آج فلسطین ہی نہیں عالم اسلام رو رہا ہے - رمانہ عمر

وہ آنکھوں میں آنسو لیے میرے سامنے بیٹھی تھیں۔ چہرے کے خدوخال میں عمر کی زیادتی سے پڑنے والی شکنوں کے ساتھ ساتھ زمانے بھر کی صعوبتوں کا عکس اور اپنے ہی وطن سے تیس برس پہلے دربدر ہو جانے کا کرب تھا۔ وہ آج بھی مجھے اپنے گھر کے باہر لگے نارنجیوں کے درختوں کی بابت بتا رہی تھیں جو پھل کے بوجھ سے جھک پڑتے تھے اور جنہیں چھوڑے ہوئے تین دہائیاں گزر چکیں۔ وہ مجھ سے ان زیتون کے پیڑوں کی کہانیاں سنا رہی تھیں جن کا پھل بہترین اوران کا تیل مشہور ہے۔

اب ان کی عمر ساٹھ کے پیٹے میں ہے۔ وہ ارض مقدس سے تعلق رکھنے والی خاتون، میرے بچوں کی معلمہ قرآن ہیں۔ آج وہ حد درجہ حزین تھیں۔ مجھ سے کہنے لگیں کہ بتاؤ اس بات کا حق کس نے ٹرمپ کو دیا ہے کہ وہ ہماری مقدس زمین کو اسرائیل کے لیے یوں پلیٹ میں رکھ کر پیش کردے؟ یہ سر زمین انبیاء کی میراث ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے ہمارے نبی ساتویں آسمان تک گئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر کرب ہی کرب تھا۔

میں کیا کہتی؟ میرے پاس کہنے کو تھا ہی کیا؟ میں خود اس خبر کو سننے کے بعد سے اپنا دل کٹتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ پھر ان کے اس سوال نے تو مجھے گنگ ہی کردیا کہ کیا ارض مقدس صرف فلسطینیوں کا مسئلہ ہے؟ کیا فلسطینیوں کی جانوں کے علاوہ اس جگہ کی کوئی اہمیت نہیں؟ جانیں تو وہ برابر قربان کر ہی رہے ہیں اور کرتے رہیں گے مگر یہ مقام تمام دنیا کے مسلمانوں کے دل کی دھڑکن ہے۔ بتاؤ کیا نہیں ہے؟ ان کی اس بات پر میں نے پرزور تائید کرتے ہوئے کہا کیوں نہیں بیت المقدس ہمارے لیے مکہ مدینہ کی طرح محترم ہے۔ وہ ہمارا قبلہ اوّل ہے اور اس میں نماز ادا کرنا ہر مسلمان کی دلی خواہش ہے۔

وہ ایک گھمبیر خاموشی کے ساتھ مجھے دیکھتی رہیں پھر گویا ہوئیں " تو پھر ساری دنیا کے مسلمان خاموش کیوں ہیں؟ وہ سب کہاں ہیں؟ "

میرے دامن میں سوائے شرمندگی کے آنسوؤں اور ایک بے حس خاموشی کے اور تھا ہی کیا؟ سو میں نے وہی کیا جو ایسے موقع پر ہر مسلمان کرتا ہے۔ میں نے فلسطینیوں کی کامیابی کے لیے دعائیہ کلمات اور اسرائیل اور اس کے چیلوں کے لیے بددعائیں کہنی شروع کردیں۔

ایک ایسی قوم جس کےخزانے صلاح الدین ایوبی جیسے بطل جلیل سے خالی ہو چکے ہوں اسے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر ہی لینا چائیے کہ ہم مرد ہوں یا عورت، عام شہری ہوں یا حکومتوں کے کرتا دھرتا، فقیر ہوں یا ملین اور بلین ائیر۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے پاس اب اپنے فلسطینی بھائ بہنوں کے لیے اور ارض مقدمہ کے لیے سوائے دعاؤں اور نوحوں کے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔

اور یہ تو اللہ کی سنت ہے کہ وہ محض دعاؤں سے رحمتوں کی بارشیں اور محض بد دعاؤں سے دشمن پر غضب نازل نہیں کر دیتا۔ دعاؤں کے ساتھ ساتھ کی گئ ہماری کوششیں اور ہمارے عمل ہی رحمت کو جوش میں لاتے ہیں۔

اور ہمارے دامن کوششوں سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔

ورنہ ایسا نہ ہوتا جو ہو رہا ہے؟