مسعود احمد برکاتی……اک دیا اور بجھا!!! - عبدالصبور شاکرؔ

دھان پان سا جسم، باریش چہرہ، رعب و تمکنت بھرا لہجہ، علم و ادب میں گندھی گفتگو، سادہ دل، سادہ مزاج شخصیت… یہ تھے جناب مسعود احمد برکاتی صاحب! ایک زندہ دل اور باغ و بہار شخصیت۔10دسمبر2017ء بروز اتوار بھری بزم سے ہمیشہ کے لیے اٹھ گئے۔ لیکن ہزاروں دلوں میں ان کی یادوں کے گلاب ابھی شگفتہ ہیں۔ تسبیح کے ٹوٹتے دانوں کی مانند اکابر اٹھتے جا رہے ہیں اور چراغ لے کر بھی ان جیسا ملنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اشتیاق احمد کے بچھڑنے کی ٹیسیں ابھی دل سے ختم نہیں ہوئی تھیں کہ برکاتی صاحب بھی چل بسے۔ کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت اکابر کی موت اصاغر کو بڑا بنا دیتی ہے۔ یہ سوچ کر کچھ ڈھار س بندھ جاتی ہے۔

برکاتی صاحب کی وفات ایک بڑا سانحہ ہے۔ کیوں کہ اِن جیسے راہبر و راہنما کا ملنا اب نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ ان جیسی تھپکی، ان جیسی شاباشی دینے والوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔ جو نکمّے سے بندے کو آگے بڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ خود غرضی کے اس دور میں اگر کوئی ان سے رابطہ کرتا تو باقاعدہ جواب آتا۔ اچھی تحریر نہ لکھی جا سکتی تو بتایا جاتا کہ تمہاری تحریر ابھی قابل اشاعت نہیں ہے، مزید محنت کیجیے۔ ایک بارکسی نے پوچھا ’’کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ لکھنے بیٹھیں تو الفاظ روٹھ جاتے ہیں۔ ذہن پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ قلم چلنے سے انکار کر دیتا ہے۔ بتائیے ایسے میں کیا کیا جائے؟‘‘ فرمانے لگے ’’بھائی! الفاظ کی بجائے خیالات کو آواز دو۔ جب خیالات کا ہجوم ہوگا تو الفاظ خود بخود ہاتھ باندھے سامنے آ موجود ہوں گے۔ اور خیالات کا یہ ہجوم بھی مطالعہ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔‘‘

آپ 15اگست 1933ء کو ریاست ٹونک (راجپوتانہ) میں پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ لیکن بیشتر کامیاب لوگوں کی طرح یتیمی کو اپنی تعلیم و تربیت میں آڑے نہ آنے دیا۔ 14 سال کی عمر میں اپنے دادا مرحوم کے نام پر ایک رسالہ ’’البرکات‘‘ نکالا۔ لکھنے لکھانے سے یہ رشتہ ایسا جڑا کہ تا دمِ آخرنہیں ٹوٹا۔ محض سولہ سال کی عمر میں بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب مرحوم کے رسالہ ’’معاشیات‘‘ میں پہلا مضمون ’’اشتراکیت کیا ہے؟‘‘ بھیجا۔ جو نہ صرف شائع ہو گیا بلکہ مولوی صاحب مرحوم نے آپ سے ملنے کا اشتیاق بھی ظاہر کر دیا۔ جب آپ ملنے کے لیے آئے تو مولوی صاحب آپ کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ کہنے لگے ’’میں تو سمجھا تھا کہ مسعود احمد برکاتی کوئی میری عمر کا بندہ ہوگا۔ آپ تو ماشاء اللہ نوجوان ہیں۔‘‘

1948ء میں شہر پناہ گیراں (کراچی) تشریف لے آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ایک سال بعد آپ کے بڑے بھائی حکیم محمود احمد برکاتی بھی ہجرت کر کے دہلی سے کراچی آ گئے۔ آپ دونوں بھائیوں نے ہجرت کے بعد بہت کٹھن حالات کا سامنا کیا۔ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے اردو، فارسی اور قرآن مجید کی تعلیم دینا شروع کی۔ مختلف جگہ پر ٹیوشنز پڑھائیں۔ رات گزارنے کے لیے مختلف دکانوں اور ہوٹلوں پر رہائش پذیر ہونا پڑا۔ حتی کہ گورا قبرستان کے قریب ایک جھونپڑی بنائی۔ جس میں دونوں بھائی رہا کرتے۔

1949ء سے 1952ء تک ’’معاشیات‘‘ میں مضامین لکھتے رہے۔ 1952ء میں حکیم سعید احمد شہید رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تو ’’ہمدرد‘‘ میں آگئے۔ 1953ء میں ’’نونہال‘‘ کا اجراء ہوا تو حکیم صاحب نے آپ کو اس کا مدیر اعلی بنا دیا۔ آپ نے حکیم صاحب سے کیے اس عہد کو خوب نبھایا اور تا دمِ آخر اس منصب کی لاج نبھائی۔ پاکستان میں بچوں کا کوئی بھی ادیب 64برس تک ایک ہی رسالے کا مدیر نہیں رہا۔ یہ سعادت آپ ہی کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے تین نسلوں کی تربیت کی۔ بچے آپ کی تحریریں پڑھتے ہوئے جوان اور جوان آپ کی تحریریں پڑھتے پڑھتے بوڑھے ہو گئے۔ اس دوران آپ نے مختلف رسائل و جرائد میں سینکڑوں علمی، اصلاحی، طبی، نفسیاتی، ادبی اور سوانحی مضامین لکھے۔ ان کے علاوہ کئی ایک کتب بھی لکھیں۔ آپ کو کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ جن میں عربی، فارسی، انگریزی اور روسی زبان قابل ذکر ہیں۔ لہٰذا ان زبانوں میں مفید ادب کا ترجمہ بھی اردو زبان میں کیا۔’’ مونٹی کرسٹو کا نواب‘‘، ’’تین بندوقچی‘‘، ’’پیاری سی پہاڑی لڑکی‘‘ اور ’’ہزاروں خواہشیں‘‘ آپ کی ترجمہ شدہ کتب ہیں۔ اردو زبان میں ’’مفید غذائیں‘‘، ’’صحت کی الف،ب‘‘، ’’صحت کے 99نکتے‘‘، ’’فرہنگ اصطلاحاتِ طب‘‘، ’’جوہرِ قابل‘‘، ’’دو مسافر، دو ملک‘‘، ’’ایک کھلا راز‘‘، ’’قیدی کا اغوا‘‘، ’’چور پکڑو‘‘ اور ’’وہ بھی کیا دن تھے؟‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔

’’ہمدرد نونہال‘‘ کے علاوہ ’’ماہنامہ سائنسی دنیا‘‘، ’’ماہ نامہ عرفان‘‘ اور ’’ہمدرد صحت‘‘ کی ادارت بھی آپ کے پاس تھی۔ یونیسکو ماہ نامہ ’’کورئیر‘‘ کے اردو ایڈیشن ’’پیامی‘‘ کے بھی معاون مدیر رہے۔نیز ہمدردوقف ٹرسٹی اور پبلی کیشنز ڈویژن کے سینئر ڈائریکٹر کا عہدہ بھی نبھایا۔ آپ کی ان خدمات کے صلے میں آل پاکستان نیوزپیپر سوسائٹی کی جرائد کمیٹی نے 1996ء میں آپ کو نشانِ سپاس اور ’’اے پی این ایس‘‘ نے 2012ء میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔ آپ صدارتی ایوارڈ یافتہ اور گولڈ میڈلسٹ بھی تھے۔ آپ کی ان سرگرمیوں اور خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ مسعود احمد برکاتی صاحب جیسا انسان صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے۔ اللہ ان کی قبر کو اپنے خاص نور سے منور فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ، آمین!