اللہ جی کا مہمان - عبدالباسط ذوالفقار

انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، پھر اٹھ کر آئے اور ڈانٹ کر کہا: جاؤ گھر، ابھی بچے ہو، تم ابھی وہاں کھیل رہے تھے اب یہاں آگئے؟ تمہیں کیا پتا نماز کیا ہوتی ہے؟ نماز نہیں آتی تمہیں اور وضو بھی نہیں ہو گا تمہارا! گھر میں سنبھالے نہیں جاتے مسجد بھیج دیتے ہیں"۔ ساتھ ہی بڑبڑاتے ہوئے وہ صاحب اگلی صف میں جا کر بیٹھ گئے۔

اس بچے نے ان صاحب کی باتیں سنیں اور بوجھل قدموں سے واپس دروازے کی طرف مڑ گیا۔ اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے۔ آنکھیں مسلتے ہوئے وہ دروازے سے نکلا تو اس کی عبدل سے ٹکر ہو گئی۔ جو وضو کر کے بازو نیچے کرتے ہوئے دروازے سے مسجد میں داخل ہوا تھا۔ اس نے پوچھا بیٹے! کیا ہوا؟

"انکل وہ، وضو، نماز، نہیں، کھیل،" بچہ زاروقطار رو رہا تھا، اس کی ہچکی بندھی تھی۔ اس سے بات نہیں ہو پا رہی تھی۔ عبدل نے اسے دلاسہ دیا، پانی پلایا۔ جیب سے دس روپے کا نوٹ نکال کر تھمایا۔ پھر وضو کروایا اور اپنے ساتھ لیے مسجد کر ہال کی طرف بڑھ گیا۔ اس بچے کو پیار سے سمجھایا "بیٹا! مسجد اللہ جی کا گھر ہے نا! یہاں شرارتیں نہیں کیا کرتے، اللہ جی ناراض ہوں گے۔ وہ ناراض ہوئے تو پھر کیا کریں گے ہم؟ جب بھی مسجد آئیں آپ، تو جیسے میں نے وضو کرایا، ایسے ہی وضو کر کے خاموشی سے آ کر بیٹھنا، پھر نماز پڑھ کر گھر جانا۔ اللہ جی آپ سے راضی ہو جائیں گے۔ وہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔" اس بچے کو جب پیار ملا تو وہ ان صاحب کا غصہ بھول گیا۔ اس کے چہرے پر خوشی کے اثرات نمایاں تھے۔

نماز کے بعد جب سب اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تو ان صاحب نے اس بچے کی طرف آنکھیں نکال کر دیکھا۔ بچہ سہم گیا جب کہ عبدل کو وہ موقع مل گیا جس کی اسے تلاش تھی۔ وہ تو اسی طاق میں تھا کہ اسےکوئی بہانہ ملے اور وہ ان صاحب سے بات کرے کہ "ہمارا کوئی حق نہیں بنتا ہم اللہ کے گھر آئے مہمان کو دھتکاریں۔" وہ یہ موقع کیسے ہاتھ سے جانے دیتا؟ اس نے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے ان صاحب کو سلام کیا۔ پھر انتہائی عاجزی و انکساری سے اپنا مدعا عرض کر دیا۔ وہ صاحب بھی سمجھدار تھے فوراً سمجھ گئے کہ ابھی سے اگر ہم اپنے بچوں کو اللہ سے متعارف نہیں کرائیں گے، اللہ کے گھر انہیں نہیں لائیں گے تو وہ اس گھر آنا چھوڑ دیں گے۔ ان کے قدم بازار کی طرف تو اٹھیں گے مگر مسجد کی طرف نہیں اٹھیں گے۔

انہوں نے اپنے رویے اور عمل پر معذرت کرتے ہوئے اس بچے کو بلایا، پیار کیا، ماتھے پر بوسہ دیا۔ ایک نوٹ جیب سے نکال کر تھمایا اور کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا سوری! میرا بیٹا مجھ سے ناراض تو نہیں ناں؟ بچے کو جب پیار ملا تو اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ان کے گلے میں ہاتھ ڈال دیے اور ان سے لپٹ گیا۔ اب وہ بچہ روز مسجد آتا ہے۔ آج جب میں آیا تو وہ اللہ کا مہمان اللہ جی سے ملاقات کی تیاری کر رہا تھا۔ بے ساختہ پیار آیا اور انتظار کرنے لگا کہ کب وضو کر کے فارغ ہو اور میں اس سے اپنے لیے دعا کراؤں، کیوں کہ یہ خاص مہمان، اللہ جی کو بہت پیارا ہوگا۔ اللہ اس کی ضرور سنیں گے۔ مجھے یقین ہے جب گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف یہ ننھا فرشتہ ہاتھ اٹھائے گا تو اللہ کریم اس کے ہاتھوں کو خالی نہیں لوٹائے گا۔

آپ کے اردگرد بھی ایسا کوئی بچہ ہوگا۔ جسے آپ کے پیار بھرے دو لفظوں کی ضرورت ہو گی۔ آپ کے پیار بھرے ایک بوسے سے وہ اللہ جی سے ملاقات کے لیے حاضر ہو جایا کرے گا۔ ضرور اس تعلق میں سیڑھی بنیں یقیناً اللہ جی ہم پر بھی رحمت برسائیں گے۔ اور ہمارا تعلق بھی مضبوط ہوتا جائے گا۔

Comments

عبدالباسط ذوالفقار

عبدالباسط ذوالفقار

عبد الباسط ذوالفقار ضلع مانسہرہ کے رہائشی ہیں۔ سماجی موضوعات پر لکھی گئی ان کی تحاریر مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.