سیاسی "صحت" کا آئینہ - ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

عصر حاضر میں لکھنے یا بولنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی صحت کا خیال رکھا جائے۔ بظاہر بہت اچھا اصول ہے، شرافت کا اصول ہے، اچھا کام ہے کہ انسان ایک دوسرے کےجذبات کا خیال رکھیں۔ کس انسان کو قبیلے کی بنیاد پر، رنگ و نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی امتیازی سلوک کا نشانہ نہ بنایا جائے اور انگریزی میں جہاں "ہی" عمومی معنوں میں استعمال ہوتا ہو وہاں "شی" کا بھی حوالہ ہو۔

اس تصور کا شان نزول یہ ہے کہ ہم جنس پرستوں کو تجارت کا حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی شان میں کوئی ایسی بات نہ کی جائے یا ایسا لفظ استعمال نہ کیا جائے جو ان کی دل شکنی کا باعث ہو۔ اس تصور کو عام کرنے کے لیے سیاسی صحت کی اصطلاح ایجاد کی گئی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ کسی مقالے میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہ کیا جائے جو اس اصول کی خلاف ورزی کرے۔ چلیں ہم نے مانا کہ یہ ان کی "نئی ثقافت" کا حصہ ہے اور "آداب" تحریر میں سے ہے۔ پھر ہماری ثقافت کا حصہ یہ ہے کہ مذہبی ہستیوں، اللہ کی ذات سے لے کر پیغمبروں، اصحاب، صوفیاء و شہداء تک کا ذکر کرنے کے لیے ان کے مراتب کے لحاظ سے مخصوص الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے انسانیت کا اصول یہ کہتا ہے کہ تحاریر میں اسی ادب کا خیال رکھا جائے لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے بلکہ یہاں آزادی کا اصول لاگو ہوگا بلکہ ان ہستیوں کا جو حال خاکوں، فلموں اور "بے ادب" پاروں میں کرتے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔

اس تصور پر اگر مزید تحقیق کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جرمنی میں ثقافتی سوشلزم کے نام پر ایک تحریک شروع ہوئي، چونکہ سیاسی سوشلزم ایک طرح سے ناکام ہوا، اس لیے ضروری ہوگیا کہ ثقافتی سوشلزم کو ایک تحریک کی صورت میں پھیلایا جائے۔ ثقافتی سوشلزم کی بنیاد اس بات پر کہ خاندانی نظام کو توڑا جائے چونکہ ایک مرد اور ایک عورت خاندانی نظام کے دو ستون ہیں اور ہزاروں سال پہلے سے یہ ادارہ قائم ہے۔ اس کو توڑنا آسان نہیں ہے اس لیے ضروری قرار پایا کہ حقوق انسانی کے نام پر ہم جنس پرستوں کو آگے لایا جائے۔ جب دنیا میں ان کی اکثریت ہو جائے گی تو خاندانی نظام خود بخود گر جائے گا اور انسانی معاشرے کو کنٹرول کرنا آسان ہو جائے گا۔

دراصل معاشرے میں کوئی نہ کوئي فساد برپا کرنا ہے تاکہ لوگوں کو مصروف رکھا جائے یا ایسے کاموں میں لگا دیا جائے جن کا کوئی عملی فائدہ نہ ہو۔ فلم بنانے پر کروڑوں خرچ ہوتے ہیں، فائدہ چند ایک کو پہنچتا ہے لیکن تفریح کے نام پر تجارت کرلی گئی۔ اس طرح جتنے کھیل ہیں، یہ مداریوں والا معاملہ ہیں۔ دیکھنے والوں کو سوائے دیکھنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور میڈیا والے بھی تماشے بیچنے میں لگے ہوئے ہیں۔

تو سیاسی صحت یہ ہے کہ ہم جنس پرستوں کے بارے میں ایسا کوئی لفظ استعمال نہ کیا جائے جو ان کی شان کے منافی ہو۔ اس اصول میں ایک گہری سازش چھپی ہے۔ چونکہ ہم جنس پرستوں کے خلاف مواد الہامی کتابوں میں موجود ہے اور الہام کتابوں کو بلاواسطہ طور پر تنقید کا نشانہ بنانا آسان نہیں، اس لیے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے کہ کسی طریقے سے اصل نشانے تک پہنچا جا سکے۔ دوسر اہم ہدف اخلاق ہی ہے اور وہ اخلاق جس کو توانائی تصور خدا سے پہنچ رہی ہو اس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ اسلام، عیسائیت اور یہودیت میں اخلاق کا تصور خدا سے وابستہ ہے جبکہ ثقافتی اشتراکیت کا تصور فرائیڈ اور مارکس کے نظریات کی پیداوار ہے۔

ان نظریات کا نچوڑ یہ ہے کہ خدا نے انسان کو پیدا نہیں کیا ہے بلکہ انسان نے “خدا” کوپیدا کیا ہے۔ فرائیڈاور مارکس کے مطابق لوگوں کو ڈرانے اور قابو میں رکھنے کے لیے، خصوصاً غریبوں اور عورتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مردوں نے شوہر اور باپ پھر خدا کو ایک طاقتور ہستی کی صورت میں پیش کیا۔ لہٰذا ان بتوں کو توڑنا ضروری ہے یعنی ثقافتی اشتراکیت کے ذریعے شوہر، باپ اور خدا کے نظام کو توڑا جائے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سیاسی صحت کا ڈرامہ رچایاجا رہا ہے۔

چونکہ معاشرتی اداروں کے پس پشت ثقافت کی طاقت ہوتی ہے اس لیے اس ثقافتی دیوار کو توڑ کر ہی ان اداروں میں توڑ پھوڑ ممکن ہے۔ جب باپ اور شوہر کی معنویت حیثیت ختم ہو جائے گی یعنی خاندانی نظام کے بجائے بے نظامی یا بدنظامی آئے گی، مرد و خواتین اپنے فطری فرائض سے دست بردار ہو جائیں گے تو بچے تجربہ گاہوں میں پیدا ہو ں گے اور ان کی پرورش روبوٹس کریں گے۔

"انسان نے خدا کو پیدا کیا ہے" یہ تصور انتہائی خطرناک ہے جوہزار ہا سال سے قائم ایک ادارےکو یکدم الٹا کردیتا ہے اور کمزور ایمان والا تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہر صاحب ایمان پر فرض ہے۔ میں بھی اپنی علمی استعداد کے مطابق اس ملحدانہ سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

چونکہ مارکس اور فرائیڈ حس پرست تھے اور حس پرستوں کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ انسان سب کچھ حواس خمسہ سے سیکھتا ہے یعنی علم کا واحد ذریعہ حس ہے، انسان کا ذہن خالی ہوتا ہے۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ تصورات کہاں سے آتے ہیں؟ اگر انسان سب کچھ باہر سے سیکھتا ہے تو باہر کہیں لامحدود شے نہیں ہے، ہر شے محدود ہے۔ پھر یہ تصور کہاں سے آ گیا کہ خدا لامکان ہے، لازمان ہے۔ دوسری بات، اگر انسان نے سب کچھ باہر سے سیکھا ہے تو آم کی گھٹلی میں کہاں ہے کہ "میرا نام آم ہے" یا پانی میں کہاں لکھا ہے کہ "میرا نام پانی ہے۔" علی ھذا القیاس جتنے اسماء ہیں چند ایک ناموں کو چھوڑ کر جو باہر کی آوازوں کی نقل ہیں، اسماء اور اشیاء میں کوئی منطقی ربط نہیں۔ مثلاً کتا ایک حیوان کا نام ہے جو بھونکتا ہے، کاف، تے اور الف کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے؟ اس طرح کی باقی تمام آوازیں۔ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ تصورات پہلے سے ایک سافٹویئر کی صورت میں موجود ہیں اور یہ تصورات خالق کی طرف سے انسانی ذہن میں ڈال دیے گئے ہیں اور ان کو مختلف آوازوں کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت بھی دی گئی ہے۔ اس لیے زبان میں الفاظ بنتے ہیں۔ انسان نے زبان ایجاد نہیں کی بلکہ یہ قدرت کی طرف سے ایک عطیہ ہے جو اختیار و شعور کے ساتھ وابستہ نعمت ہے۔

ثقافتی اشتراکیت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ شخصیات جو کسی ثقافت میں مشہور ہیں یا ان سے لوگوں کی وا بستگی ہے، مثال کے طور پر انگریزی ادب میں ملٹن ہےع وہ ان کا مذہبی شاعر ہے یا شیکسپیئر جو اپنے فن کا بے تاج بادشاہ ہے۔ ہمارے ہاں اقبال ہے، یہ بھی بت ہیں ان کو بھی توڑ دو، اور ایسے ادیبوں، فنکاروں، اور ستاروں کو اہمیت دو جو سلمان رشدی کی طرح گندی فنکاری کریں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی نے مسجد میں گندگی کرکے شہرت کمانے کی کوشش کی ہو۔ ان کو آگے لے آؤ تاکہ ادب سے لوگ بے ادبی سیکھیں اور لوگوں کا ذہن اعلیٰ اقدار اور اعلیٰ تصوارت سے خالی ہو جائے اور آسانی سے ان کے ذہنوں میں زہر انجیکٹ کیا جا سکے۔

اب وہاں "بیوی" اور "شوہر" کے الفاظ حقیقی زندگی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ان کی جگہ "شراکت دار" کی اصطلاح مقبول ہو رہی ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ اصطلاحات مذہب کی اصطلاحات نہیں ہیں۔ یہ اصطلاحات جب سے انسان نے معاشرے میں بحیثیت "انسان" رہنا سیکھا ھے، اس و قت سے ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے میں نے یہ باتیں کسی اسلامی وسیلے یا ذریعے سے حاصل نہیں کیں بلکہ ان مغربی شخصیات سے حاصل کیں، جن کے دلوں میں اب بھی اخلاقیات کا اصول زندہ ہےاور وہ اپنا بیانیہ معنی خیز انداز میں بیان کر رہے ہیں اور انسانی زندگی کو گندگیوں سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کسی بھی ادارے میں کا م کرنے کے لیے "کوڈ آف کنڈکٹ" ضروری ہوتا ہے۔ دنیا اتنا بڑا ادارہ ہے، جس میں مختلف ثقافتوں کے انسان بس رہے ہیں۔ اگر کثیرالثقافتی معاشرے کا مقصد یہ ہے کہ صرف ان طبقوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے جو ایک مخصوص طبقے کی تجارت کا سامان ہیں؟ تو یہ عدل و انصاف کے منافی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ٹولے کا مشن یہ ہے کہ مذہب والے اگر حق و صداقت پر بھی ہوں تو ان کی دل شکنی کرو، ان کے پیغمبروں کی شان میں گستاخی کرو یا سازش کرکے ان کےخلاف مہم جوئی کرکے ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دو۔

دنیا کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ اسلام کی ابتدائی حالات نا گفتہ بہ تھے۔ مکہ کے سرداروں کا ٹولہ مخالف تھا، بیت اللہ میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دہائی کے اندر کیا ہونے والا ہے؟ سرداروں نے بھر پور مہم چلائی تھی کہ یہ شخص پاگل ہے (نعوذ باللہ)۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ان کو یقین ہو گیا تھا کہ " بلا " ٹل گئی۔ پھر مدینہ کے ارد گرد طاقت ور یہودی آباد تھے، خیبر کا قلعہ ان کا تھا اور انہوں نے بھی اپنی سازشی ذہنیت کا بھر پور استعمال کیا کہ یہ تحریک ابتدائی مرحلے میں ہی دم توڑ دے لیکن ہوا وہی جو ہونا تھا کہ آج مسلمانوں کی آبادی ایک ارب سے اوپر ہے۔

دور حاضر میں حالات بہت بہتر ہیں، گر چہ یہودی اپنی سازشوں میں اب بھی مصرو ف ہیں اور دشمن ایڑی چوٹی کا زور لگا رہاہے کہ لوگ اسلام کی طرف راغب نہ ہوں لیکن اثر الٹا ہو رہا ہے۔ اسلام پھیل رہا ہے اور لوگ رضا کارانہ طور اس نظام کی طرف آرہے ہیں۔ سیاسی صحت کا تصور بھی وقتی طور پر اثر دکھائے گا۔ پھر ایک دن آئے گا کہ وہ خود چلّا چلّا کر کہیں گےکہ "ہم جنس پرستی انسانیت کے نقصان دہ ہے"۔

Comments

Avatar

ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.