ابن آدم کے ہاتھوں پامال ہوتا بنت حوا کا تقدس - محمد عبد اللہ

صحیح بخاری میں محسور بن محزمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ آپ ﷺ کو اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنھا سے بہت زیادہ محبت تھی۔ سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب فاطمہ رضی اللہ عنھا جب اللہ کے رسولﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آپﷺ ان کے استقبال کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے پیشانی پر بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے اسی طرح جب اللہ کے نبیﷺ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتیں۔ اللہ کے نبیﷺ کے اپنی بیٹی کے ساتھ اس حسن سلوک کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ لوگ جو بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے آپ ﷺ کی پیروی میں آنے کے بعداپنی بیٹیوں کے رکھوالے بنے،اپنی بہنوں کی عفت و عصمت کے نگہان بنے۔ یہ محمد عربیﷺ کی تعلیمات کا ہی ثمر تھا کہ ایک بہن، ایک بیٹی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے حجاج ابن یوسف نے محمد بن قاسم کو غزوہ ہند کا سالار اول بنا کر بھیج دیا۔ یہ تو مسلمان بیٹی اور بہن کی عزت و ناموس کی حفاظت کا مسئلہ تھا جبکہ اسلام تابناک ماضی میں تو یہ مثالیں بھی ہیں فاتح اندلس موسی بن نصیرؒ کے کے پاس ایک عیسائی گورنر آیا اور اندلس کے بادشاہ کے خلاف یہ شکایت کی کہ اس نے میری بیٹی کو زبردستی قید کیا ہوا اور اس کی آبرو ریزی کرتا ہے موسیٰ بن نصیر نے فوری طارق بن زیادؒ کو اس غیر مسلم لڑکی بازیابی کے لشکر جرار دے کر روانہ کردیا جو آگے چل اندلس کی فتح پر منتج ہوا۔

مگر دکھ ہوتا ہے کہ وہ نوجوان جس نے کفر کے پنجہ استبداد سے اپنی ماؤں بہنوں کو رہائی دلوانی تھی، جس نے کشمیرو فلسطین میں لٹتی عزتوں اور تارتار ہوتے آنچلوں کے بچانے جانا تھا، آج اس کے شرسے اس کے ارد گرد کی عورتیں ہی محفوظ نہیں ہیں۔ شیطان بھی کہاں کہاں سے وار کرتا ہے کہ نوجوان جو خود کو میدان عمل میں سمجھتا ہے جو بظاہر تو بہت پاکباز اور نیک چال ہوتا ہے مگر اس کے اندر کا گند سوشل میڈیا پر انباکس میں جا کر نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈیجیٹل میڈیا کا نیا فیز - محمد عامر خاکوانی

عورت تو ہے ہی جذباتی اور کم عقل تو اسی جذباتیت کو یہ نوجوان استعمال کرتے ہوئے انباکس میں بہن بھائی مقدس رشتے سے بات چیت کا آغاز کرے گا پھر آہستہ آہستہ وہ جوبہنوں کو احادیث بھیجتا تھا وہی اشعار اور لغویات بھیجنے پر آجائے گا اور کچھ دن ان کچی کلیوں کو اپنی لچھے دار باتوں میں الجھا کردوستی کی آفر کر رہا ہوتا ہے اور اس کے بعد دوستی کے نام پر انباکس میں گلچھڑے اڑانے کے بعد پیار محبت پر آجائے گا اور پھر لڑکی کو مجبور کرے گا میرے ساتھ شادی کرو۔ ابے! تو اتنا شادی کے لیے اتاؤلا ہے تو تھوڑا سا جگر اپنے اندر پیدا کر اور اپنے گھر والوں کو بول کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ادھر تجھ سے ہمت نہیں ہوتی تو ادھر سوشل میڈیا پر موجود لڑکیوں کو چھوڑ لڑکیوں کے ناموں والے ہر چھیدے میدے تک کی آئی ڈیز پر بھی لائن مارنے کے لیے باؤلا ہوا پھر رہا ہوتا ہے؟

کچھ تو زنانہ چہروں والے (نا) مرد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنی زنانہ آئی ڈی سے مختلف لڑکیوں سے راہ رسم نکالی، اعتماد میں لے کر ساری انفارمیشن لی اور اس کے بعد اپنی اوقات دکھاتے ہوئے اپنی اصل آئی ڈی سے ہوگئے اور شروع شادی کے پیغامات بھیجنے۔

میرے نوجوان دوستو! ایک فقرہ ہم نے بارہا سنا ہوگا کہ "اپنی نظر میں حیا پیدا کر تاکہ تیری ماں،بہن اور بیٹی بری نظر سے بچ سکیں "۔ یہ سلسلہ ایک قرض کی طرح ہوتا ہے کہ جب آپ کسی کے گھر میں جھانک رہے ہوتے ہو یا کسی کے گھر میں نقب لگانے کوششوں میں ہوتے ہو تو کوئی آپ کے گھر میں جھانک رہا ہوتا ہے، کوئی آپ کے گھر میں نقب لگا رہا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود ہماری بہنیں، مائیں ہمارے لیے کھلونے نہیں کہ آپ ان سے دل بہلاتے رہیں اور ایک عرصہ دل پشوری کے بعد بھونرے کی طرح کسی نئے پھول کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں۔ ان عورتوں کو تقدس دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بھائی لائیکس نہیں آرہے – محمد جمیل اختر

ابھی کل ایک بہن کی مجھے کال آئی وہ مجھ سے رو رو کر کہہ رہی تھی آپ دوسرے موضوعات پر لکھتے ہو اس موضوع پر کیوں نہیں لکھتے کہ سوشل میڈیا پر اچھے خاصے سنجید ہ لوگ ہمیں تنگ کرتے ہیں۔ اس سے کچھ عرصہ قبل ایک بہن نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ایک معروف نام اور لکھاری نے فیس بک پر ان سے راہ رسم پیدا کی اور آہستہ آہستہ اس لیول پر آگئے کہ شادی کا مطالبہ کر ڈالا۔ اس بہن کے بقول میں نے کہا کہ سیدھے طریقے سے اپنے گھر والوں کو بھیجو ہمارے گھر! تو وہ نامور لکھاری فرمانے لگے کہ گھر والوں کو نہیں بھیج سکتا، پہلے آپس میں انڈر اسٹینڈنگ بنا لیں اس کے لیے آپ مجھے سے ملاقات کریں، اپنی تصویریں بھیجیں وغیرہ وغیرہ۔

اس طرح کی کتنی داستانیں ہیں کہ ان گھات میں بیٹھے شکاریوں کی وجہ سے کتنے گھروں کی غیرت کے جنازے نکلے، اورکتنے آنچل تارتار ہوئے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اس میں قصور وار تو عورت بھی ہوتی ہے جو جانتے ہوئے بھی کہ یہ سب فریب ہے پھر بھی ایسے مکروہ ذہن رکھنے والوں کے فریب میں آجاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود خواتین کو چاہیے کہ جب بھی کوئی مرد ان کے انباکس میں وارد ہو تو بجائے خوش ہونے کہ مجھے تو اتنے لوگ میسج کرتے ہیں سختی سے پیش آئیں اسی لیے تو مومن عورتوں کو حکم دیا کہ جب کسی غیر محرم سے ہمکلام ہوں تو آواز کے سخت رکھیں تاکہ کسی بیمار ذہنیت والے کے دل میں کوئی کجی پیدا نہ ہو۔ اس کے ساتھ کسی کی مرد کے ساتھ بہن سے محبوبہ تک کا سفر کرنے کی بجائے اس مرد کے مقام و مرتبے کا لحاظ کیے بنا اس کا کچا چٹھا بمع اسکرین شاٹس کے عوام الناس کے سامنے رکھیں۔ دو چار کے ساتھ ایسا ہوگیا تو باقیوں کو جرات نہیں ہوگی۔