یہود و نصاریٰ کی منظم منصوبہ بندی - چوہدری ذوالقرنین ہندل

آیات اور احادیث سے ثابت یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے کہ یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں بن سکتے۔برسوں پہلے یاصدیوں پہلے عیسائی اور یہودی ایک دوسرے کے دشمن ہوا کرتے تھے۔ایک دوسرے کی جانوں کے پیاسے تھے۔مگر جب مذہب اسلام پھیلنے لگا تو یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ یہود ونصاریٰ اسلام کے خلاف یکجا ہیں۔دونوں مذہبوں اور ان کے مذہبی سکالروں نے جب اسلام کوپھیلتے دیکھا تو ان میں تشویش کی لہر اٹھی کہ کہیں پوری دنیا میں اسلام نہ پھیل جائے،جب اسلام کو پھیلنے سے نہ روک سکے تو انہوں نے اسلام کے خلاف منظم منصوبہ بندی شروع کردی۔

موجودہ حالات میں مسئلہ فلسطین زیر بحث ہے،یہ بھی یہود و نصاریٰ کی منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ٹرمپ ایک جنونی شخص ہے وہ کوئی بھی فیصلہ سوچے سمجھے بغیر کردیتا ہے۔امریکی لوگ اسے پاگل قرار دیتے ہیں۔اکثریت امریکی ویورپی عوام اس کے مخالف ہے اور اسے تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔اس کے رویوں اور فیصلوں سے خود امریکی ادارے بھی اکتائے ہوئے ہیں۔عدلیہ بھی اس سے خفا ہے۔امریکہ و یورپ کے لوگ پرامن ہیں اور ٹرمپ کے انتہا پسندانہ رویے کو سخت ناپسند کرتے ہیں،مگر ٹرمپ کے فیصلوں کو چاہ کر بھی روک نہیں سکتے۔ یہ سب بظاہر ہے، ایسا رویہ جان بوجھ کر اختیار کیا جا رہاہے۔امریکی عوام و ادارے منہ کی بجائے ناک یا کان سے کھانا نہیں کھاتے کہ وہ غلطی سے انتہا پسند شخص کو ملک کا صدر بنوا بیٹھے اور بعد میں ان کو معلوم ہوا کہ کھانہ تو منہ سے کھایا جاتا ہے۔مسٹر ٹرمپ جو بھی کر رہے ہیں یہ سب اپنے ان وعدوں کی تکمیل ہے جو ٹرمپ نے انتخابی کمپین میں کیے تھے،جس سے متاثر ہو کر لوگوں نے اپنے انتہا پسند اور اسلام دشمن ہونے کا ثبوت دیا تھا۔

امریکی پالیسیوں کا جائزہ لیں تو آپ کو بخوبی علم ہوگا امریکی سیاست میں جو بھی ہوتا ہے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں لانا اور اس کا متعصب پسند رویہ دکھانا، یہ سب امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔اگر خطے کی صورتحال نہ بدلتی تو امریکہ کی منصوبہ بندی بالکل مختلف ہوتی اور ٹرمپ کی بجائے ہیلری صدر ہوتی۔مگر جب امریکہ کو علم ہوا کہ امریکہ کے مقابلے کچھ دوسری طاقتیں بھی دنیا میں اثر ورسوخ بڑھا رہی تو انہیں اپنے رویے اور منصوبے میں تبدیلی لانا پڑی۔ایک انتہا پسند جوکر نما شخص کو سامنے لا کر دنیا کو یہ باور کرانا چاہا کہ امریکہ سمیت یورپ ہر گز انتہا پسندی کے مخالف ہیں مگر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتہا پسند اور من مانی کرنے والا شخص ہے جو اپنی مرضی سے مختلف پالیسیوں پر عمل کروا رہا ہے،جو کہ امریکہ کے لیے رسوائی کا باعث بن رہا ہے۔سی آئی اے اور دوسرے امریکی و اسرائیلی اداروں کی منصوبہ بندی کے تحت ہی گزشتہ روز یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا گیا اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔بعد میں مختلف یورپی ممالک سے اس کی مذمت بھی کروائی گئی۔ایسا نہیں کہ یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جھٹ پٹ سے دے دیا ہو۔یہ اسرائیل کو 100ویں سالگرہ کا تحفہ ضرور ہو سکتا ہے مگر ایسا تحفہ دینے کی منصوبہ بندی 22 برس پہلے سے جاری تھی۔گزشتہ برسوں میں شاید ایسی صورتحال یا ایسے مواقع میسر نہیں تھے۔مگر اب کے بار امریکہ کے پاس واضح مواقع موجود تھے۔ موقع محل گردانتے ہوئے انہوں نے اپنا فیصلہ صادر فرمادیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حماس کی اسرائیل کے خلاف تازہ فتح کیسے ممکن ہوئی؟ عبدالمنعم

مسلمانوں کی موجودہ صورتحال دیکھی جائے تو مسلمان دفاعی و جنگی صورتحال میں مبتلا ہیں،بٹے ہوئے ہیں۔امریکہ کی اپنے نیٹو اتحادی ترکی سے تعلقات میں بھی گرمجوشی نہیں رہی،پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ اور 'ڈو مور' کے مطالبے نے تعلقات کی نوعیت ہی بدل دی۔واحد ایٹمی قوت پاکستان بھی دفاعی حالت میں ہے،اندرونی معاملات میں الجھا ہوا مشرقی و مغربی سرحدوں پر ستایا ہوا 'سی پیک' کی نگرانی سمیت ہر وقت الرٹ رہنے پر مجبور ہے۔ اوپر سے معیشت کا بیڑا بھی غرق ہے، آئی ایم ایف کے بغیر ہمارا بجٹ نہیں بنتا۔ایسے میں پاکستان سوائے بیانات کے کچھ نہیں کر سکتا۔ایران پرامریکی پابندیاں عائد ہیں اس کے علاوہ سعودی عرب کی قیادت میں جو 'امریکی اسپانسرڈ' اسلامی فوجی اتحاد بنا ہے اس کا مقصد صرف ایران اور دوسرے مسلم ممالک کو کاؤنٹر کرنا ہے۔سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات اور دوسری عرب ممالک سے بھی امید نہیں رکھی جا سکتی۔

ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن کے مطابق موجودہ معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بہت سے اسلامی ممالک کو پہلے اعتماد میں لیا گیا تھا۔سعودی عرب کے پس پردہ اسرائیل سے تعلقات بھی کسی ڈھکے چھپے نہیں۔ترکی سب سے زیادہ ری ایکٹ کر رہا ہے مگر یہ بھی جان لیجیے کے عرصہ پہلے ترکی نے اسرائیل کوآزاد ریاست تسلیم کر لیا تھا۔باقی لیبیا، عراق اور شام جیسے ممالک تو حالت جنگ میں ہیں بنگلہ دیش اورملائیشیا وغیرہ انٹرنیشنل معاملات پر کم ہی عمل دخل کرتے ہیں۔

امریکہ نے مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لیا انہیں تقسیم کیا اور اب اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ایسی کٹھن مسلمانوں کی صورتحال میں ایسا امریکی فیصلہ آناہی تھا کیونکہ امریکی و اسرائیلی ذمہ داران بخوبی علم رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی طرف سے بیانات آجائیں گے، میٹنگز ہو جائیں گی، احتجاج کیا جائے گا مگر کوئی بھی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت کیوں نہیں ہوسکتا؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان حکمران خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں اور قرآن کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 120کا جائزہ لیں جس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ’’اور تم سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے یہود و نصاریٰ یہاں تک کہ آپ پیروی نہ کریں ان کی ملّت کی‘‘۔اب مسلمانوں کی عیاشی و لچک دکھانے کا وقت ختم ہو گیا۔اب وقت کچھ کر دکھانے کا ہے،یکجا ہونے کا ہے۔وقت ہے کہ یہود و نصاریٰ کے منظم منصوبوں کو سمجھا جائے اور اسلام کا جھنڈا مضبوطی سے تھاما جائے۔ورنہ یوں ہی مسلمان فلسطین، برما اور کشمیر کی طرح ظلم و بربریت کا نشانہ بنیں گے اور اپنی خودمختاری کو تسلیم کرانے کے لیے برسوں قربان ہوتے رہیں گے۔