دُھوپ سے ڈرتے رہیں، سائے میں چلنے والے - اسماعیل احمد

یہ زعم کہ ہمارے بغیر اس کائنات کا نظام رک جائے گا، نیا نہیں۔ انسانی تاریخ ہمیشہ ایسے نادرِ روزگار پیش کرتی رہی جو اس زعم میں بری طرح مبتلا ہوئے۔ اپنے خاندان کو اپنے علاقے کا سب سے محبوب اور مقبول سمجھنے کی غلط فہمی بھی بہت سوں کے حصے میں آئی۔ رسولِ کریم ﷺ کے بدترین مخالف سردارانِ قریش بھی اسی زعمِ باطل میں مبتلا تھے۔ بنو امیہ اور بنو عباس کا یہی مسئلہ تھا۔ خداظالموں کی رسی دراز ضرور کرتا ہے مگر بلاوجہ نہیں، اس لیے کہ حجت تمام ہو جائے۔ قابیل، نمرود، فرعون، شدادسے ہوتی ہوئی دنیا کی کہانی چنگیز خان، تیمور لنگ،ملکہ میری اول،لینن، مسولینی،سٹالن، ہٹلراور عیدی امین تک پہنچ جاتی ہے مگر انسان اس دنیا میں دوسرا خدا بننے کی جستجو ختم نہیں کرتا۔ "بے شک انسان خسارے میں ہے"۔

پیارے دیس پاکستان میں دو خاندان نہایت بری طرح اقتدار کے نشے کا شکار ہو چکے ہیں۔ اتنی دولت اکٹھی ہو چکی کہ ووٹ آسانی سے خریدے جا سکتے ہیں اور ضمیر بھی۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے گزشتہ تیس پینتیس برس میں کیا کیا نہیں خریدا؟ قلم، طاقت، قانون، انصاف، انسان، سچائی۔ امجد اسلام امجد کے وارث کے کردار " چودھری حشمت " کی طرح شاید ان دو خاندانوں کے ذہنوں میں بھی یہ خناس بھرا ہو ا ہےکہ" انسان کی اس دنیا میں صرف دو اقسام ہیں۔ خریدنے والے اور بکنے والے"۔

رسوائیاں یوں دامن سے لپٹیں کہ بغیر سیکیورٹی کے عوام میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں آ سکتے۔ مگر عقلوں پہ ایسے قفل لگے ہیں کہ اس کھلی تذلیل کو بھی اپنی دانست میں طاقت اور عزت گردانتے ہیں۔ہمارے وہ اخبار نویس اور دانشور جنہیں آج کل فوج کا ملک میں حد سے بڑھا ہو ا ظاہری اور پوشیدہ اثر و رسوخ چین نہیں لینے دیتا، یہ بات کیوں نہیں مانتےکہ ان کے ممدوح جمہوریت کے چیمپین یہ دو خاندان بھی ایسے سانپوں کی مانند ہیں جو موقع ملنے پہ ہر بار ڈستے ہیں۔ کوئی خیر کی خبر قوم کو ان کی موجودگی میں نہیں ملی۔ یہ موٹرویز، میٹروزاور ان کے بھانت بھانت کےمنصوبے کسی مفلس کے گھر میں پڑے ہوئے قیمتی شوپیس کی مانند ہیں جن سے اس مفلس کے ذوق کی تسکین تو ہو سکتی ہے مگر روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ذوق میں تسکین کا مرحلہ اگر بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے بعد آئے تو زیادہ مناسب ہو تا ہے۔ مگر ہمارے ہاں لیڈر نہیں سیاستدان پائے جاتے ہیں جو اپنی قوم کے مستقبل کا نہیں بلکہ اپنے آج کا سوچتے ہیں۔ اگلے الیکشن کے لیے اچھے نعرے مل جائیں بس ساری دوڑ دھؤپ یہاں پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے۔

میاں نواز شریف کے حامی سیاستدانوں اور دانشوروں نے عمران خان کے بارے میں بڑے عرصے سے مشہور کر رکھا ہے کہ وزیراعظم کی شیروانی کے شوق میں شدت سے گرفتار ہے۔ سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد خود میاں صاحب جسطرح " مجھے کیوں نکالا شریف" بنے ہوئے ہیں اس کے آگے تو عمران خان کے شوق کی شدت بڑی مدھم معلوم ہوتی ہے۔

حالات کی مار کس بری طرح شریف خاندان اور بھٹوالمعروف زرداری خاندان سے لپٹ چکی ہے کہ اگر عدالتیں انہیں کیسز میں بری کر دیں تو لوگ عدالتوں کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں۔ کوئی صحافی لوگوں کو ان کی طرف جھکتا محسوس ہو تو ایسے صحافیوں کی صحافت کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اگر اسٹیبلیشمنٹ ان کرپٹ لوگوں کو پھر سے کسی لانڈری وغیرہ میں دھو کر لانچ کرنے کا سوچے تو اسٹیبلیشمنٹ کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ کوئی عالمِ دین ان لوگوں کی اصلاحِ احوال کے لیے ان کے پاس چلا جائے تو لوگ اس عالم دین سے سوال اٹھانے لگتے ہیں کہ آپ نے ان ظالموں سے ملاقات کیوں کی؟ یہ ہے ان دو خاندانوں کی عوام کے سوادِ اعظم کے ہاں اصل اوقات۔

پاکستان بڑے مشکل حالات سے گزرا ہے۔ آدھا حصہ کٹ گیا، دہشت گردی سر پر تھوپ دی گئی، اقوام ِ عالم کی صف میں بے وقار کرنےکی نامعلوم کتنی کوششیں ہوئیں مگر پاکستانیوں نے جینا تھا، جینا ہے، جیتے رہیں گےمگر ان دو خاندانوں سے عوام کی جائز شکایات ان کے لیے مشکلات لے کر آ رہی ہیں اور یہ مشکلات بڑھتی جائیں گی۔ یہ بات کسی صوفی یا روحانی بزرگ کی پیش گوئی بھی ہو سکتی ہے مگر معمولی سی ذہانت رکھنے والا انسان بھی حالات کو اس سمت جاتا دیکھ سکتا ہے۔ ان کا بے جا ساتھ دینے والے بھی اب ہوش کے ناخن لیں چاہے وہ لوگ اسٹیبلیشمنٹ میں ہیں یا میڈیا میں۔ عوام میں ہیں یا خواص میں۔ اسلیے کہ "زندہ ہے بھٹو زندہ ہے" اور "دیکھو دیکھو کون آیا" کا چورن بغٰیر پیکنگ کے ہو یا "دانشوریوں" کے لفافوں میں لپٹا ہوا، اب مزید خریدنے کی گنجائش ختم ہو چکی۔ اپنے پینتیس سالہ اقتدار کا حساب دینے کا وقت آگیا ہے۔

کبھی خوُرشیدِ قیامت بھی تو نِکلے گا ندیم!

دُھوپ سے ڈرتے رہیں، سائے میں چلنے والے

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */