مشق کرنی چاہیے! "نو! ناٹ ناؤ، اینڈ ناٹ دس وے !!"

نبی کریم صلی اللہ وسلم کی حدیث کے مطابق ایک مسلمان کو مظلوم کی ہی نہیں بلکہ ظالم کی مدد بھی کرنی چاہیے، اور ظالم کی مدد کرنا دراصل اسے ظلم کرنے سے روکنا ہے.
ہمیں ایسی تحریک چلانے کی بھی ضرورت ہے جو اس بات پر زور دے کہ اگرچہ آرزوؤں اور خواہشات کا ہونا نارمل انسان ہونے کے لیے ضروری ہے مگر ان خواہشات کا کنٹرول کرنا انسانی معاشروں کو چلانے کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں سکھانا چاہیے کہ اگر ہمارے وجود میں گمراہ کن اور پریشاں کن خیالات سر اٹھانے لگیں، تو ہمیں اس کے لیے بھی مدد حاصل کرنی چاہیے اور ایسے لوگ موجود ہونے چاہییں جو اس تکلیف میں سہارا دے۔

ہمارے معاشروں میں بڑھتی عمر کی بچیوں پر تو پابندیاں بھی لگائی جاتی ہیں، ان سے کہا بھی جاتا ہے کہ انھیں پہننے اوڑھنے اور آنے جانے کے معاملے میں کیا کیا احتیاط کرنی چاہیے مگر لڑکوں کی تربیت کی کوئی خاص کوشش نہیں کی جاتی، کیونکہ شاید ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی کسی بھی قبیح حرکت کی وجہ عورت ہی کوئی غلطی ہوتی ہے، اس لیے تمام سبق اس کو سکھانے چاہییں.

ہم میں سے کتنے لوگ اپنے بیٹوں سے یہ گفتگو کرتے ہیں کہ کن چیزوں سے نظروں کو بچانا ہے، غیر ضروری گھلنا ملنا، چھونا اور اٹھنا بیٹھنا کیوں نا مناسب ہے؟ الٹے سیدھے مواد سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا کوششیں کی جانی چاہییں؟ اور تنہائی میں جب کوئی نہیں دیکھتا تو اللہ ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے. اس طرح ان میں خوف خدا، خود احتسابی، احساس ذمہ داری ، احترام انسانی اور غلط کاموں کے دور رس مضر اثرات سے آگہی بھی پروان چڑھانی چاہیے۔

اپنے بچوں کو صرف یہی سہارا نہ دیں کہ بیٹا اگر اپ کے ساتھ کوئی غلط حرکت کرے تو آ کر بتائیں، بلکہ یہ بھی کہیں کہ اگر کبھی آپ کے دل میں کسی غلط حرکت کے ارتکاب کی خواہش زور پکڑنے لگے تو آپ آ کر ہم سے مدد مانگیں۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.