قصہ پانچ کنواریوں کا - عظمیٰ ظفر

ہمیشہ سے سنتے آئے تھے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور اُن کا مِلن زمین پر ہوتا ہے۔ اس آسمانی جوڑے کو، جو مزاجاً مشرق و مغرب، ہوتے ہیں، انھیں زمین پر ملنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

یقیناً، میری اس بات سے کئی بہنوں کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوگی۔ کسی نے ٹھنڈی آہ بھری ہوگی اور کسی کا حلق تک کڑوا ہو گیا ہوگا۔

خیر، تو ہم بات کر رہے تھے ملن کی، اس کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے لڑکی دیکھنا۔ چونکہ لڑکے والے اولمپک کی شمع اپنے ہاتھ میں لیے چوڑے ہوکر سینہ تان کر میدان میں اترتے ہیں، لہٰذا انھیں شہہ دینے کے لیے رشتے کرانے والی آنٹیاں ہمقدم ہوتی ہیں اور رہ گئے لڑکی والے؟ تو وہ ایسی گھاس ہوتے ہیں جو ان کے قدموں تلے بچھی ہوتی ہیں اور سب روندتے چلے جاتے ہیں۔ اِسی گھاس میں چھپی لڑکی وہ گوہر نایاب ہوتی ہے جو بعد میں کنکر بن کر لڑکے والوں کو چھبتی رہتی ہے۔

پہلے پہل تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لڑکیاں اتنا گھبراتی کیوں ہیں جب انھیں دیکھنے کوئی آتا ہے؟ مگر جب خود پر بیتی تو یہ عقدہ کھلا کہ یہ بھی ایک امتحان ہے۔ جس میں لڑکے والے ممتحن، لڑکی طالبعلم اور لڑکی کے گھر والے استاد ہوتے ہیں اور اگر رشتہ کسی رشتے کروانے والی کے توسط سے ہو رہا ہو تو وہ خاتون خوامخواہ ہیڈ مسڑیس بن جاتی ہیں۔ اچھی بھلی سانولی رنگ کی لڑکی کے منہ پر "فئیر اینڈ لولی" ملوا دیں گی، ہلکی پنک رنگ کی لپ اسٹک کو مٹا کر کلیجی رنگ کی لپ اسٹک جو وہ اپنے عمرو عیار کی زنبیل نما پرس میں رکھتی ہیں، نکال کر لگادیں تو لڑکی حُور کے بجائے فتور ہی دِکھے گی مہمانوں کو۔

دوسرا مرحلہ اس ڈرائنگ روم کی سیر کا ہوتا ہے جو کسی ڈاکٹری معائنے سے کم نہیں ہوتا۔

ہنس کے دکھاؤ! بتیسی پوری ہے کہ نہیں؟

چل کے دکھاؤ! جسم پر کہیں لقوہ تو نہیں مار گیا ؟

گھر کے جتنے بلب تھے سب روشن ہو جاتے ہیں، گھر کے چھپے جالے بھی نظر آجاتے ہیں، پھر بھی انھیں لڑکی پسند نہیں آتی۔ بعد میں یہی لڑکیاں ایسے چودہ طبق روشن کرتی ہیں سسرال والوں کے کہ بجلی کے بل کا حساب برابر ہوجاتا ہے۔

ہم جب بچے تھے تو اپنی بڑی بہن کو ایسی ڈرائنگ روم پریڈیں لگاتے دیکھا کرتے تھے۔ اچانک جو بہن ٹیوشن پڑھتے بچوں پر گرج برس رہی ہوتی تھیں، لڑکے والوں کی آمد پر ٹھنڈی پھوار بن کر ہمیں بچوں کا مانیٹر بنا کر چلتی بنتیں۔ آدھے پون گھنٹے بعد بہن کا وہی حلیہ اور وہی گھن گرج۔

مزے تو چھوٹے بھائی کے ہوتے جو جان بوجھ کر مہمانوں کے سامنے مظلوم بن کر کھڑا ہوجاتا اور پورے کا پورا سالم گلاب جامن اکیلا اپنے منہ میں رکھ لیتا ۔ اُس زمانے میں گلاب جامن اپنے اصلی سائز کے آتے تھے۔ باقی سب چاہے دانت پیستے رہ جاتے مگر وہ ضرور کھالیا کرتا۔ بلا مغالبہ بڑی بہن کے پچاس رشتے تو آئے ہوں گے۔ دیکھنے والوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ شکر ہے اس زمانے میں "کریم سروس" نہیں تھی نا ہی "چنگ چی"، ورنہ یہ تعداد سنچری کر جاتی۔ حالانکہ بڑی بہن نہ تو قد میں چھوٹی تھیں نہ موٹی، رنگ گورا، بڑی آنکھیں، لمبے کالے بال، خوش شکل۔ ہم سوچتے تھے کس چیز کی کمی ہے؟ بعد میں سمجھ آیا کہ دولت کی کمی تھی۔

اللہ اللہ کرکے ایک جگہ بات بنی تو کچھ دنوں بعد لڑکے والوں نے پڑوس والوں کے فون پر اطلاع بجھوادی ، کہ واٹس ایپ اور ایس ایم ایس کی سہولت میسر نہیں تھی اس دور میں، دنیا کے لوگ بہت غریب تھے، ہم یہ رشتہ ختم کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں اندر کی خبر سے معلوم ہوا ہے، "را" والے گھریلو سازشوں میں فعال ہوتے ہیں شاید، کہ لڑکی کے والد نے دوسری شادی کی ہوئی ہے۔

لو جی، رشتہ ختم!

اب اگر ہماری امّاں نے مرحوم والد صاحب کے ماضی اور حال نہ دیکھے ہوتے اور لٹُے پٹُے ہجرت نہیں کی ہوتی تو ایسی "بریکنگ نیوز" سن کر اپنے بچوں کو والد صاحب کے متھے چھوڑ چھاڑ میکے جا بیٹھتیں۔ مگر ایسا کرنا تو دور کی بات سوچنا بھی ممکن نہ تھا کیونکہ اٹاری اور واہگہ بارڈر نزدیک نہیں تھے اور دلّی دور است!

ایک دن ایک خاتون دیکھنے تو بڑی بہن کو آئیں مگر بلا کی عقابی نظر تھی ۔ دوسرے نمبر کی بہن کو دوسرے کمرے سے نکلتے دیکھ لیا اور گھر کی دہلیز پکڑ لی۔ دوسری والی سے رشتہ کروں گی اپنے بیٹے کا! اماں لاکھ انکاری کہ ابھی بڑی سینے پر مونگ دل رہی ہے، دوسری کا رشتہ کیسے کردوں؟ مگر وہ بھی ہٹلر ثابت ہوئیں بات پکی کروا کر ہی دم لیا۔

تھوڑے ہی دنوں بعد بڑی بہن کا رشتہ بھی ایک جگہ طے ہوگیا یوں دوسری بہن اس مرحلے سے گزر نہ سکیں ، بچ گئیں۔ دونوں بہنیں پیا دیس سدھاریں تو تیسری بہن کی باری آئی۔ شومئی قسمت پہلے رشتے میں ہی لڑکے والوں کو پسند آگئیں۔

مگر یہ کیا؟ ہر تھوڑے دن بعد لڑکے کی بہن بھری دوپہر میں کسی رشتے دار کو ساتھ لے آتیں۔ آج فلاں پھوپھی نے لڑکی کو دیکھنا ہے تو آج فلاں خالہ، مامی نے ایک نظر دیکھنا ہے۔ شاید قریب النظری اور بعید النظری کے سارے فرق مٹ جائیں اور نظر کے چشمے اسی طرح ٹھیک ہوجائیں۔ ایک دن ایک شوخ و چنچل حسینہ کو ساتھ لے کر آگئیں کہ اس کو بڑا اشتیاق ہے لڑکی سے ملنے کا ۔ گویا لڑکی نہ ہوگئی ، ایکسپو سینٹر" کی نمائش ہوگئی!

خاطر داری اور مہمان داری کے سارے لوازمات ہر چکر میں پورے ہوگئے تو اس رشتے سے انکار کردیا گیا وہ بھی وجہ بتائے بغیر۔ بعد میں پتہ چلا کہ جن صاحب کا رشتہ بہن کے لیے آیا تھا وہ کویت میں کسی تیل کی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ بہن کی آنکھوں میں تو ابھی "کویتی دینار" اور "تیل کے کنوؤں " کے خواب بھی نہ سجے ہوں گے کہ چکنا چور ہوگئے کیونکہ اُس چنچل حسینہ کے ساتھ ان حضرت کا رشتہ طے ہوچکا ہے۔ بہرحال، دوسرے رشتے میں ہی اس بہن کی نیاّ پار لگ گئی۔

اب باری تھی چوتھی بہن کی مگر شاید ہماری بڑھنے کی رفتار خود رو گھاس جیسی تھی۔ جب ہم تیزی سے بڑھنے لگے تو اماں کی نگاہوں میں کھٹکنے لگے تھے جبکہ عمر صرف ساڑھے چالیس تھی اور ابھی تو ہمارے پنگھوڑے میں کھیلنے کے دن تھے۔ مگر اماں کا دل پھر ہولنے لگا۔ فون پر فون گھمائے جائیں۔ کسی کی منت سماجت، کسی کو رکشے کے کرائے کا لالچ۔ جیسے کنواری بیٹیاں نہ ہوگئیں، بوری میں بند ٹماٹر ہوگئے کہ پڑے پڑے سڑ جائیں گے؟

لہٰذا اب ہم دونوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا۔ چوتھی والی بہن خوش قسمت رہی دوسری باری میں ان کا چھکا نکل آیا ۔ مگر بہن کے رشتے سے پہلے ہمارا رشتہ طے پاگیا تھا۔ یوں اس بہن کو بھانت بھانت کے لوگوں سے ملنے کا موقع میسر نہیں آیا۔

اب ہماری رُوداد بھی سن لیجیے! رشتے تو ہمارے چار پانچ ہی آئے ہوں گے مگر تجربہ ہمیں خوب ہوگیا۔ کوئی دن دیہاڑے چلا آرہا تو کوئی آدھی رات کو۔ اماں ہمیں جگا کر کہتیں مہمانوں سے مل لو شاید کوئی اندھیرے میں ہی پسند کرلے۔ پہلے پہل تو ہم ڈرے سہمے دُبکے بیٹھے رہتے۔ مگر جب اندازہ ہوگیا ہمیں دیکھنے آنے والی خواتین کو ہم سے کوئی دلچسپی نہیں تو پھر ہم بھی دل پشوری کے لیے خوب باتیں کرنے لگے مطلب"ٹائم پاس" کرنے میں کیا حرج ہے؟

ایک مرتبہ ایک رشتے والی خاتون کے ساتھ جب ہم نے اپنے اسکول کی دوست کو دیکھا تو ہم جان بوجھ کر بھولے بن گئے مگر آفرین اس کی یاداشت پر، ہمارے اسکول کے کچے چھٹے یاد دلا کر ہی دم لیا۔ پھر جس بات کا ہمیں ڈر تھا وہی ہوا، اس نے ہم سے پوچھ ہی لیا کہ تم وہی ہو نا، جس کی غلطی کی وجہ سے اس کو فزکس کے پریکٹیکل جرنل پر ملنے والا ایک نمبر کٹ گیا تھا؟

ایک نمبر نہ ہوا قومی اسمبلی کا ایک ووٹ ہوگیا، جس کے نا ملنے پر اتنا برا منایا اس نے۔ بعد میں رشتے سے بھی انکار کردیا۔ ہونہہ!

ہمارے رشتے کی بھاگ دوڑ کرنے میں بڑی بہن کی کوششیں زیادہ تھیں۔ ایک مرتبہ ہمارے گھر رات رُکنے آئیں تو اماں کو ایک رشتے کا بتانے لگیں کہ لڑکے والوں کو ہماری تصویر پسند آگئی ہے۔ ادھر ہم نیند میں ڈوبے سونے کے لیے بے چین تھے کہ کب وہ چپ ہوں اور ہم سکون کی نیند سوئیں، مگر یہ بات سن کر دل میں لڈو پھوٹنے لگے مگر چپکے پڑے رہے۔ بہن خوشی اور جوش کے مارے اماں سے خیالی پلاؤ بناتے ہوئے سارے تقریبات اور ان کے دن طے کرنے لگیں۔ مہندی اس دن کرلیں گے، شادی اس دن رکھ لیں گے۔ وہ تو اتفاق ہوا کہ اماں پوچھ بیٹھیں کہ لڑکا کرتا کیا ہے؟ بہن خوشی خوشی بتانے لگیں کہ فائلیں ادھر ادھر کرتا ہے۔ مال ادھر ادھر کرنا تو سنا تھا مگر فائلیں ادھر سے ادھر کرنا؟ انڈر ورلڈ سے تعلق ہوگا یا بھائی لوگ جیسا کریکٹر!

ایسی مشکوک نوکری سن کر ہماری تو نیند بھک سے اڑ گئی۔ بہن پھر سے تقریب منعقد کرنے بیٹھ گئیں۔ ہم تو اس ڈر کہ سچ مچ رشتہ طے نہ ہوجائے تپ کر بولے "اماں!!! اب آپ لوگ سوجائیں ورنہ باجی تو ولیمہ کروا کر چھوڑیں گی راتوں رات۔ "

تصویر کی بھی الگ کہانی ہے۔ اماں کے اصرار پر چارو ناچار ایک عدد بالخصوص رشتے کے لیے تصویر بنوا تو لی مگر جتنی لیپا پوتی ہم نے نہیں کی تھی۔ اتنی اسٹوڈیو والے نے اپنی مرضی کے رنگ اس تصویر میں بھر دیے۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اس کا مطلب سمجھ آگیا تھا۔

ہماری تصویر نہ ہوئی قطری شہزادے کا خط ہوگیا، ہر کس و ناکس کے پاس پہنچ گئی اور تصویر کے پیچھے نادرا کا ڈیٹا فیڈ کرلیا، بقلم خود۔ علاوہ ازیں سالن کی چکنائی، رشتے والی ضعیف العمر خاتون کے پان کے داغ، گھر کی نشانی سب کچھ درج تھا۔ جس عمر میں وہ رشتے کرواتی تھیں ہم تو ورطہ حیرت میں ڈوبے رہتے کہ اس عمر میں تو لوگ اچھے ڈاکٹر کا پتہ پوچھتے ہیں، کجا کہ رشتہ کروانا؟ خیر جناب! تصویر تو واپس نہ ملی اور پتہ چلا کہ تصویر گلی، کوچوں سے ہوتی ہوئی ملک سے باہر بھی چلی گئی، مگر ہم جوں کے توں اپنی مٹی میں پلتے رہے بڑھتے رہے۔

ایک دن ہماری ہر دلعزیز دوست اپنی کولیگ کو لے آئیں ہمیں دکھانے کے لیے۔ ہم بھی بڑے پرتپاک طریقے سے ان سے ملے۔ وہ اپنے بھانجے کے لیے چاند سی لڑکی ڈھونڈ رہی تھیں۔ ہم چاند جیسے تو تھے، مگر ٹیچری کر کر کے چاند ذرا سا گہنا گیا تھا۔ وہ اپنی مرحومہ بہن سے کیے گئے وعدے کے مطابق اپنے بھانجے کا رشتہ ڈھونڈ نے نکلی تھیں۔ خوب قلابیں ماری گئیں اپنے بھانجے کی کہ اپنی ماں کہ بعد اپنی چھ خالاؤں کا بہت لاڈلا ہے، سب کی سنتا ہے، لائق ہے، فرمانبردار ہے۔ ہم بھی متاثر ہوگئے چلو لڑکا بہت جی حضوری کرے گا۔ وہ محترمہ بھی ہم سےمل کر بظاہر تو خوش لگ رہی تھیں ہماری دوست بھی بہت پر امید تھی مگر…

حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے

گھر جاکر بہت دن سوچنے کے بعد منع کردیا کہ لڑکی کی تو چار، چار بہنیں ہیں، ہمارا بھانجا تو روز روز میکے کے ہی چکر لگاتا رہے گا، اپنی خالاؤں کو تو گھاس نہیں ڈالے گا۔

دل میں تو ہم نے بھی یہی سوچا تھا ان چھ خالاؤں کی دال نہ گلنے دوں گی اگر یہیں شادی ہوگئی، مگر ہائے میری معصوم سوچیں!

ایک اور رشتے والی آئیں۔ سب کے سامنے ہمارے منہ پر ہم سے ہماری "بالی عمر" پوچھ لی۔ دل تو چاہا اپنے نوکیلے ناخنوں سے ان کا منہ نوچ لوں مگر جب ناخنوں میں پتیلی دھونے کی وجہ سے رہ جانے والی کالک دیکھی تو دانت پیستے پیستے اصل عمر میں سے چار کم کر کے بتایا مگر انھوں نے زبانی جمع تفریق کرکے اسی وقت بتادیا کہ ہمارے لڑکے سے تو پورے ایک سال بڑی ہے لڑکی۔ چلو جی بات ختم!

معاملہ جب ہمیں بھی اقوام متحدہ میں جاتا دکھائی نہیں دیا تو ہم نے بھی ناشتے کی پلیٹ بھر لی کہ اپنے ملک کا مال ہےپیٹ بھر کے کھاؤ۔ بڑی بہن کے زمانے میں پورے پورے گلاب جامن رکھے جاتے تھے اور ہمارے دور میں بس نمکو اور بسکٹوں سے کام چلا لیا گیا تھا۔ صوبائی حیثیت جیسا سلوک روا رکھا گیا ہمارے ساتھ۔ ہم تو مہمانوں کے پاس ذرا سا ہی کھا پاتے تھے کہ اماں جان کی گھورتی آنکھیں اور کھنکھار سن کر مجبوراً چکھ کر رکھ دیتے۔ مایوسی کی فضا ہماری زندگی میں چھا گئی تھی۔ ہم "نا اہل" قرار دیے جاچکے تھے کہ امید کی کرن خود ہمارے گھر سے پھوٹی۔ ہماری بڑی بھابھی نے جب دیکھا کہ کوئی ہمیں قبول نہیں کر رہا تو انہوں نے اپنے بھائی کے لیے ہمارا ہاتھ مانگ لیا۔ مشہور محاورہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا "بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں ۔"

اس طرح جو ہماری بھابھی تھیں، ہماری نند بن گئیں اور ہم جو ان کی نند تھے بھابھی بن گئے۔ یوں یہ "قصہ پانچ کنواریوں" کا اپنے اختتام کو پہنچا۔ اب راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

Comments

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.