امریکہ، اقوام متحدہ اور مسئلۂ بیت المقدس - نیک محمد

اقوام متحدہ میں ہندوستان کے وقت کے مطابق رات تقریباً ۱۲ بجے امریکہ کے صدر ٹرمپ کے ذریعے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے اور اپنی ایمبیسی تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے خلاف ایک مذمتی قرارداد لائی گئی، جس پر ووٹنگ ہوئی۔ اقوامِ متحدہ کے کل ۱۹۲‌ رکن ممالک میں سے ۱۲۸ ممالک نے اس قرارداد کے حق میں اور امریکی موقف کے خلاف ووٹ کیا، ۹ ممالک نے اس قرارداد کے خلاف اور امریکی موقف کی تائید میں ووٹ دیا، جب کہ کل ۳۵ ممالک ایسے بھی تھے، جنھوں نے اپنے آپ کو اس ووٹنگ سے ہی الگ کر لیا۔

حالانکہ امریکا نے ووٹنگ سے پہلے ایک دھمکی بھرے بیان میں ان ممالک کو خبردار کیا کہ اگر انھوں نے اقوامِ متحدہ کے موقف کی تائید نہ کی تو انھیں سخت مالی اور ڈپلومیٹک پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دنیا میں امریکی مدد لینے میں سرفہرست ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کئی ممالک نے ان دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے امریکی موقف کی مخالفت کی۔ مخالفت کرنے والے ممالک میں برطانیہ، جرمنی، اسپین، چین، جاپان، روس اور ہندوستان سمیت دنیا کے کئی چوٹی کے ممالک شامل تھے۔ جب کہ بشمول آسٹریلیا اور کینیڈا، کل ۳۵ ممالک نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے چلتے اپنے آپ کو ووٹنگ سے الگ کر لیا۔ بالکل آخری لمحوں میں الگ ہونے پر کینیڈا کی ہرطرف تنقید ہو رہی ہے، کیوں کہ کینیڈا ہمیشہ سے بہت غیرجانب دار اور انسانیت نواز رہتا آیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی خاتون سفیر نِکی ہَیلی نے ان نتائج پر تلملاتے ہوئے اسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی 'بے عزتی' بتایا اور بوکھلاتے ہوئے کہا کہ: "جب ہم نے امریکی عوام کی رضامندی پر اسرائیل میں ہماری ایمبیسی کو یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ لیا، تو ہمیں ان لوگوں سے قطعی امید نہیں تھی کہ وہ ہمارے ہی خلاف جائیں گے، جو ہماری امداد پر پلتے ہیں"۔ امریکی سفیر نے آگے کہا: "آج اقوامِ متحدہ میں امریکہ کو جن حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے، وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ اقوام متحدہ اسرائیل فلسطین مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ کو اب مجبور ہوکر اپنے مفادات کی حفاظت اور اپنی خود مختاری کے لیے ویٹو کے اختیار کو استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکا گزشتہ تقریباً چھ سال سے زائد عرصے میں پہلی بار اسے استعمال کر رہا ہے"۔

غور طلب ہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس مذکورہ بالا ووٹنگ میں منہ کی کھانے کے بعد سلامتی کونسل کے ۱۵ رکنی اجلاس میں اس فیصلے کو ویٹو کر دیا، جب کہ دیگر تمام 14 ممبران اس کے خلاف تھے۔

اس کے اس ویٹو سے پوری بحث پر پانی پھر گیا اور امریکی موقف کو روکنے میں اقوام متحدہ سمیت تمام ممالک ناکام رہے۔ اول خود اقوام متحدہ کا وجود ہی ناجائز مقاصد کے حصول کے لیے عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے ہوا ہے۔ پھر اس میں مختلف ممالک کے درمیان فرق مراتب اور ریزرویشنز کی شکل میں جو لعنت خوش نما شکل میں دنیا پر تھوپی گئی ہے، وہ انسانیت کے لیے یقیناً بہت ہی شرم ناک ہے۔

دنیا کو بہت ہی شاطرانہ طریقے سے مختلف قسم کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ عالمی پیمانے پر الگ الگ ممالک کے لیے الگ الگ معیار قائم کر لیے گئے۔ کاش عالمی پیمانے پر اقوام متحدہ کے موجودہ قانونی نظام اور اس ناپاک ویٹو سسٹم کے ختم کرنے کے لیے مضبوط آواز اٹھے اور پرزور مطالبہ ہو؛ کیوں کہ اس ویٹو نے کسی بھی دوسری قوم سے زیادہ امتِ مسلمہ کو نقصان پہنچایا ہے۔

ہمیں اپنے طور پر عالمِ اسلام کے حالات سے واقف رہنا چاہیے۔ مسجدِ اقصیٰ، فلسطین، شام اور تقریباً پورے مشرقِ وسطیٰ میں حالات بہت نازک بنے ہوئے ہیں۔ اللہ امن کا معاملہ فرمائے اور دشمنان اسلام کی چالوں کو ناکام کرے۔