عمرؓ سیریز: ایک تعارف - فیض احمد

اسلام میں میڈیا کا استعمال کوئی شجر ِممنوعہ نہیں لیکن اس کی اپنی حدود ہیں، جن کے اندر رہ کر وہ میڈیا کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ مغرب میں اگر دیکھا جائے تو وہاں کی فلم انڈسٹری ـــــ’’ہالی ووڈ ‘‘ میں فلم بنانے والے وہاں کے ذہیں ترین لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اب ان فلموں کے ذریعہ اپنے ملحدانہ افکار کی تبلیغ کررہے ہیں۔نتیجہ یہ کہ اب فلم یا ڈرامہ صرف تفریح نہیں ہے بلکہ فکری جنگ ہے، افکار کی تبلیغ کا ذریع ہے۔مسلمان علماء کو چاہیے وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور و خوض کریں کہ میڈیا کو دین کی نشرواشاعت اور تبلیغ کے لیے کس طرح مثبت طور پر استعمال میں لایا جاسکتا ہے،کیونکہ اس وقت کسی بھی شے کی نشرواشاعت کا سب سے اہم ذریعہ میڈیا ہے۔

اسی بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے Middle East Broadcasting Center اور Qatar TV نے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کی مبارک زندگی اورآپؓ کے دور خلافت پر ایک اعلیٰ و ارفع ڈرامہ سیریز بنائی ہے۔’’عمر ِفاروق ؓ‘‘ یا ’’عمر ؓ سیریز ‘‘دراصل ایک تاریخی ڈرامہ سیریز ہے جس میں حضرت عمر ؓکی مبارک زندگی، عرب (مکہ)میں اسلام کی ابتداء سے لے کر مدینہ طیبہ میں اسلامی ریاست قائم ہونے تک اور پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓکے دور خلافت کو فلمایا گیا ہے لیکن اصلاًحضرت عمرفاروقؓ کی مبارک زندگی اور مبارک دور خلافت کو دکھانا مقصود ہے تاکہ مسلمان اپنے دین اور ورثے سے آگاہی حاصل کریں اور یوں اپنا شاندار ماضی دیکھ کر مستقبل کی تعمیر میں لگ جائیں۔

یہ ڈرامہ سیریز بنانے کے پروجیکٹ کی شروعات ۳۰ ستمبر ۲۰۱۰ء میں مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ سینٹر (MBC)اور قطری میڈیا ایجنسی قطر ٹی وی درمیان طے پائے گئے ایک معاہدے کے بعد ہوا۔ یہ ڈرامہ سیریز ان معنوں میں عرب دنیا کی سب سے گراں بہا ڈرامہ سیریز ہے کہ ہر دن ۵۰۰ اداکار اس میں اپنی اداکاری کا عمل انجام دیتے تھے۔ اس ڈرامے میں اداکاروں کی کل تعداد ۳ ہزار ہے جو کہ کسی بھی عربی ڈرامے سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس ڈرامہ سیریز پر لاگت کا تخمینہ ۲۰۰ ملین سعودی ریال کا آیا ہے۔ یہ ڈرامہ سیریز کل اکتیس قسطوں پر مشتمل ہے اور ہر ایک قسط کا اپنا ایک الگ عنوان ہے مثلاًپہلی قسط کا عنوان ہے ’’ حضرت عمر ؓ عالم شباب میں ‘‘، دوسری قسط ’’عرب میں دین اسلام کی شروعات‘‘وغیرہ۔اس سیریز کی نشر و اشاعت کا کام ایم بی سی اور قطر ٹی وی نے ہی انجام دیا۔ ان دو میڈیا ایجنسیوں پے اس سیریز کی نشرو اشاعت کے فوراً بعدہی اس کو دنیا کی بیشتر زبانوں میں منتقل کیا گیا۔ یہ سیریز مراکش اور اس کے شہروں خصوصاً مراکش، طنحہ، الجدیدہ، کاسابلانکا، محمدیہ میں فلمائی گئی۔ اس سیریز کے ہدایت کار ایم بی سی کے ڈائریکٹر حاتم علی خود ہی تھے۔

اس ڈرامہ سیریز کا مواد بھی نہایت معتبر ہے جو کہ کئی کبار علماء سے تصدیق شدہ ہے۔ اس ڈرامے کو عوام و خواص میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ خصوصاً علماء کے ایک بڑے طبقے نے اسے خوب سراہا اور اس کی توثیق میں ایک فتوے بھی صادر فرمائے۔ان علماء میں علامہ یوسف القرضاوی، شیخ اکرم ضیاء العمری،شیخ سلمان العودہ،شیخ علی الصلابی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

اس ڈرامے میں نہایت فنکارانہ اور ماہرانہ انداز میں فلیش بیک تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ’’ ماضی نمائی یا سابقہ اقدامات کو زمانۂ حال میں ڈھالنے‘‘کے ہیں۔ المختصریہ کہ ہمیں چاہیے اس سیریز کو اس نیت اور مقصد سے دیکھا جائے کہ ہم پھر خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کے نقش قدم پے چل کر اسلامی نظام کے نفاذ کو عملی صورت بخشیں اور اللہ تعالی کے ارشاد لم یزل ’’کلمۃاللہ ھی العلیا‘‘ کے عملی گواہ بنیں۔ ان شاء اللہ!