بھٹو کی آواز رات دیر گئے سنائی دی - پروفیسر جمیل چودھری

تمام راتیں ہی تاریک ہوتی ہیں لیکن 16 دسمبر 1971ء کی رات سے لیکر 20 دسمبر کی رات تک تاریکیاں بہت ہی گہری تھیں۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا، مایوسیوں اور ناامیدیوں کے منحوس سائے پورے ملک پر چھائے ہوئے تھے۔ مستقبل میں بھی امید کی کرن نظر نہ آتی تھی۔ 16 دسمبر کو پلٹن میدان، ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی خبر سن کر کئی پاکستانیوں کی حرکت قلب بند ہونے کی خبریں آرہی تھیں۔ قوم کو حوصلہ دینے والا کوئی نہ تھا۔ لوگ چوکوں اور چوراہوں پر بیٹھے ایک دوسرے سے سوالات کرتے رہتے تھے، بس سوال تو ایک ہی تھا"اب کیا ہوگا؟"۔ عوام کو یقین ہی نہ آتا تھا کہ ہم آدھا ملک کھو بیٹھے ہیں۔ کبھی یہ نہ سنا گیا تھا کہ حصول آزادی کے صرف 24سال بعد کسی قوم نے آدھا ملک کھو دیا ہو۔

پھر 20 دسمبر کی رات شروع ہوئی۔ تب الیکٹرانک میڈیا صرف ریڈیوہی تھا۔ انتظار کی ٹون بجنا شروع ہوئی اور بجتی ہی رہی۔ پھر بھٹو کے خطاب کا اعلان ہونا شروع ہوا۔ بھٹو کی آواز رات دیر گئے سنائی دی۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ لوگوں کو کچھ حوصلہ ہوا۔ گزرے 4دنوں میں تو ملک کا کوئی سربراہ ہی نہ تھا۔ بھٹو نے شکست خوردہ کئی جرنیلوں کو فارغ کرنے کی اطلاع دی۔ بھٹو کے آنے سے پہلے ملک پرجنرل یحییٰ اور اس کا ٹولہ زبردستی قابض تھے۔ یہ تمام عیاش جرنیل تھے۔ یہی زمانہ تھا جب عالمی پریس میں یہ خبر یں شائع ہواکرتی تھیں کہ اسلام آباد پر طوائفوں کی حکومت ہے۔ ان طوائفوں کی لیڈر پہلے"رانی"بعدمیں ''جنرل رانی'' کہلانے لگی تھی۔ ایسے ہی ترانہ "قومی ترانہ" بن گئی تھی۔ ایسی ہی سینکڑوں اور تھیں۔ بعض تجزیہ نگار بعدمیں یحییٰ اور ان کے ساتھی جرنیلوں کو قابل جرنیل کہنے لگ گئے تھے لیکن ہم تو تب بھی نہیں مانتے تھے اور آج بھی رنگ رلیاں منانے والے جرنیلوں کے بارے اچھی رائے نہیں رکھتے۔ جنرل یحییٰ ایسے آرمی چیف تھے جو3 دسمبر کو جنگ شروع ہونے سے لیکر16 دسمبر تک اپنے ماتحت دوردراز علاقے میں لڑنے والے اپنے ماتحت کمانڈر کو کوئی بھی ہدایت نہ دے سکے۔ راولپنڈی سے یہی ہدایت تھی کہ مقامی حالات دیکھ کر خود ہی فیصلہ کریں۔ جنگیں ایسے تو نہیں لڑی جاتیں؟ ایسا ہی مغربی پاکستان کے کمانڈروں کے ساتھ ہوا۔ کبھی حکم آگے بڑھ کر حملہ کرنے کا موصول ہوتاتھا اور کبھی یہ حکم کینسل ہوجاتاتھا۔ بے یقینی کے سائے پوری فوج پرتھے۔ اس وقت تک فوج کی حکمت عملی یہ تھی کہ مشرقی پاکستان کادفاع مغربی پاکستان سے کیاجائے گا لیکن مغربی پاکستان سے کچھ نہ کیاجاسکا۔ صدر ایوب کا آئین جنرل یحییٰ نے آتے ہی ختم کرڈالا تھا اور جب جنگ شروع ہوئی سرزمین پاکستان بے آئین تھی اور ہر بے آئین ریاست کا انجام ٹوٹ پھوٹ ہی ہوتا ہے۔

یہی پاکستان کے ساتھ بھی ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو پر زور ذہین اور انقلابی ذہن رکھتے تھے۔ بھٹو نے آتے ہی ایک ٹوٹی ہوئی، شکست خوردہ اور مایوس قوم کو حوصلہ دیا۔ دسمبر کے چند دن گزرنے کے فوراًبعد انہوں نے اپنے منشور پر عمل درآمد شروع کردیا۔ لیکن سب سے پہلے تو ملک کو جنگ کی تباہ کاریوں سے نکالنا تھا۔ آئیے شملہ معاہدے کا ذکر سب سے پہلے کرتے ہیں۔ ٹیلیفونک رابطوں سے شملہ(بھارت) میں ملاقات طے ہوگئی۔ منظر نامہ عجیب تھا ایک شکست خوردہ قوم کا لیڈر فاتح قوم سے پہلی دفعہ ملنے جارہاتھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور اندرھا گاندھی کی ملاقات۔ چند دن پہلے اندراگاندھی نے یہ بیان دے دیاتھا کہ میں نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ پاکستان کی واحد بنیاد کا تمسخر اڑایاگیاتھا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے قوم نے امیدیں وابستہ کرلی تھیں۔ اس وقت کی پاکستانی اپوزیشن نے بھٹو کو لاہور ائیر پورٹ پر الوداع کہا۔ بات چیت شروع ہوئی۔ کبھی اچھی خبریں اور کبھی پاکستانی نقطہ نظر سے بری خبریں آتی رہیں۔ آخر کار معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ پاکستان کو90 ہزار قیدی اور5 ہزار کلومیٹر کا مغربی پاکستانی علاقہ واپس مل گیا۔ معاہدہ میں یہ بھی تسلیم کرایا گیا کہ کشمیریوں کا حق خود اختیاری برقرار رہے گا لیکن اس مسٔلہ پر بات چیت صرف2 طرفہ ہوگی۔

اس وقت کے مایوس کن حالات کے پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ بھٹو سفارت کاری کی فتح تھی۔ قیدیوں کی رہائی کی خبر سے پاکستان کے ہزاروں خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ 5ہزار مربع کلومیٹر مغربی پاکستانی علاقے کے ملنے سے ہمارا باقی ماندہ جغرافیہ ٹوٹ پھوٹ سے بچ گیاتھا۔ ہاری ہوئی قوم کے لیڈر نے مشکل حالات کے باوجود قوم کو مایوس نہیں کیاتھا۔ مایوسیوں کے سائے کم ہونے شروع ہوئے۔ تب امریکی صدر رچرڈ نکسن، چینی وزیر اعظم چواین لائی، شاہ ایران رضا شاہ پہلوی اور لیبیا کے معمر قذافی نے بھٹو کی سفارتی صلاحیتوں کو سراہا تھا۔ جنرل گل حسن کو نیا آرمی چیف بنایاگیا۔ انہوں نے 3 سٹار جنرل رہنا ہی پسند کیا۔ ہاری ہوئی فوج کے افسر کو ترقی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی تھی لیکن چندماہ بعد ہی کمان جنرل ٹکا خان کے سپردکردی گئی۔ قیدی آنا شروع ہوئے اور مسلح افواج کی تشکیل نو کی گئی۔ ملک بھی بے آئین ہی تھا۔ ایک سال کے لیے عارضی آئین بنایا گیا اور 1973ء کے مستقل آئین پر کام شروع کردیاگیا۔ یوں 5سال کے بعد ریاست کو ایک پارلیمانی، وفاقی اور اسلامی طرز کا آئین ملا۔ ایک کام جوفوری ہونا ضروری تھا وہ نہ ہوسکا۔ جنرل یحییٰ خان اور اس کے ٹولہ پر آئین اور ملک توڑنے کا مقدمہ چلنا تب انتہائی ضروری تھا۔ جنرل یحییٰ کی سزا کم ازکم پھانسی تو بنتی تھی لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ وہ کئی سال بعد جنرل ضیاء کے زمانے میں طبعی موت مرا۔ یحییٰ نے ذوالفقار علی بھٹو سے مک مکا کرلیاتھا۔

مک مکا کا نظریہ پاکستانی اقتدار کی غلام گردشوں میں واضح نظر آتاہے۔ اس کا فوج میں ہی کورٹ مارشل ہونا ضروری تھا لیکن پاکستان میں مصلحت، انصاف کے راستے میں اکثر رکاوٹ بنتی رہی ہے۔ بھٹو نے الیکشن سے پہلے ہی سوشلزم ہماری معیشت کا نعرہ لگادیاتھا۔ اب عمل درآمد شروع ہوا۔ زرعی اصلاحات کے تحت زیادہ سے زیادہ فی فرد اراضی کی حد 300 ایکڑ بارانی اور 150ایکڑ چاہی مقررکردی گئی۔ معاشی اصلاحات آرڈر 1972ء پہلے ہی نافذ ہو چکا تھا۔ ابھی مارشل لاء بھی برقرار تھا۔ کارخانوں کو قومیانے کا عمل بھی فوری شروع ہوگیا۔ پہلے 31 صنعتی یونٹ اور پھر32 یونٹس سرکاری تحویل میں آگئے۔ تمام بنک اور بیمہ کمپنیاں بھی سرکاری تحویل میں آگئیں۔ تعلیمی ادارے بھی قومی ملکیت میں آگئے۔

بھٹو کے ذہن میں سوشلزم کا اپنا پروگرام تھا۔ انہیں اپنے پروگرام پر عمل درآمد کا حق تھا۔ لیبر اصلاحات بھی کی گئیں۔ اس سب کے باوجود بھٹو کا اصل کارنامہ پاکستان کو ایک متفقہ آئین دینے کاتھا۔ اب تک اسی آئین نے باقی ماندہ پاکستان کو قائم رکھاہوا ہے۔ بعد میں پھر اس آئین کو 3 دفعہ توڑا گیا لیکن نہ عدالتوں نے اور نہ ہی عوام نے آئین توڑنے والوں کی بازپرس کی۔ ایسا ہی ایک جرنیل تو اب تک پاکستانی ریاست اور عوام کا مذاق اڑاتا رہتا ہے۔ ہم میں سے ہرکوئی جانتا ہے کہ 3سال پہلے ترکی میں بھی فوج نے ملک پر قبضے کی کوشش کی تھی لیکن ترکی کے عوام سڑکوں پر لاکھوں کی تعد اد میں نکل آئے تھے۔ فوجیوں کو رسوں سے باندھ کر سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور اب ہزاروں جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ جب تک پاکستانی عوام میں یہ ہمت اور حوصلہ نہیں پیدا ہوگا۔ تب تک آئین اور جمہوریت کو مکمل طورپر محفوظ نہیں کیاجاسکتا۔ سپریم کورٹ کے جج تو جرنیلوں کے آگے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ آئین کی حفاظت صرف عوام ہی کرسکتے ہیں۔ سیکولر بھٹو کی قسمت میں مسلمانوں کے 90سالہ ختم نبوت کے مسٔلہ کا حل بھی لکھا تھا۔ اسے بھی آئین کے تحت قائم اسمبلی کے ذریعے حل کیاگیا۔ مولویوں کی بجائے کریڈٹ صرف بھٹو کو جاتا ہے۔ پوری مسلم دنیا کے سربراہوں کو1974ء میں شہر لاہور میں اکٹھا کرنا بھی انہی کاکارنامہ تھا۔

ایسے ذہین پرزور اور انقلابی ذہن کے لیڈر کو فوج نے اقتدار سے فارغ کردیا پھر مقدمہ اور پھانسی۔ 4 اپریل1979ء کو ان کی لاش لاڑکانہ روانہ کردی گئی۔ 51سال کی عمر میں ہی انہیں قبر میں پہنچا دیاگیا۔ یہ پاکستانی قوم کی بدقسمتی تھی۔ 46 سال پہلے20 دسمبر کی رات بہت ٹھنڈی تھی۔ ملک کو مایوسیوں اور ناامیدیوں نے گھیر رکھاتھا۔ اگرچہ اب ہم ایک ایٹمی قوت ہیں لیکن جمہوریت اور آئین کھو جانے کادھڑکا سا لگا رہتا ہے۔ پاکستانی عوام کو ترک قوم سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔