نوید سحر - ام محمد سلمان

صبح کے چار بجے تھے کہ اچانک فضا میں تیز گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دی۔ دل ایک دم خوف سے لرز گیا۔ کہیں حملہ تو نہیں ہوگیا؟ الٰہی خیر! آج کل حالات جس نہج پر چل رہے ہیں تو اسی طرح کے خیالات آتے ہیں۔

تھوڑی دیر کے لیے سناٹا سا چھا گیا فضا میں، کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہوا کیا تھا؟ آواز بادل کے گرجنے کی تھی یا کسی جنگی جہاز کی۔ دل میں ایک کوندا سا لپکا، شاید کہ یہاں بھی وہ وقت آگیا جو پورے عالم اسلام پر چھایا ہوا ہے۔ شاید رات کے کسی حصے میں حملہ ہوچکا ہے پاکستان پر، اور اب شہری آبادیاں بھی اس کی لپیٹ میں آگئی ہیں۔ روحی کا دل لرز گیا اس خیال کے آتے ہی، ابھی کوئی میزائل گرا، اور ہم سب یونہی بے موت مارے جائیں گے۔

جب سے یروشلم پر یہودیوں نے قبضہ کیا ہے یوں لگتا ہے اپنا آخری مہرہ بھی ہار دیا ہے ہم نے اور اب یہی ذلت و گمنامی کی موت ہمارا مقدر ہے۔ کاش کہ ہم حرمت اسلام کے لیے لڑتے ہوئے مارے جاتے۔ مسجد اقصٰی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے شہید ہو جاتے؟

دل پر عجیب مردنی سی چھا گئی تھی۔ موت سے پہلے مر جانے کا احساس کیسا جان لیوا ہوتا ہوگا؟

کیا کیا نہ حسرتیں یاد آتی ہوں گی اس وقت؟

ہر چیز بے معنی ہو کر رہ جاتی ہوگی۔ صرف ایک چیز کی پروا، زادِ سفر کیا ہے ساتھ؟

یونہی سوچتے سوچتے ذہن نہ جانے کن بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہا کہ اچانک پھر سے تیز گڑگڑاہٹ سنائی دی، بادل گرج رہے تھے اور ساتھ بجلی بھی چمک رہی تھی۔ روحی اٹھ کر بیٹھ گئی، ایک نظر بچوں کو دیکھا کہیں گرج چمک کی آواز سے ڈر نہ جائیں۔ مگر وہ کمبل میں لپٹے سکون سے سورہے تھے۔ ایک نظر شوہرِ نامدار پر ڈالی وہ بھی ذرا سا کسمسا کر کروٹ بدل کر سو چکے تھے۔

مگر روحی کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ نجانے کیوں ایک بے چینی سی لگی تھی؟ دل پر عجیب سی یاسیت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ اسی بے چینی کے عالم میں وہ کمرے سے نکل کر لاؤنج میں آگئی۔

سوشل میڈیا پر القدس کے بارے میں مستقل آتی خبروں نے اسے کئی دن سے بے چین کر رکھا تھا۔ ابھی تو "شام" کے غم سے نکلنے نہ پائے تھے کہ "برما " کا غم کلیجہ کاٹنے لگا تھا اور اب مقبوضہ فلسطین کے حالات…مسجد اقصٰی کا غم۔

دل پر ایک بھاری بوجھ سا رکھا ہو جیسے۔

وہ زیتون کے پیڑوں سے لدی سرزمین، وہ ارض مقدس جس پر میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کی امامت کی، کیسے اس سرزمین مقدس کو ایک نوزائیدہ بچے کی طرح اسرائیل کی جھولی میں ڈال دیا گیا اور ساری دنیا کے مسلمان خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہے؟ بھلا کیا کیا نہ سوچتے ہوں گے اہل فلسطین؟

کیا یہ زمین صرف ہماری ہے؟ کیا باقی مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں؟ کیا وہ بھول گئے اپنے قبلہ اوّل کو؟

الٰہی! وہ کس کرب سے گزر رہے ہوں گے، کیا کیا نہ آس لگا رکھی ہوں گی مسلم ممالک سے؟ مگر حیرت ہوتی ہے، جب ہمارے نیوز چینلز پر موسموں کے پکوان اور چھٹی کے دن اہل پاکستان کے ناشتوں کی خبریں آتی ہیں۔ اداکاراؤں کی برتھ ڈے اناؤنس کی جاتی ہیں، فیشن شو دکھائے جاتے ہیں، کیٹ واک کرتی نیم برہنہ عورتیں دکھائی جاتی ہیں۔ یہ سب دیکھ کر کیا گزرتی ہوگی ان کے دلوں پر؟

ہمارے کے ایف سی اور میکڈونلڈ کے ریستوران بھرے ہوتے ہیں آج بھی، جن کی آمدنی کا آدھے سے زیادہ حصہ اسرائیل کو سپورٹ کرتا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات سے ہمارے گھر بھرے ہوئے ہیں، جن کے منافع سے ہمارے ہی مسلم بھائیوں کی گردنیں کاٹنے کے لیے خنجر خریدے جاتے ہیں اور کسی کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ ہر بندہ اپنے حال میں مست ہے۔ کوئی مرے کوئی جیے، یہاں کسی کو کسی کی پروا نہیں۔

جو لوگ واقعی امت کے غم میں ہلکان ہیں کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے سامنے بھی کوئی لائحہ عمل نہیں۔ جن کے ہاتھوں میں اقتدار ہے، وہ اپنی ہی کرسیوں کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔

وہ ایک ایک کر کے اپنے سارے غم اللہ کو سنا رہی تھی۔ اشکوں کے موتی لڑیوں کی صورت میں قطار در قطار بہتے چلے جارہے تھے۔ روتے روتے تھک گئی تو سجدے میں جا گری۔ بے اختیار ہاتھوں کی گرفت مضبوط ہوگئی زمین پر۔

"یا الٰہ العالمین ! بے بس لوگ اور کیا کریں تجھے پکارنے کے سوا؟ ان آنسوؤں کے سوا کچھ اختیار میں بھی تو نہیں، مجبوروں کا تیرے سوا کون ہے؟ اب تو ان غم کی کالی گھٹاؤں کو دور کردے، اب تو کوئی روشن سویرا دکھا دے!" روحی سجدے میں پڑی زارو قطار رو رہی تھی۔

اس نے سجدے سے سر اٹھایا تو کھلی کھڑکی سے ہوا اور بارش کے چھینٹے اندر آرہے تھے۔ کھڑکی کے پٹ بند کرنے کے لیے آگے بڑھی تو کھلے آسمان پر نظر پڑی۔ بادلوں سے ڈھکا، چاروں طرف اندھیرے کا راج، بارش کی موٹی موٹی بوندیں اور ٹھنڈی ہوااور پھر دور کسی مسجد سے آتی "اللہ اکبر" کی صدا…!

اللہ سب سے بڑا ہے !

دل کی ویرانی ایک دم ہی دور ہوگئی ایک خیال نے اس کے باطن کو روشن کردیا تھا۔ کوئی تو ہے جو میرا ہے، میرے ساتھ ہے میرے درد و غم کو سمجھتا ہے، اسے بتانا نہیں پڑتا، اسے دکھانا نہیں پڑتا، اسے جتانا نہیں پڑتا کہ "یا اللہ میں اداس ہوں" وہ تو خود سمجھ لیتا ہے۔ دلوں کے چھپے بھید جان لیتا ہے۔ مسکراتی آنکھوں کے پیچھے دل پہ گِرتے آنسؤوں کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ اسے بتانا پڑتا ہے بھلا کہ یا الله مجھے کوئی دکھ ہے کوئی تکلیف ہے؟

مگر پھر بھی… مگر پھر بھی، اسے سب کچھ بتانے میں کتنا مزا ہے، کتنا لطف ہے، کتنا سکون ملتا ہے۔ دل کے سارے درد اس کے حوالے کر کے سینہ کتنا ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے۔

اور آج یہاں سے اٹھتے اٹھتے روحی بھی ایک تہیہ کر چکی تھی۔

انسان کبھی اتنا مجبور نہیں ہوتا۔

ہم ان کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ ان شاء اللہ۔ ایک مضبوط عہد اس نے اپنے آپ سے کیا اور وضو کر کے نماز ادا کرنے لگی۔

جب دونوں بچے اسکول اور شوہر صاحب آفس چلے گئے تو اس نے ایک ایک چیز نکال پھینکی۔ یہ شیمپو، یہ باڈی لوشن، یہ کریمیں، میک اپ کا سامان۔ سب ایک ایک کر کے پانی میں بہا دیں، کچھ توڑ پھوڑ کے ڈسٹ بن میں ڈال دیں۔ ساتھ میں اس کی بڑبڑاہٹ بھی جاری تھی، ان کریموں کے لگانے سے پہلے کیا عورتیں حسین نہیں ہوتی تھیں؟ ان شیمپوؤں سے بال دھوئے بغیر کیا گزارا نہیں؟ ہماری نانی دادیوں کے بال بھی تو کتنے لمبے اور چمکدار ہوا کرتے تھے، تب تو یہ ساری خرافات نہیں ہوتی تھیں۔ آج ہم نے کتنا جکڑ لیا ہے اپنے آپ کو ان سہولیات میں،، قیدی بنا لیا ہے خود کو ان چیزوں کا۔

بچوں کو بھی سمجھا دوں گی۔ آج کے بعد کبھی میکڈونلڈ کے برگر کی فرمائش نہیں کریں گے۔ کبھی کوکا کولا اور پیپسی اس گھر میں نہیں آئے گی۔ اللہ نے اتنے فرمانبردار بچے دیے ہیں، میں ہی ان پر سختی نہیں کرتی، سمجھاؤں گی تو سمجھ جائیں گے ان شاء اللہ۔ اسی خود کلامی کے ساتھ ساتھ فریج سے اچار، جام، چٹنی مربے اور جو جو کچھ گھر میں ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پیداوار تھے، سب کو پھینک دیا۔

معصوم سی فاطمہ یہ سب کچھ حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ اپنی توتلی زبان میں کہنے لگی: امی دان! یہ کُوں پھیکا؟ (امی جان! یہ کیوں پھینکا؟ )

روحی نے فاطمہ کو پیار سے اپنے گلے سے لگا لیا۔۔ ۔ میری ننھی پری تاکہ کل کو تمہارا مستقبل محفوظ ہو جائے، یہ یہودی بھیڑیے تم پر کوئی میلی نگاہ نہ ڈال سکیں اس لیے میں نے یہ سب کچھ نکال پھینکا ہے۔ روحی نے ایک بھرپور نظر اپنی معصوم فاطمہ پر ڈالی اور ایک بار پھر اسے سینے سے لگا کر بھینچ لیا۔ آنکھیں پھر آنسوؤں سے بھر گئیں۔ (وہ بھی تو کسی کی معصوم بچیاں ہوں گی جن کے دامن عصمت تار تار کر دیے گئے) روحی ایک بار پھر بے قرار ہو کر اپنی معصوم بچی کو چومنے لگی۔

اور ہم اتنے بھی بے بس نہیں ہیں، جتنا خود کو سمجھ بیٹھے ہیں۔

اٹھ باندھ کمر، کیا ڈرتا ہے

پھر دیکھ، خدا کیا کرتا ہے

روحی پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھی، آنسو اب بھی اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے مگر یہ غم اور بے بسی کے نہیں بلکہ فتح و نصرت کے آنسو تھے۔ آج اس نے اپنی خواہشات پر قابو پایا تھا۔ آج کے بعد کبھی دشمن کی تجارت کو نفع نہیں پہنچائے گی۔ آج کے بعد وہ کبھی اپنے مظلوم مسلمان بہن بھائیوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہوگی۔

کوئی شخص ہمارا دشمن ہو، ہمارے ماں باپ اور بہن بھائیوں کا قاتل ہو اور وہ دکان کھول کر بیٹھ جائے تو کیا ہم اس سے سودا خریدیں گے جاکر؟ خریدنا تو دور کی بات، مفت میں بھی نہیں لیں گے؟

آج یہ نکتہ بہت اچھی طرح روحی کی سمجھ میں آگیا تھا۔

آپ کیا سمجھے؟

ہم ایک خاموش جہاد کر سکتے ہیں اگر پوری مسلم دنیا متحد ہو کر ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دے تو ہم ان کو دن میں تارے دکھا سکتے ہیں۔ بہت ساری چیزوں کا متبادل موجود ہے اور کچھ چیزیں ہمیں قربان کرنی پڑیں گی مگر یقین رکھیے لذتیں تو شاید کچھ کم ہوجائیں مگر سکون کی فراوانی بہت ہو جائے گی۔ وہ سکون جو آج ہمیں کہیں بھی نہیں ملتا۔

یہ نہ سوچیے کہ آخر ہم کیا کیا چھوڑیں؟ بس شروعات کر دیجیے کسی بھی ایک چیز سے۔ پھر آہستہ آہستہ جتنا ہو سکے آگے بڑھتے جائیے۔ لوگوں کو ترغیب دے کر، قائل کر کے اپنے ساتھ ملائیے، لگن اور مستقل مزاجی سے اس مشن پر ڈٹے رہیے۔ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ ایک دن ہم ضرور کامیاب ہوں گے ان شاء اللہ۔

اور یہ دنیا تو بس چند دنوں کا کھیل تماشہ ہے، اصل جینے کا مزا تو آخرت میں ہے، جہاں رب کی بنائی ہوئی جنتیں ہماری منتظر ہیں۔

Comments

Avatar

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */