آپ آزاد ہیں! آپ آزاد ہیں؟ - قادر خان یوسف زئی

گزشتہ رات قائد اعظم محمد علی جناح ؒ میرے خواب و خیال میں آئے اور گِلہ کرنے لگے کہ پاکستان میں یہ سب کیا ہورہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ جناحؒ صاحب آپ تو عالم اروح میں ہیں، مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے۔ روحوں سے ملاقات تو ہوتی ہوگی۔ میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے کیا بریکنگ نیوز دوں؟ کہنے لگے کہ" کیوں تم پاکستانی نہیں ہو ؟"۔ میں نے ادب سے کہا کہ "پانچ ہزارسال سے پختون، چودہ سو برس سے مسلم اور70برس سے پاکستانی ہوں"۔ ان کا غصہ سے سرخ چہرہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ انہیں میری بات بُری لگی ہے کیونکہ جب قائد اعظم پاکستان بنا رہے تھے تو علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر میں" پانچ ہزار سال سے پختون، چودہ سو برس سے مسلم والا" مکالمہ نہیں تھا۔لیکن کیا کروں جب سے" بالغ" ہوا ہوں یہی سنتاچلا آرہا ہوں کہ پٹھان ہو یا مسلمان؟ یہ سن سن کر تنگ آچکا ہوں۔ خیر چھوڑیں اس بات کو جس کو اچھی لگے تو ٹھیک بُری لگے تو اُس کی مرضی میں کیا کرسکتا ہوں؟ مجھے بڑا اچھا موقع ملا تھا کہ قائداعظم سے انٹرویو کرلوں، لیکن کوئی اس بات پر یقین نہیں کرے گا اس لیے میں نے اُن کے ساتھ اپنی سیلفی نہیں بنوائی، ہاں! ان کی تصویروں والے کاغذ کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر بڑی حفاظت سے رکھتا ہوں۔

میں نے عرض کی کہ " آپ نے مجھ سے کیوں پوچھا کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے؟" کہنے لگے کہ’ سب" نیا پاکستان" بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ تم پر نظر پڑی کہ پرانے پاکستان کے خواب تم اب بھی دیکھتے ہو‘۔ میں نے احترام سے کہا کہ" جی، پُرانے اور نئے پاکستان کا تصور چند برسوں قبل ہی ایجاد ہوا۔ ورنہ جب سے ہوش سنبھالا ہے، ایک ہی پاکستان دیکھ رہے ہیں۔ نیا، پرانے کا چورن تو ابھی بکنا شروع ہوا ہے "۔ میں حسب عادت گستاخی کرتے ہوئے مزیدکہا کہ" جب آپ علامہ اقبالؒ کے خواب کی تعبیر کے لیے تگ و دو کررہے تھے تو پاکستان کا آئین ہی بنا جاتے تو آج کم ازکم، سیکولر، صدارتی، اسلامی، پارلیمانی اور قرآنی نظام کے فرمودات اپنے موقف کی تائید کے لیے ہر کسی کو پیش تو نہ کرنے پڑتے۔" کہنے لگے کہ" کیا کہنا چاہتے ہو؟" میں عرض کی کہ دیکھیں پاکستان بننے سے قبل آپ نے کئی مرتبہ فرمایا کہ ہند و اور مسلم الگ الگ دو قومیں ہیں، جیسا کہ آپ نے بمبئی میں 14 اگست 1924ء کواپنے ایک خصوصی انٹرویو میں فرمایا جو آپ نے Daily Herald of London کو دیا تھا: ’آپ نے فرمایا تھا کہ’نہیں!مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان خلیج اس قدر وسیع ہے کہ اسے کبھی بھی پاٹا جا سکتا ہو۔آپ ان لوگوں کو ایک ساتھ اکٹھا کر سکتے ہیں جو ایک چھت کے نیچے کھانا کھانے کے لیے تیار نہیں؟کیا آپ کر سکتے ہیں؟یا مجھے یہ بات اس طرح کہنے دیں کہ ہندو گائے کی عبادت کرنا چاہتے ہیں جبکہ مسلمان اس کو کھانا چاہتے ہیں۔پھر مصالحت کہاں ہو سکتی ہے؟"

جناح ؒ نے فرمایا۔ ’ تو اس میں غلط کیا ہے؟ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہی تو پاکستان تخلیق ہوا تھا ‘۔ میں نے عرض کی کہ آپ نے دو قومی نظریہ کی وضاحت کئی بار پیش کردی تھی لیکن نظام حکومت کے بارے میں متضاد آرا پیدا ہوگئی ہیں اس کا کیا کریں گے؟،آپ نے فرمایاتھا کہ "ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔" آپ نے 11 اگست کو اپنی تقریر میں اقلیتوں کے بارے میں فرمایا’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں"۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا بی بی سی کو دیا گیا مکمل انٹرویو (ترجمہ) - صوفی نعمان ریاض

میں نے پھر گستاخی کی کہ’ دیکھیں اس بات کو لیکر ہمیشہ دلیل دی جاتی ہے کہ آپ سیکولر ذہن کے مالک تھے، آپ کے دماغ میں ایک سیکولر اسٹیٹ کا تصور تھا۔ حالاں کہ ان گنت تقاریر میں آپ نے نظام حکومت کے حوالے سے کئی بار واضح فرماچکے ہیں‘۔ جیسے 19فروری1948ء میں بھی آپ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھاکہ"یہ ’’ایمان" ہے۔اللہ پر ایمان۔ ہم میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ہم محمد رسول اللہ ﷺکی تعلیمات کی اتباع کرتے ہیں۔ہم اسلامی اخوت کے رکن ہیں جس میں تمام لوگ حقوق،عظمت اور عزت نفس میں برابر ہیں۔نتیجتاً ہمارے اندر ایک خصوصی اور انتہائی عمیق اتحاد ہے۔لیکن اس میں غلطی نہیں کرنا،پاکستان ایک پاپائیت یا اس طرح کی کوئی چیز نہیں۔ اسلام ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم دوسروں کے عقائد کو برداشت کریں اور ہم اپنے ساتھ قریبی رفاقت رکھنے والوں کو خوش آمدیدکہتے ہیں جو چاہے کسی بھی عقیدے کے ہوں اور وہ خود راضی ہوں اور تیار ہوں پاکستان کے ایک سچے اور وفادار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے"۔

قائد اعظم ؒ نے فرمایا کہ’ تو پھر کیا مسئلہ رہ جاتا ہے۔ اُس وقت مسائل زیادہ تھے، زندگی نے مہلت نہ دی، قرآن کریم کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے آئین کی ضرورت رہ جاتی ہے؟‘ کئی مرتبہ بتایا۔ کیوں بھول جاتے ہو۔ ایک مثال دے دیتا ہوں 1934ء میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کا طرز حکومت متعین کرنے والا میں کون؟ یہ کام پاکستان کے رہنے والوں کا ہے اور میرے خیال میں مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو قبل قرآن حکیم نے فیصل کر دیا تھا"۔ گاندھی کو لکھے جانے والے خط میں کیا لکھا تھا، کیا اسے بھی بھول گئے، چلو یاد کرادیتا ہوں۔جناحؒ صاحب نے فرمایا"قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ ا س میں مذہبی اور مجلسی، دیوانی اور فوج داری، عسکری اور تعزیری، معاشی اور معاشرتی غرضیکہ سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ وہ مذہبی رسوم سے لے کر روزانہ امور حیات تک، روح کی نجات سے جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق وفرائض تک، اخلاق سے لے کر انسداد جرم تک، زندگی میں سزا وجزا سے لے کر عقبیٰ کی جزا وسزا تک ہر ایک فعل، قول، حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہیں"۔

قائد اعظمؒ سے مزید پوچھنے کے لیے کوئی سوال اب میرے پاس نہیں تھا اور میں یہاں کسی سے سوال اٹھانے کی جرات کروں تو عدم برداشت کے اس ماحول میں سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔ میں نے بہتر یہی سمجھا کہ قائداعظم ؒ کے خواب سے باہر نکل آؤں کیونکہ یہی میرے حق میں بہتر تھا۔ پاکستانی تاریخ کی حقیقت میں کئی بار مبینہ تبدیلیاں کرنے کے دعوی سامنے آچکے ہیں کہ سچائی جھوٹ کے آئینے میں چھپ گئی ہے۔ اب چاہے حقیقت کو تلاش کرنے کے لیے جتنی بھی باریکی میں جائیں گے گنجلگ بیانیہ ہی ملیں گے۔ پاکستان میں نظام حکومت کے لیے مختلف طرز حکمرانی کی تجاویز بھی آتی رہی ہیں اور خلافت راشدہ کے علاوہ کوئی دوسرا نظام بھی کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں:   خواب شخصیت کا پتہ دیتے ہیں - جہانزیب راضی

پاکستان نیا ہو یا پرانا ہو، جو سرز مین بھی خالق کائنات کے قوانین کے برخلاف چلتی ہے تو اس پر عذاب کا نزول بلا امتیاز ہوتا ہے۔ تاریخ کچھ ہو، کچھ بھی بنالی جائے لیکن ہزاروں برس قبل کے آثار قدیمہ اس بات کے گواہ ہیں کہ اقوام کی تہذیب آنے والی اقوام کے لیے عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم سب سے پہلے باہمی اختلافات میں دین، مذہب کو بنیاد بنا کر دنیا بھرمیں اسلام کے تشخص کو خراب کرنے سے جتنا اجتناب کرسکتے ہیں، اس قدر ہی بہتر ہے۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے کہ ذاتی مفاد کے لیے کسی بھی شخص کے خلاف بھیانک پروپیگنڈا کرنے میں عار محسوس نہیں کی جاتی کہ اس عمل سے اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ کو کیا جواب دیں گے؟ کسی بھی شخص سے ذاتی اختلافات کسی بھی نوعیت کے ہوسکتے ہیں لیکن جب صراط ِ مستقم سے بھٹک جائیں تو دنیا و عاقبت دونوں خراب ہوجاتی ہے۔ اسلام ہمیں ایک اچھا، سچا اور پکا مسلمان بنانے و بننے کا درس دیتا ہے ؛لیکن ہم اپنے فروعی مقاصد کے لیے اسلام کے نازک و حساس معاملات کو استعمال کرنے میں بالکل خوف خدا نہیں رکھتے۔ ہمارا اخلاق، ہمارا رویہ ہی ہماری تربیت کی غمازی کرتا ہے اور انسان اپنے ضمیر کے سامنے شرمندہ ہوجاتا ہے کہ اس کا کوئی جواب دے بھی نہیں سکتا۔

منفعت ایک ہے اِس قوم کی، نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک؟

فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں!

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان کی سر زمین دشمنوں کے دل پر مونگ دل رہی ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دنیا بھر میں اربوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں، بیرونی خطرات کے ساتھ اندرونی خلفشار کے اژدھا نے سر اٹھایا ہوا ہے، لیکن ہمیں اس بات پر ایک لمحے کے لیے ضرور سوچ لینا چاہے کہ ہم اُس نظام حیات کے پیروکاروں میں سے ہیں جن کا پہلا کلام ہی سلامتی و امن سے شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کے ایک حصے کو ہم کھو چکے ہیں۔ کرم خوردہ پاکستان کے مزید زخم لگانے کے لیے ملک دشمن عناصر ہمارے مختلف النوع کے اختلافات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ہمیں سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی کیونکہ یہی نسخہ کیمیا ہے۔