موجودہ عالمی حالات اور امت مسلمہ پر اللہ کے عذاب کے سائے - حبیب الرحمٰن

سابقہ امت مسلمہ یعنی "بنی اسرائیل" کو اللہ نے تمام انسانیات پر فضیلت دی اور ایک ہی وقت میں کئی انبیاء عطا کیے جسے اللہ نے قرآن میں "نعمت" قرار دیا۔ جب انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی، انسانیت کو خیر کی جانب بلانا چھوڑ دیا، انبیاء کو ناحق قتل کیا اور قوانین شریعت کو پس پشت ڈال دیا یا اپنی مرضی سے تبدیل کردیا تو نا صرف وہی فضیلت اور انعام یافتہ قوم کو اللہ نے اس وقت کی بد ترین قوم سے پٹوایا بلکہ فضیلت لے کر "ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّـهِ" قرار دیا اور انتہاء یہ کہ "لعنت" فرمائی

اب یہی آیہ موجودہ امت مسلمہ کی جانب۔ امت مسلمہ کو اللہ نے "خیر امت" قرار دیا اور اپنی سب سے بہترین نعمت یعنی "قرآن" عطاٴ کیا۔ اب جب یہ امت مسلمہ بھی اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرے گی، انسانیت کو خیر کی جانب بلانا چھوڑ دے گی، انبیاء کے ورثاء کو ناحق قتل یا ان کو ایذا رسانی میں مبتلا ہوگی اور قوانین شریعت کو اپنی مرضی سے تبدیل کردے گی یا پس پشت ہی ڈال دے گی تو کیا اللہ اپنی سنت تبدیل کرلے گا؟ کیا اللہ کے اس عذاب کا کوڑا اس امت پر نہیں برسے گا۔؟

واضح رہے کہ

- اس وقت اللہ کی نگاہ میں بد ترین قوم "بنی اسرائیل" ہیں اور جس پر اللہ نے لعنت، پھٹکار اور مسکنت تاقیام قیامت تھوپ رکھی ہے۔

- موجودہ امت مسلمہ بھی ان گھناؤنے جرائم میں بالعموم مبتلاء ہے

- اللہ اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا لہٰذا جب تک ڈھیل ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے

کرنے کا اصل کام

- آپس میں ہر قسم کی تفریق مثلا ترک، افغانی اور ہندوستانی کرنے کے بجائے متحد ہوکر ایک امت مسلمہ بننا ہوگا، یہ 57 لکیروں کی حیثیت کو پس پشت ڈالنا ہوگا، ہمارا دشمن بھی بلا تفریق ہم سے لڑتا ہے اور ہم ہیں کہ "الامان الحفیظ"

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانو متّحد ہوجاؤ - سلیم مغل

- اس وقت کی ضرورت ہےکہ بحیثیت امت اجتماعی توبہ کی جائے۔ 100 سال ہونے کو آرہے ہیں سقوط خلافت کو اور اب تک اللہ کی نیابت کرنے والا کوئی کھڑا نہ ہوا۔

- سعودی عرب اور پاکستان کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا پوری امت کا متحد کرنے میں، سعودی عرب مسلمانوں کا مرکز ہے جبکہ پاکستان کے پاس پوری امت کی امانت یعنی "ایٹمی دانت" موجود ہیں اور بہترین فوج بھی موجود ہے۔

لیکن حال ہمیں سوچنا ہوگا اس سے قبل کے اللہ کی سنت پوری ہو اور وہی عذاب کا کوڑا ہم پر بھی برسے۔